Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim صحیح بخاری · صحیح مسلم

’’کیا میں تم کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟

عن أبي بكرة رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «‌أَلَا ‌أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟» ثَلَاثًا، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ» وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَقَالَ: «أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ»، قَالَ: فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا: لَيْتَهُ سَكَتَ.
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’کیا میں تم کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟" یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ دہرائی۔ لوگوں نے کہا : "اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔" آپ ﷺ پہلے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، لیکن سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور پھر فرمایا : "خبردار! جھوٹی بات کہنا"۔ آپ ﷺ اس بات کو اتنی مرتبہ دہراتے رہے کہ ہم نے کہا : کاش آپ ﷺ خاموش ہوجائیں‘‘۔
Abu Bakrah (may Allah be pleased with him) reported: The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Shall I inform you of the gravest of the major sins?" He repeated this three times. They said: "Yes, O Messenger of Allah." He said: "Associating partners with Allah and undutifulness to parents." He was reclining and then sat up and said: "And indeed, the false statement." He repeated it so many times that we wished he would stop.

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #2941

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ساتھیوں کو سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں بتاتے ہوئے ان تین گناہوں کا ذکر کیا :

1- اللہ کا شریک ٹھہرانا : شرک نام ہے کوئی بھی عبادت اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے کرنے اور غیراللہ کو الوہیت، ربوبیت اور اسماء و صفات میں اللہ کے برابر لا کھڑا کرنے کا۔

2- ماں باپ کی نافرمانی : یعنی قول و فعل کے ذریعہ یا ان کی خدمت میں کوتاہی کرکے ان کو کسی طرح کی تکلیف دینا۔

3- جھوٹ بولنا، جس میں جھوٹی گواہی دینا بھی شامل ہے: اس سے مراد ہر وہ گھڑی ہوئی اور جھوٹی بات ہے، جس کا مقصد کسی کا مال ہڑپنا یا کسی کو بے عزت کرنا وغیرہ ہو۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جھوٹ بولنے سے بار بار خبردار کرکے یہ بتایا ہے کہ جھوٹ ایک بری چیز ہے اور سماج پر اس کے بڑے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آپ نے جھوٹ بولنے سے اتنی بار خبردار کیا کہ صحابہ نے آپ کی پریشانی کو دیکھ کر کہا کہ کاش آپ خاموش ہو جاتے۔

حدیث کے فوائد

  • سب سے بڑا گناہ اللہ کا شریک ٹھہرانا ہے، کیوں کہ اللہ نے اسے سب سے پہلا اور سب سے بڑا کبیرہ گناہ قرار دیا ہے۔ اس کی تاکید اللہ تعالی کا یہ قول بھی کرتا ہے : "یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جس کے لئے جو چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔"
  • والدین کے حقوق کی اہمیت، کیوں کہ اللہ تعالی نے ان کا حق اپنے حق کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے۔
  • گناہ کی دو قسمیں ہيں؛ صغیرہ گناہ اور کبیرہ گناہ۔ کبیرہ گناہ سے مراد ہر وہ گناہ ہے، جس کی کوئی دنیوی سزا متعین ہو، جیسے حدود اور لعنت وغیرہ یا جس پر کوئی اخروی وعید سنائی گئی ہو، جیسے جہنم میں داخلے کی وعید۔ کبیرہ گناہوں میں سے بھی کچھ گناہوں کی حرمت دیگر کبیرہ گناہوں کے مقابلے میں زیادہ شدید ہے۔ جب کہ صغیرہ گناہوں سے مراد کبیرہ گناہ کے علاوہ دیگر گناہ ہیں۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed his Companions about the gravest of the major sins and mentioned these three:

1. Associating partners with Allah: This is to devote any form of worship to other than Allah and regard anyone as equal to Allah in His divinity, lordship, names, and attributes.

2. Undutifulness to parents: This is any hurt to one's parents, whether by word or deed, and not showing kindness to them.

3. False statement, which includes perjury: Every false and untrue statement intended to detract from the one about whom it is made by taking his property, damaging his honor, and the like.

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) repeated the warning about the false testimony to highlight its hideousness and evil consequences for society, so much that the Companions wished that he would be quiet out of compassion towards him and disliking what would annoy him.

Topics موضوعات