غزوۂ خندق کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے، قبیلۂ قریش کے ایک شخص حبان بن عرقہ نامی نے ان پر تیر…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10893Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 10893)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
حدیث شریف میں صحابیٔ جلیل سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان ہے، اس طور پر کہ دورانِ جہاد وہ زخمی ہو گئے تو ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا گیا تاکہ نبی ﷺ ان کی عیادت کر سکیں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے بارے میں جو فیصلہ دیا وہ فیصلہ ساتوں آسمانوں کے اوپر سے ان کے بارے میں اللہ کے فیصلے کے عین موافق تھا، اور وہ یہ کہ جتنے لوگ ان کے جنگ کرنے کے قابل ہیں وہ قتل کر دیے جائیں، ان کی عورتیں اور بچے قید کر لیے جائیں اور ان کا مال ضبط کر لیا جائے، اور یہ سب کچھ مسلمانوں کے ساتھ ان کی خیانت اور عہد شکنی اورخندق کے جنگی حالات اور قریش کے مدینہ کے اطراف جم گھٹے سے غلط فائدہ اٹھانے کے سبب تھا۔ سعد رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری فضیلت ان کی دعا سے آشکار ہوتی ہے کہ اللہ تعالی انہیں باحیات رکھے اگر قریش اور مسلمانوں کے مابین لڑائی ابھی باقی ہو اور اگر قریش کے ساتھ مسلمانوں کی لڑائی اپنی انتہاء کو پہنچ گئی ہے تو میرے ان زخموں کو پھر سے ہرا کر دے جو خندق کے دن مجھے لاحق ہوئے اور اسی میں میری موت واقع کر دے۔ (اور ایسا ہی ہوا)
Explanation
The noble Hadīth shows merits of Sa‘d ibn Mu‘ādh, a grand companion of the Prophet. A tent was set up for him in the mosque in order for the Prophet to visit him after he had sustained injuries in Jihad. Also, he passed a judgment on Banu Qurayzhah that came in accordance with the divine Judgment: to kill their men, take their women and offspring as captives, and to take their wealth. Indeed, Jews had betrayed Muslims, breached their covenant, and taken advantage of the circumstances of the battle of the Trench, when Quraysh mustered on the outskirts of Madīnah. Further to his merits, Sa‘d's prayer was accepted, resulting in his martyrdom. He prayed that Allah keep him alive, if Muslims still had to fight Quraysh or that Allah let him die from wounds, if the war was over.