”اے لڑکے! میں تجھے چند (اہم) باتیں بتلاتا ہوں (انھیں یاد رکھ): تو اللہ (کے احکام) کی حفاظت کر! وہ تیری حفاظت…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وَفِي رِوَايَةِ غَيْرِ التِّرْمِذِيِّ: «احْفَظِ اللهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ، تَعَرَّفْ إلَى اللهِ فِي الرَّخَاءِ يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ، وَاعْلَمْ أَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَمَا أَصَابَك لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَاعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنْ الفَرَجَ مَعَ الكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ العُسْرِ يُسْرًا».
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- جامع ترمذیJami' at-TirmidhiOriginal wording: اسے ترمذی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #66522Jami' at-Tirmidhi (HadeethEnc 66522)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ابن عباس رضی اللہ عنہ بتا رہے ہيں کہ ایک دن وہ اللہ کے نبی ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے کہا: میں تمھیں کچھ باتیں سکھاؤں گا، جن سے اللہ تمھیں فائدہ پہنچائے گا: اللہ کے احکام کی حفاظت کر کے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہ کر اس طرح اللہ کی حفاظت کرو کہ وہ تم کو نیکی اور اللہ سے قریب کرنے والے کاموں میں مشغول اور نافرمانیوں اور گناہوں سے دور پائے۔ اگر تم ایسا کروگے، تو بدلے میں اللہ دنیا وآخرت کی ناخوش گوار چیزوں سے تمھاری حفاظت کرے گا اور تم جہاں بھی جاؤگے، ہر کام میں تمھاری مدد کرے گا۔ جب تم کچھ مانگنا چاہو، تو صرف اللہ سے مانگو۔ کیوں کہ وہی مانگنے والوں کی مرادیں پوری کرتا ہے۔ جب مدد طلب کرنی ہو، تو بس اللہ سے طلب کرو۔ تمھارے دل میں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ اگر روئے زمین پر موجود سارے لوگ تمھارا بھلا کرنا چاہيں، تو اتنا ہی کر سکتے ہيں، جتنا اللہ نے تمھاری قسمت میں لکھ رکھا ہے اور اگر روئے زمین پر بسنے والے سارے لوگ تمھارا برا کرنا چاہيں، تو اس سے زیادہ نہیں کر سکتے، جتنا اللہ نے تمھاری قسمت میں لکھ رکھا ہے۔ ان ساری باتوں کو اللہ تبارک و تعالی نے اپنی حکمت اور علم کے تقاضے کے مطابق لکھ رکھا ہے اور اللہ کے لکھے ہوئے میں کوئی تبدیلی ممکن نہيں ہے۔ جو اللہ کے اوامر کی بجا آوری اور اس کے نواہی سے اجتناب کے ذریعے اللہ کی حفاظت کرتا ہے، اللہ سبحانہ و تعالی ایسے بندے کے سامنے ہوتا ہے۔ اس کے حالات سے واقف ہوتا ہے اور اس کی مدد اور تائید کرتا ہے۔ اگر انسان خوش حالی کے وقت اللہ کی فرماں برداری کرتا ہے، تو اللہ مشکلات کے وقت اس کے لیے کشادگی اور نکلنے کا راستہ مہیا کر دیتا ہے۔ لہذا ہر انسان کو راضی بہ رضا رہنا چاہیے اور مشکلات کا سامنا ہو تو صبر سے کام لینا چاہیے۔ کیوں کہ صبر کشادگی کی کنجی ہے۔ مشکلات جب سوا ہو جائيں تو اللہ کی جانب سے آسانیاں آتی ہیں۔
حدیث کے فوائد
- چھوٹے بچوں کو توحید و آداب اور اس طرح کے دین کی دیگر باتیں سکھانے کی اہمیت۔
- انسان کو بدلہ اسی نوعیت کا دیا جاتا ہے، جس نوعیت کا اس کا عمل ہوتا ہے۔
- اللہ پر بھروسہ رکھنے اور اس پر توکل کرنے کا حکم، کیوں کہ وہ سب سے بہترین کار ساز ہے۔
- قضا و قدر پر ایمان اور اس سے رضامندی اور یہ کہ اللہ نے ساری چیزیں پہلے ہی مقدر کر رکھی ہے۔
- جو اللہ کے حکم کو ضائع کرے گا، اللہ اسے ضائع کرے گا اور اس کی حفاظت نہیں کرے گا۔
- یہ عظیم بشارت کہ انسان کو جب مشکل حالات کا سامنا ہو، تو آسانی کا انتظار کرے۔
- محبوب چیز کے فوت ہونے اور مصیبت لاحق ہونے کے وقت بندے کو تسلی دینی چاہیے۔ جیسا کہ آپ کے اس فرمان میں ہے: ’’جان لو کہ جو چیز تمہیں مل گئی وہ تم سے خطا کرنے والی نہیں تھی اور جو چیز تمھیں نہیں ملی وہ تمھیں ملے بغیر رہنے والی نہیں تھی۔‘‘ پہلے جملہ میں تکلیف پہنچنے پر اور دوسرے جملے میں محبوب چیز کے فوت ہونے پر تسلی دی گئی ہے۔
Explanation
Ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) informs that one day, as a boy, he was riding behind the Prophet (ﷺ), and he said to him: I will teach you things by which Allah will benefit you: Be mindful of Allah by observing His commands and prohibitions, finding you engaged in acts of worship and piety, and not finding you committing sins and misdeeds. If you do so, your recompense will be that Allah will protect you from unpleasant things in this world and the Hereafter and support you in your matters wherever you go. If you want to ask for something, do not ask anyone but Allah, for He alone responds to those who ask. And if you need help, do not seek help except from Allah. You should be certain that no benefit will come to you, even if all the earth's inhabitants were to gather together to bring it to you, except if Allah had predestined it for you; and no harm will happen to you, even if all the inhabitants of the earth were to gather together to cause it to you, except if Allah had predestined it for you. Allah Almighty had written and predestined this matter according to His wisdom and knowledge, and whatever Allah had written cannot be changed. Whoever is mindful of Allah by preserving His commands and avoiding His prohibitions, Allah Almighty will be before him, knowing his state, supporting and aiding him. If a person obeys Allah in times of ease, Allah will grant him relief and a way out in times of hardship. Every servant should be content with what Allah has decreed for him, whether good or bad. In the face of trials and hardships, the servant must adhere to patience, for patience is the key to relief. When distress intensifies, relief comes from Allah, and whenever hardship occurs, Allah follows it with ease.