سنن ابن ماجہ · مسند احمد
Sunan Ibn Majah · Musnad Ahmad

اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائیاں مانگتا ہوں، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم، اور میں…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5487Sahih صحیح
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ رضي الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهَا هَذَا الدُّعَاءَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ الْخَيْرِ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الشَّرِّ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ النَّارِ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا».
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو یہ دعا سکھائی : " اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائیاں مانگتا ہوں، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طالب ہوں، جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے طلب کی ہے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس برائی سے جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ چاہی ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور اس قول و عمل کا بھی، جو جنت سے قریب کر دے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور اس قول و عمل سے، جو جہنم سے قریب کر دے۔ میں تجھ سے سوالی ہوں کہ میرے حق میں کیے گئے ہر فیصلے کو بہتر بنادے۔"
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ā’ishah, Mother of the Believers (may Allah be pleased with her), reported that the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) taught her this supplication: "O Allah, I ask You for all that is good, the immediate and the deferred thereof, what I know and what I do not know. And I seek refuge with You from all that is evil, the immediate and the deferred thereof, what I know and what I do not know. O Allah, I ask You for the good that Your slave and Prophet asked You for, and I seek refuge with You from the evil that Your slave and Prophet sought refuge from. O Allah, I ask You for Paradise and what brings one closer to it of words or deeds, and I seek refuge with You from the Fire and from what brings one closer to it of words or deeds, and I ask You to make every decree that You have decreed for me good."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: رواه ابن ماجه وأحمد
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5487

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو کچھ جامع دعائيں سکھائی ہیں۔ یہ چار دعائيں ہيں :

پہلی دعا : ساری بھلائیوں پر مشتمل ایک دعا : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ الْخَيْرِ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ۔" یعنی اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائیاں مانگتا ہوں، جو قریب وقت کى ہوں اور دور وقت کى ہوں جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم, جنھیں بس تو ہی جانتا ہے۔ اس میں سارے معاملات کو اللہ کے حوالے کر دیا گیا ہے، جو سب کچھ جاننے والا، ہر بات کی خبر رکھنے والا اور رازہائے سربستہ سے واقف ہے، تاکہ وہ مسلمان کی جھولی میں وہی ڈالے جو افضل اور بہتر ہو۔ "وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الشَّرِّ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ۔" یعنی میں تیری پناہ چاہتا ہوں دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے، جو قریب زمانہ کى ہوں اور دور وقت کى ہوں، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم۔

دوسری دعا : یہ ایسی دعا ہے جس کے ذریعہ مسلمان دعا میں تجاوز کرنے سے محفوظ رہتا ہے۔ "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ"۔ یعنی اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طالب ہوں، جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے طلب کی ہے، اور میں اس برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ طلب کی ہے۔ اس میں اللہ سے دعا کی گئی ہے کہ وہ دعا کرنے والے کو وہ بھلائياں عطا کرے، جو آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے خود اپنے لیے مانگی ہیں۔ مختلف طرح کی ان دعاؤں کو گنوانے سے گریز کیا گیا ہے، جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مانگی ہيں۔

تیسری دعا : جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے دور رہنے کی دعا، جو ہر مسلمان کا مقصد ومنزل اور اس کے اعمال کى غایت ہے۔ "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ النَّارِ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ۔" یعنی اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور تجھے راضی کرنے والے ہر اس قول و عمل کا بھی، جو جنت سے قریب کر دے اور میں جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور تجھے ناراض کرنے والے ہر اس قول و عمل سے، جو جہنم سے قریب لے جائے۔ تیری مہربانی شامل حال نہ ہو، تو کوئی شخص برے اعمال سے بچ نہيں سکتا۔

چوتھی دعا : اللہ کے ہر فیصلے پر رضامند رہنے کی دعا۔ "وأسألك أن تجعل كل قضاء قضيتَه لي خيرًا۔" میں تجھ سے سوالی ہوں کہ تو اپںے کیے ہوئے ہر فیصلے کو میرے حق میں بہتر بنا دے۔ یہ دراصل راضی بہ رضا رہنے کی دعا ہے۔

حدیث کے فوائد

  • ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے اہل وعیال کو دین اور دنیا کی ایسی باتیں سکھائے، جو ان کے حق میں مفید ہوں، جس طرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سکھایا ہے۔
  • بہتر یہ ہے کہ ہر مسلمان اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے وارد دعاؤں کو یاد کر کے ان کو پڑھا کرے۔ کیوں کہ یہ جامع ترین دعائیں ہيں۔
  • علما نے اس حدیث کے بارے میں کہا ہے کہ یہ اللہ سے بھلائی مانگنے اور برائی سے پناہ طلب کرنے کے سلسلے میں سب سے جامع دعا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جامع ترین الفاظ کے انتخاب کی جو صلاحیت دی گئی تھی، اس کا یہ ایک بہترین نمونہ ہے۔
  • اللہ کی رحمت کے بعد دخول جنت کا ایک سبب نیک اقوال اور اعمال ہيں۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) taught ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) the comprehensive and concise supplication, which is made up of four supplications:

First: A general supplication for everything good: (O Allah, I ask You for all that is good) as a whole, (the immediate) that is the nearest in time (and the deferred thereof) that belongs to a later time; (what I know) of what You taught me (and what I do not know) of what You have in Your Knowledge. This denotes entrusting one's affairs to Allah, the All-Knowing, the All-Aware, and the Most Subtle to choose for the Muslim what is best and most appropriate. (And I seek refuge), shelter, and protection (with You from all that is evil, the immediate and the deferred thereof, what I know and what I do not know).

Second supplication: It is a protection for the Muslim against transgression in supplication. (O Allah, I ask You) and beg You (for the good that Your slave and Prophet asked You for) may Allah's peace and blessings be upon him, (and I seek refuge) shelter, and protection (with You from the evil that Your slave and Prophet sought refuge from) may Allah's peace and blessings be upon him. This is a supplication and request addressed to Allah to grant the supplicator what Prophet Muhammad (may Allah's peace and blessings be upon him) asked and requested for himself without enumerating the types he (may Allah's peace and blessings be upon him) supplicated for.

Third supplication: The request to be admitted to Paradise and to be kept far from Hellfire, which is every Muslim's request and ultimate goal: (O Allah, I ask You for Paradise) and its attainment (and for what brings one closer to it of words or deeds) that are righteous and that please You, (and I seek refuge with You from the Fire), as there is no protection against evil deeds except through Your kindness (and from what brings one closer to it of words or deeds) from the sins that incur Your wrath.

Fourth supplication: Supplicating for contentment with Allah's decree. (And I ask You to make every decree that You have decreed for me good) and every decree that Allah has decreed for me, make it good for me, which is a supplication for being granted contentment with Allah's decree.

Topics موضوعات