صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

جو شخص دوسرے لوگوں کی بات سننے کے لیے کان لگائے، جو اسے پسند نہیں کرتے، تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5374Sahih صحیح
عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من تَسَمَّع حديث قوم وهم له كارهون؛ صُبَّ في أذنيه الآنُكُ يوم القيامة».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص دوسرے لوگوں کی بات سننے کے لیے کان لگائے، جو اسے پسند نہیں کرتے، تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Whoever listens to the talk of some people while they dislike that, molten lead shall be poured into his ears on the Day of Judgment."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: امام بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5374

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث میں ان لوگوں کے خلاف سخت وعید وارد ہوئی ہے، جو ایسے لوگوں کی گفتگو کان لگا کر سنتے ہیں، جو اس بات کو بالکل پسند نہیں کرتے کہ کوئی ان کی گفتگو سنیں۔ دراصل یہ عمل ان بدترین اخلاق میں سے ہے جن کا شمار، کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے۔ چوں کہ اصول یہ ہے کہ عمل کا بدلہ اسی کی جنس سے دی جائے؛ اس لیے اس نے جن کانوں کے ذریعے بہ تکلف لوگوں کی گفتگو سنی، انھیں کانوں میں اس کو عذاب دیا جائے گا اور ان میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔ نیز اس سے کو‏ئی فرق نہیں پڑتا کہ گفتگو کرنے والے کسی صحیح غرض کی بنا پر بات سننے دینے کو ناپسند کرتے ہوں یا بلا کسی سبب؛ کیوں کہ بعض لوگوں کو یہ بات گراں گزرتی ہے کہ کوئی ان کی بات سنے؛ چاہے گفتگو میں کسی قسم کا عیب یا حرام بات اور کوئی سبب نہ بھی ہو، لیکن پھر بھی ان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی ان کی بات نہ سنے۔

Explanation

This Hadīth contains a severe warning to those who listen to the talk of others while they dislike that. Indeed, this is a bad manner amounting to a major sin. So, like fault, like punishment. Since a person commits this sin with his ears, he shall be punished in his ears: by the pouring of molten lead therein. This applies regardless of whether the talking people’s dislike is based on a valid reason or not. In fact, some people dislike that others should listen to their conversations even if they say nothing shameful, wrong, or unlawful. They just do not like to be heard by anyone.

Topics موضوعات