ابراہیم میرا بیٹا ہے، وہ شیرخوارگی کی حالت میں فوت ہوا، اس کے لیے دو دایہ متعین کی گئی ہیں جو جنت میں اس کی…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
قال عمرو: فلما تُوفي إبراهيم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن إبراهيم ابني، وإنه مات في الثَّدي، وإن له لظِئْرين تُكمِلان رضاعه في الجنة».
عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابراہیم میرا بیٹا ہے اور وہ شیرخوارگی کی حالت میں فوت ہوا ہے، اس کے لیے دو دایہ مقرر ہیں جو جنت میں اس کی مدتِ رضاعت کو پورا کر رہی ہیں۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #11188Sahih Muslim (HadeethEnc 11188)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو اپنے اہل و عیال اور چھوٹے بچوں پر رسول اللہ ﷺ سے زیادہ شفیق اور مہربان ہو۔ نبی ﷺ کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو مدینہ کے قریب آباد ایک بستی کی دایہ دودھ پلایا کرتی تھی۔ نبی ﷺ ابراہیم کی زیارت کے لیے وہاں جایا کرتے اور آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے کچھ صحابہ بھی ہوتے۔ آپ ﷺ گھر میں داخل ہوتے تو گھر دھویں سے بھرا ہوتا تھا کیونکہ دایہ کا شوہر لوہار تھا۔ نبی ﷺ ابراہیم رضی اللہ عنہ کو اٹھاتے، انہیں پیار کرتے اور واپس لوٹ آتے۔جب ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابراہیم میرا بیٹا ہے، وہ شِیرْخوارگی کی حالت میں فوت ہو گیا ہے، جنت میں دو دایہ اس کی مدت رضاعت پورا کرنے کے لیے اسے دودھ پلا رہی ہیں تاکہ دو سال مکمل ہو جائیں۔ کیونکہ ابراہیم رضی اللہ عنہ جب فوت ہوئے تو ان کی عمر سولہ یا سترہ ماہ تھی۔ دو سال میں سے جو مدت باقی رہ گئی اسے پورا کرنے کے لیے وہ دونوں دایہ انہیں دودھ پلا رہی تھیں کیونکہ قرآن کی رو سے مدت رضاعت دو سال ہے۔ یہ ابراہیم رضی اللہ عنہ اور ان کے والد ﷺ کے لیے اللہ کی طرف سے بطورِ اکرام تھا۔
Explanation
Anas ibn Mālik (may Allah be pleased with him) reported that he had never seen anyone more merciful to children than the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). His son, Ibrahīm, was suckled by a wet nurse living in the suburb of Madīnah. Hence, he used to go there with some of his Companions to visit his son. He used to enter the house that would be filled with smoke because the wet nurse's husband was a blacksmith. He would take Ibrahīm, kiss him and then return home. On Ibrahīm's death, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Ibrahīm is my son, and he died as a suckling infant, and he has two wet nurses in Paradise to complete his suckling period until he reaches the age of two. Ibrahīm died when he was sixteen or seventeen months old. So, he was to be suckled until completing the suckling period, which is two years according to what is stated in the Qur'an. This was done to honor the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and his son.