یہود ونصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنالیا
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3330Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3330)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم بتا رہے ہیں کہ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے انتقال کا وقت آیا، تو آپ اپنے چہرے پر کپڑے کا ایک ٹکڑا رکھنے لگے۔ پھر جب موت کی تکلیفوں کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی، تو اسے اپنے چہرے سے ہٹا دیا۔ پھر اسی مشکل حالت میں آپ نے فرمایا : اللہ کی لعنت ہو یہودیوں اور عیسائیوں پر۔ یعنی اللہ ان کو اپنی رحمت سے دور رکھے۔ ایسا اس لیے کہ انھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کے اوپر مسجدیں بنا ڈالیں۔ یہاں یہ یاد رہے کہ اگر قبروں کے اوپر مسجد تعمیر کرنے کا مسئلہ ایک سنگین مسئلہ نہ ہوتا، تو آپ اس مشکل گھڑی میں اس کا ذکر نہ کرتے۔ اس مسئلے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہی آپ نے اپنی امت کو یہودیوں اور عیسائیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس طرح کا کام کرنے سے منع کیا ہے۔ اس کام سے منع کرنے کی ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے شرک کے دروازے کھلتے ہیں۔
حدیث کے فوائد
- نبیوں اور اللہ کے نیک بندوں کی قبروں کو مسجد بنا کر ان کے اندر اللہ کے لیے نماز پڑھنا منع ہے، کیوں کہ یہ شرک کےدروازے اور وسائل ہيں۔
- توحید پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی پوری توجہ اور قبروں کی تعظیم سے آپ کا ڈر، کیوں کہ یہ شرک کا دروازہ اور ذریعہ ہے۔
- یہودیوں، عیسائیوں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قبروں پر عمارت کھڑی کرنے والوں اور ان کو مسجد بنانے والوں پر لعنت کرنا جائز ہے۔
- قبروں پر عمارت بنانا یہودیوں اور عیسائیوں کا طور طریقہ ہے اور حدیث میں اس سے منع کیا گيا ہے۔
- قبروں کو مسجد بنانے کی ایک شکل ان کے پاس اور ان کی جانب منہ کرکے نماز پڑھنا بھی ہے، چاہے تعمیر کھڑی نہ بھی کی جائے۔
Explanation
'Ā’ishah and 'Abdullāh ibn' Abbās (may Allah be pleased with both of them) inform us that when the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was close to breathing his last, he kept drawing a piece of cloth upon his face. When he found it hard to breathe due to the throes of death, he would remove it from his face. While being in that tough condition, he said: May Allah curse the Jews and the Christians and expel them out of His mercy. Were it not for the seriousness of this matter, he would not mention it in a situation like that. Hence, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade his Ummah from emulating this act, because it was done by the Jews and the Christians and because it is a means conducive to association of partners with Allah Almighty.