اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں، نماز…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4563Sahih Muslim (HadeethEnc 4563)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ جبریل علیہ السلام صحابۂ کرام کے پاس ایک اجنبی شخص کی شکل اختیار کر کے آئے۔ ان کے کچھ صفات اس طرح تھے کہ ان کے کپڑے بہت زیادہ سفید اور بال بہت زیادہ کالے تھے۔ ان کے جسم پر سفر کا کوئی اثر، جیسے تھکاوٹ، دھول مٹی، بالوں کا بکھرا ہوا ہونا اور کپڑوں کا میلا کچیلا ہونا وغیرہ نہیں دکھ رہا تھا۔ وہاں موجود کوئی شخص ان کو پہچان بھی نہيں پا رہا تھا۔ اس وقت صحابہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ آپ کے سامنے ایک طالب علم کی طرح بیٹھ گئے اور اس کے بعد آپ سے اسلام کے بارے میں سوال کیا، تو آپ نے جو جواب دیا، اس میں دونوں گواہیوں کا اقرار، پانچ وقتوں کی نمازیں قائم کرنا، زکوۃ اس کے حق داروں کو دینا، رمضان مہینے کے روزے رکھنا اور استطاعت رکھنے والے کے لیے کعبہ کا حج کرنا شامل تھا۔
جواب سننے کے بعد سوال کرنے والے نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے۔ صحابہ کو اس بات کا تعجب ہوا ان کا سوال کرنا یہ دکھاتا ہے کہ وہ جانتے نہیں ہيں، لیکن وہ آپ کی بات کی تصدیق بھی کر رہے ہیں۔
پھر انھوں نے آپ سے ایمان کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے جو جواب دیا، اس میں ایمان کے چھ ارکان شامل ہيں، جو کچھ اس طرح ہيں؛ اللہ کے وجود اور اس کے صفات پر ایمان رکھنا، اسے اپنے افعال، جیسے تخلیق وغیرہ میں اکیلا ماننا اور بس اسی کو عبادت کا حق دار جاننا، اس بات پر ایمان رکھنا کہ فرشتے، جن کو اللہ نے نور سے پیدا کیا ہے، اس کے معزز بندے ہیں، جو اس کی نافرمانی نہيں کرتے اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں، اللہ کی جانب سے رسولوں پر اترنے والی کتابوں، جیسے قرآن، تورات اور انجیل وغیرہ پر ایمان رکھنا، انسانوں کو اللہ کا دین پہنچانے والے رسولوں، جیسے نوح، ابراہیم، موسی، عیسی اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان رکھنا، آخرت کے دن پر ایمان رکھنا، جس میں موت کے بعد کی برزخی زندگی کے ساتھ ساتھ اس بات پر ایمان بھی شامل ہے کہ انسان کو موت کے بعد دوبارہ زندہ ہوکر اٹھنا اور حساب وکتاب کے مرحلہ سے گزرنا ہوگا، جس کے بعد اس کا ٹھکانہ یا تو جنت ہوگا یا پھر جہنم اور اخیر میں اس بات پر ایمان رکھنا کہ اللہ نے اپنے سابقہ علم اور اپنی حکمت کے مطابق ساری چیزوں کی مقدار مقرر کرکے ان کو لکھ رکھا ہے اور بعد میں وہ ساری چیزیں اللہ کے ارادے سے اور اس کے اندازے کے مطابق ہی سامنے آتی ہيں اور وہی ان کی تخلیق بھی کرتا ہے۔ پھر انھوں نے آپ سے احسان کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے بتایا کہ احسان یہ ہے کہ انسان اللہ کی عبادت اس طرح کرے، گویا وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ اگر وہ اس مقام تک نہ پہنچ سکے، تو اللہ کی عبادت یہ سوچ کر کرے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ یہاں پہلا مقام مشاہدے کا ہے، جو کہ سب سے اونچا ہے اور دوسرا مقام مراقبے کا ہے۔
پھر انھوں نے آپ سے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ قیامت کب آئے گی، یہ بات ان باتوں میں سے ہے، جن کو اللہ نے کسی کو نہيں بتایا ہے۔ لہذا اس کا علم کسی کے پاس نہيں ہے۔ نہ جس سے پوچھا گیا ہے، اس کے پاس اور نہ پوچھنے والے کے پاس۔
بعد ازاں انھوں نے آپ سے قیامت کی نشانیوں کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے بتایا کہ اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ باندیوں اور اس کے بطن سے جنم لینے والے بچوں کی بہتات ہوگی یا پھر یہ کہ بچے اپنی ماؤں کی بہت زیادہ نافرمانی کرنے لگیں گے اور ان کے ساتھ باندیوں جیسا سلوک کریں گے۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ آخری زمانے میں بکریوں کے چرواہوں اور فقیروں کے سامنے دنیا کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور وہ خوب صورت اور مضبوط محلوں کے معاملے میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔
اخیر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ پوچھنے والے جبریل تھے، جو صحابہ کو اسلام سکھانے کے لیے آئے تھے۔
حدیث کے فوائد
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اعلی اخلاق کہ آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھل مل کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔
- سوال کرنے والے کے ساتھ نرمی بھرا برتاؤ کرنا اور اسے اپنے پاس بٹھانا چاہیے، تاکہ وہ بغیر کسی خوف اور تردد کے جو کچھ پوچھنا چاہے، پوچھ سکے۔
- استاد کے ساتھ ادب و احترام کا معاملہ کرنا چاہیے۔ ہم یہاں دیکھتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ادب کے ساتھ بیٹھ گئے، تاکہ آپ سے علم حاصل کر سکیں۔
- اسلام کے پانچ ارکان اور ایمان کی چھ بنیادیں ہيں۔
- جب اسلام اور ایمان دونوں الفاظ ایک ساتھ آئیں، تو اسلام کی تفسیر ظاہری چیزوں سے کی جائے گی اور ایمان کی تفسیر باطنی چیزوں سے۔
- دین کے مختلف درجات ہيں۔ پہلا درجہ اسلام ہے، دوسرا ایمان ہے اور تیسرا احسان، جو کہ دین کا سب سے اونچا درجہ ہے۔
- اصل یہ ہے کہ پوچھنے والے کے پاس جانکاری نہ ہو اور عدم واقفیت کی وجہ سے ہی انسان کسی سے کچھ پوچھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کو اس بات پر تعجب ہوا کہ وہ شخص خود پوچھ بھی رہا تھا اور تصدیق بھی کر رہا تھا۔
- آغاز زیادہ اہم سے کر کے کم اہم کی طرف جانا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی تفسیر کرتے وقت آغاز دونوں گواہیوں سے کیا گيا اور ایمان کی تفسیر کرتے وقت آغاز اللہ پر ایمان سے کیا گیا۔
- دین کا علم رکھنے والوں سے ایسی چیزوں کے بارے میں پوچھا جا سکتا ہے، جن سے پوچھنے والا واقف ہو، تاکہ دوسرے لوگ بھی ان چیزوں کو جان جائیں۔
- قیامت کب آئے گی، اس بات کا علم اللہ نے اپنے پاس رکھا ہے۔
Explanation
'Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him) informs that Jibrīl (peace be upon him) appeared before the Companions (may Allah be pleased with them) in the form of an unknown man with white clothes and very dark hair and the signs of travel – such as fatigue, dust, unkempt hair, and dirty clothing – were not visible on him. None of those present knew him. This happened while they were sitting with the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). He sat down before the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) as a learner and asked him about Islam. He answered him, pointing out the pillars of Islam: acknowledgment of the two testimonies of faith, observing the five prayers, paying the Zakah to its due recipients, fasting the month of Ramadan, and performing the obligation of Hajj for those who are able to do so.
The inquirer said: You have spoken the truth. The Companions wondered that he posed the question, which indicated that he apparently did not know the answer, and then he affirmed that the answer was right.
Then, he asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) about faith, and he answered him listing the six pillars that contain belief in the existence of Allah Almighty and His attributes, ascribing His actions, such as creation, to Him alone, and devoting worship only to Him; belief that the angels, whom Allah created from light, are honorable servants who do not disobey Allah Almighty and they execute His commands; belief in the scriptures revealed by Allah Almighty to the messengers, like the Qur’an, the Torah, and the Gospel, and in the messengers who conveyed Allah's religion, such as Noah, Abraham, Moses, Jesus, and the last of them Muhammad (peace be upon all of them); belief in the Last Day, which includes the barzakh life (life after death in the grave) and that every human being will be resurrected after death and undergo the reckoning and will ultimately end up in Paradise or Hellfire; and belief that Allah had predestined all things according to His prior knowledge, wisdom, writing, and will, and that everything happens according to Allah's predestination and creation. Then, he asked him about ihsān, and the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) told him that ihsān is to worship Allah as if you can see Him, and if he cannot reach that level, he should then worship Allah Almighty as if Allah is watching him. The first is the level of watching, which is higher, and the second is the level of watchfulness.
Then, he asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) about the Hour, and he clarified that knowledge of the Hour is one of the things Allah kept to Himself alone; so, none of the creation knows it, neither the one inquired about it nor the inquirer.
Then, he asked him about the signs of the Hour. He pointed out that its signs include the increasing number of slave girls or the prevalence of children's ingratitude toward their mothers as they treat them like slaves and that shepherds and poor people will lead a life of opulence in the latter times, taking pride in the construction and decoration of big houses.
Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that the inquirer was Jibrīl, who came to teach the Companions this upright religion.