صحیح مسلم
Sahih Muslim

جو شخص کسی امام کی بيعت کرے اور اسے اپنا ہاتھ اور اپنے دل کا پھل دے دے (یعنی دل میں اس کی بیعت کے پورا کرنے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5345Sahih صحیح
عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: كنا مع رسول الله - صلى الله عليه وسلم- في سفر، فَنَزَلنَا مَنْزِلًا، فَمِنَّا مَنْ يُصلِح خِبَاءَه، ومِنَّا من يَنتَضِل، ومِنَّا مَن هو في جَشَرِهِ، إِذْ نادى مُنادي رسول الله صلى الله عليه وسلم : الصَّلاةُ جَامِعَةٌ. فاجْتَمَعنَا إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال: «إِنَّه لَمْ يَكُن نبي قبْلِي إِلاَّ كَان حَقًّا عليه أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَه عَلَى خَيرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُم، ويُنذِرَهُم شّرَّ ما يعلمه لهم، وإِنَّ أُمَّتُكُم هذه جَعَل عَافِيَتَهَا في أوَّلِها، وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلاَءٌ وأُمُورٌ تُنكِرُونَهَا، وتَجِيءُ فِتنَةٌ يُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعضًا، وتَجِيءُ الفتنة فيقول المؤمن: هذه مُهلِكَتِي، ثُمَّ تَنْكَشِف، وتجيء الفتنة فيقول المؤمن: هَذِه هذِه. فمَنْ أَحَبَّ أنْ يُزَحْزَحَ عن النار، ويدخل الجنة، فَلْتَأْتِه مَنِيَتُهُ وهو يؤمن بالله واليوم الآخر، وَلْيَأتِ إِلى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إليه، ومَنْ بَايَع إِمَامًا فَأَعْطَاه صَفْقَةَ يَدِهِ، وَثَمْرَةَ قلْبِهِ، فَلْيُطِعُه إِن اسْتَطَاع، فَإِن جَاء آخَرُ يُنَازِعُه فَاضْرِبُوا عُنُقَ الآخَرِ».
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم ايک سفر ميں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ ہم نے ایک منزل پر قيام کيا، ہم ميں سے بعض اپنے خيمے درست کر رہے تھے، بعض تيراندازی ميں مقابلہ کررہے تھے اور بعض اپنے مويشيوں ميں لگے ہوئے تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ کے منادی نے آواز لگائی: ’’نماز کے لیے جمع ہو جائیں۔‘‘ ہم سب رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوگئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھ سے پہلے جو بھی نبی ہوا اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنی امت کی رہنمائی ايسے کاموں کی طرف کرے جن کو وہ ان کے لیے بہتر جانتا ہے۔ اور ان کو ان کاموں سے ڈرائے جن کو وہ ان کے لیے برا جانتا ہے۔ اور تمہاری اس امت کی عافیت اس کے پہلے حصے میں رکھ دی گئی ہے اور اس کے آخری حصے ميں آزمائش اور ايسے معاملات پيش آئیں گے جن کو تم برا سمجھو گے اور ایسے فتنے ظہور پذير ہوں گے جو ایک دوسرے کو معمولی بنا دیں گے۔ ايک فتنہ سامنے آئے گا تو مومن کہے گا: یہی ميری ہلاکت کا باعث ہو گا۔ پھر وہ دور ہو جائے گا۔ پھر (کوئی اور) فتنہ ظہور پذير ہو گا تو مومن کہے گا: یہی سب سے بڑا فتنہ ہے۔ پس جس شخص کو يہ پسند ہو کہ وہ جہنم کی آگ سے دور کرديا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے، تواس کو موت اس حالت ميں آنی چاہیے کہ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرے جو اپنے ساتھ کئے جانے کو پسند کرے، اور جو شخص کسی امام کی بيعت کرے اور اسے اپنا ہاتھ اور اپنے دل کا پھل دے دے (یعنی دل میں اس کی بیعت کے پورا کرنے کا عزم رکھے) تو اسے چاہیے کہ مقدور بھر اس کی اطاعت کرے۔ پھر اگر کوئی دوسرا شخص آکر اس سےحکومت چھیننے کے لیے جھگڑا کرے تو دوسرے کی گردن ماردو۔”
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abdullāh ibn ‘Amr (may Allah be pleased with him) reported: We were on a journey with the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) and we halted at some place to rest. Some of us began to mend their tents; others began to compete with one another in shooting; and others began to graze their beasts. An announcer of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) announced that we should gather for prayer. So we gathered around the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). He said: "It was the duty of every prophet before me to guide his people to what he knew was good for them and warn them against what he knew was bad for them. The safety of this Ummah of yours lies in its early generations, whereas its late generations will be afflicted with trials and with things that you would reject. There will be tremendous trials, one after the other, each making the previous one dwindle into significance. When they are afflicted with a trial, the believer will say: 'This is going to bring about my destruction.' When it is over, they will be afflicted with another trial and the believer will say: 'This surely is going to be my end.' Anyone wishes to be saved from the Hellfire and be admitted to Paradise should die while having belief in Allah and the Last Day, and should treat people as he wishes to be treated by them. Anyone pledges allegiance to a ruler, giving him the grasp of his hand and sincerity of his heart, he should obey him to the best of his capacity. If another man comes forward disputing his authority, then you should behead the latter."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5345

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ اللہ کی طرف دعوت دینے والوں پر بھی وہی لازم ہے جو انبیاء پر لازم تھا یعنی اچھائی کو بیان کرنا، اس کی ترغیب دینا، اس کی طرف لوگوں کى راہنمائی كرنا، اور برائی کی وضاحت کرنا اور اس سے ڈرانا۔ اس حدیث میں اس بات کا بھی بیان ہے کہ اس امت کا ابتدائی حصہ تو خیر میں رہا اور آزمائش سے محفوظ رہا ليکن اس امت کے آخری حصے کو اس طرح شر اور آزمائش پیش آئے گی کہ آنے والے فتنے پہلے کے فتنوں کو معولی اور ہلکا بناديں گے اور ان سے نجات توحید کے اقرار، سنت کی پیروی، لوگوں سے حسن سلوک اور حاکم کی بیعت کی پابندی, اس کے خلاف عدم بغاوت اور ہر اس شخص سے قتال کے ذريعہ ہی ممکن ہوگی جو مسلمانوں کی جماعت کا شیراہ بکھیرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔

Explanation

This Hadīth states that it is the duty of scholars, just as it was the duty of the prophets, to clarify all forms of good, encourage people to perform it, and guide them to its path. It is also their duty to clarify all forms of evil and warn people against it. The Hadīth shows that the early generations of this Ummah were granted safety from trials, whereas its late generations will be afflicted with evil and trials that will make the coming trials trivialize the previous trials. Safety (from these trials) lies in monotheism, adherence to the Sunnah, kind treatment of people, abidance by the pledge given to the ruler and refraining from rebelling against him, and killing whoever wishes to create dissension among the Muslims.

Topics موضوعات