اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم غیر شادی شدہ پردہ نشیں عورت سے بھی زیادہ با حیا تھے۔ چنانچہ جب کوئی ایسی چيز…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3153Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3153)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم غیر شادی شدہ لڑکی، جو مردوں کے ساتھ نہ رہی ہو اور گھر کی چہاردیواری کے اندر رہتی ہو، سے بھی زیادہ باحیا تھے۔ آپ کے حد درجہ باحیا ہونے کی ایک مثال یہ ہے کہ جب آپ کسی چيز کو ناپسند کرتے، تو کچھ بولتے نہيں تھے۔ بس آپ کا چہرہ بدل جاتا تھا۔ آپ کا چہرہ دیکھ کر صحابہ سمجھ جاتے تھے کہ آپ اس چیز کو ناپسند کر رہے ہیں۔
حدیث کے فوائد
- نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حیا کا بیان۔ یہ حیا بھی دراصل آپ کے اعلی اخلاق و کردار کا حصہ تھی۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم حیا سے اس وقت کام لیتے تھے، جب تک اللہ کی حرمتوں کو پامال نہ کیا جاتا۔ جب اللہ کی حرمتوں کو پامال کیا جاتا، تو آپ کا غصہ سامنے آ جاتا۔ اپنے صحابہ کو حکم دینے اور منع کرنے لگ جاتے۔
- حیا کے زیور سے آراستہ ہونے کی ترغیب۔ کیوں کہ حیا نفس کو اچھے کام کرنے اور برے کام کو چھوڑنے پر ابھارتی ہے۔
Explanation
Abu Sa‘īd al-Khudri (may Allah be pleased with him) informs that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was more shy than a virgin girl who has not married and deals with men while she is veiled in her house. His shyness was so intense that if he disliked something, his face would change and he would not speak. Rather, his Companions would recognize his dislike of it through his face.