صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اے عمر! جب شیطان کسی راستہ سے چلتا ہوا تم سے ملتا ہے تو وہ راستہ…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
10566Sahih صحیح
عن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه ، قال: استأذن عمرُ على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده نساءٌ من قريش يُكَلِّمْنَه ويَسْتَكْثِرْنَه، عاليةً أصواتهن، فلما استأذن عمر قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الحجابَ، فأذِنَ له رسولُ الله صلى الله عليه وسلم ورسول الله صلى الله عليه وسلم يضْحَك، فقال عمر: أضْحَكَ اللهُ سِنَّك يا رسولَ الله، قال: «عَجِبتُ من هؤلاء اللَّاتي كُنَّ عندي، فلمَّا سَمِعْنَ صوتَك ابْتَدَرْنَ الحجابَ» قال عمر: فأنت يا رسولَ الله كنتَ أحقَّ أنْ يَهَبْنَ، ثم قال: أيْ عَدُوَّاتِ أنفسِهن، أَتَهَبْنَني ولا تَهَبْنَ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم ؟ قلن: نعم، أنت أَفَظُّ وأغلظُ مِنْ رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «والذي نفسي بيدِه، ما لَقِيَكَ الشيطانُ قَطُّ سالكًا فَجًّا إلَّا سَلَكَ فَجًّا غيرَ فَجِّكَ».
سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے اجازت مانگی اس وقت آپﷺ کے پاس قریش کی کچھ عورتیں (آپﷺ کی بیویاں) اکٹھی تھیں، آپ ﷺسے زیادہ خرچ مانگ رہی تھیں، ان کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں جس وقت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی (ان کی آواز کان میں پہنچی) تو سب کی سب کھڑی ہو کر پردے میں بھاگیں، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کو اجازت دے دی اور آپ ﷺ ہنس رہے تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! آپ کو اللہ تعالی ہمیشہ ہنستا رکھے، آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے ان عورتوں پر تعجب ہوا جو ابھی میرے پاس بیٹھی تھیں (مجھ سے جھگڑے کر رہی تھیں)، تمہاری آواز سنتے ہی پردہ میں ہو گئیں، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ہونا تو یہ چاہیے کہ ان سب کو آپ کا ڈر زیادہ ہو، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ان عورتوں سے کہا اے اپنی جانوں کی دشمنو! تم مجھ سے ڈرتی ہو اور نبی ﷺ سے نہیں ڈرتی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ تُند مزاج اور سخت آدمی ہو اور نبی ﷺ نرم ہیں، اس وقت رسول ﷺ نے فرمایا: قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اے عمر! جب شیطان کسی راستہ سے چلتا ہوا تم سے ملتا ہے تو وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Sa‘d ibn Abi Waqqās (may Allah be pleased with him) reported: ‘Umar once asked permission to see the Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) while he was hosting some women from Quraysh who were talking loudly to him and asking more from him. When ‘Umar asked permission to enter, the women hurried to screen themselves. Allah's Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) allowed ‘Umar in while he was smiling. Therefore, ‘Umar commented: "O Allah's Messenger, may Allah always make you happy!" The Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "I am astonished at these women who were with me. As soon as they heard your voice, they hastened to screen themselves." ‘Umar said: "O Messenger of Allah, you are worthier of their awe!" Then he addressed them (those women) saying: "O enemies of yourselves, do you fear me and not the Messenger of Allah?" They replied: "Yes, for you are tougher and harsher than the Messenger." On that, the Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "By the One in Whose hand my soul is, whenever the devil sees you walking on a path, he follows a path other than yours."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10566

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کےگھر میں آنے کی اجازت مانگی، اور آپﷺ کے پاس قریش کی کچھ عورتیں (آپﷺ کی بیویاں ) اکٹھی تھیں بات چیت ہو رہی تھی، آپ ﷺسے زیادہ خرچ مانگ رہی تھیں اور ان کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ جس وقت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی ان کی آواز کان میں پہنچی تو سب کی سب کھڑی ہو کر پردے میں بھاگیں، چنانچہ رسول اللہﷺنے عمر رضی اللہ عنہ کو گھر میں آنے کی اجازت دے دی۔ جب عمر رضی اللہ عنہ گھر میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ ہنس رہے تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! اللہ تعالی آپ کو ہمیشہ ہنستا رکھے، یعنی آپ کو اللہ تعالی خوش و خرم رکھے، چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا: مجھے ان عورتوں پر ہنسی آئی جو ابھی عمر کے آنے سے پہلے میرے پاس بیٹھی تھیں، مجھ سے بلند آواز میں باتیں کر رہی تھیں، جیسے ہی عمر رضی اللہ عنہ آئے ڈر اور احترام کی وجہ سے ان سے پردے میں ہو گئیں، توعمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! ہونا تو یہ چاہیے کہ ان سب کو آپ کا ڈر اور احترام زیادہ ہو، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ان عورتوں سے کہا: اپنی جانوں کی دشمنو! تم مجھ سے ڈرتی ہو اور نبی ﷺ سے نہیں ڈرتی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں تم تُند مزاج اور سخت آدمی ہو بر خلاف رسول اللہ ﷺ کے کیونکہ وہ نرم ہیں، اس وقت رسول ﷺ نے قسم کھاکر فرمایا بے شک شیطان جب کسی راستہ سے چلتا ہوا تم سے ملتا ہے تو وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔

Explanation

‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him) asked permission to see the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) when some women from Quraysh were talking in a loud voice with the Prophet and asking for more responses or more financial support from him. When ‘Umar asked permission to come in, they heard his voice, so they hurried to screen themselves. The Prophet allowed him in, laughing at the women's reaction. Therefore, ‘Umar prayed that Allah would perpetuate the Prophet's happiness, inquiring about the reason for his laughing. The Prophet told him that he laughed at the women's reaction to hearing ‘Umar's voice. Before he came in, they were speaking loudly, but when he entered, they hastened to hide, in awe of him. So ‘Umar said that the Prophet was worthier of such respect and awe and addressed these women with that they were enemies of themselves, wondering how they could act thus in awe of him but not of the Prophet. They answered that they did so because ‘Umar was tough and harsh, unlike the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). Thereupon, the Prophet swore that whenever the devil saw ‘Umar walking on a specific path, he would escape that path and take a different one.

Topics موضوعات