صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

کیا آپ ﷺ کے صحابہ میں مصافحہ کا معمول تھا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5384Sahih صحیح
عن أبي الخطاب قتادة، قال: قُلْتُ لأَنَسٍ: أكَانَتِ المصَافَحَةُ في أصْحَابِ رسولِ الله صلى الله عليه وسلم ؟، قَالَ: نَعَم.
ابوالخطاب قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ ﷺ کے صحابہ میں مصافحے کا معمول تھا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu al-Khattāb Qatādah reported that he asked Anas: "Was handshake common among the Companions of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him)?" He replied: 'Yes.'
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5384

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

”کیا آپ ﷺ کے صحابہ میں مصافحے کا معمول تھا“ یعنی کیا صحابہ کرام میں ملاقات کے وقت سلام کے بعد محبت اور اکرام کی زیادتی کے لیے مصافحہ کرنے کا معمول تھا؟ مصافحہ داہنے ہاتھ سے ہوتا ہے۔ مصافحہ کرنے کے بعد جُدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ دونوں کے گناہ معاف کردیتا ہے۔ یہ حدیث ملاقات کے وقت مصافحہ کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔ یہ اس وقت ہے کہ جب ملاقات کے وقت بات چیت وغیرہ کرنے کا ارادہ ہو۔ جہاں تک بازار وغیرہ میں صرف ملاقات کا تعلق ہے، تو یہ صحابہ کی سنت نہیں۔ یعنی جب تم بازار میں لوگوں کے پاس سے گزرو، تو تمھارے لیے ان کو سلام کرنا ہی کافی ہے۔

Explanation

Qatādah asked if the Companions of the Messenger of Allah used to shake hands when they meet and great each other with Salām as an extra symbol of love and honor. Shaking hands is done with the right hands and causes the sins of those doing it to be forgiven before they separate and depart. This shows the virtue of handshake upon meeting someone to talk with him or the like. However, mere meeting in the marketplace does not require handshake for this was not the practice of the Companions. In other words, if you come across people in the marketplace, it is enough to greet them with Salām only.

Topics موضوعات