صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

اس ایک صحیح بات کو جِن اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں ایسی آواز میں ڈالتا ہے، جو مرغی کے کڑکڑانے جیسی…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
8918Sahih صحیح
عن عائشة رضي الله عنها قالت: سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسُوا بِشَيْءٍ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّيْءِ يَكُونُ حَقًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں : کچھ لوگوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے فرمایا : "وہ کچھ نہيں ہیں۔" ان لوگوں نے عرض کیا کہ: اے اللہ کے رسول! وہ کبھی کبھی کوئی بات کہہ جاتے ہیں، جو صحیح نکل آتی ہے۔ اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اس ایک صحیح بات کو جِن اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں ایسی آواز میں ڈالتا ہے، جو مرغی کے کڑکڑانے جیسی ہوتی ہے اور یہ کاہن اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا لیتے ہیں۔"
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) reported: Some people asked the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) about diviners, and he said to them: "They are of no account." They said: "O Messenger of Allah, but they sometimes make true predictions." Thereupon, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "That is a word pertaining to the truth which a jinn snatches and whispers into his friend's ears as a hen does. Then, they mix it with more than a hundred lies."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8918

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایسے لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا، جو آنے والے وقت سے متعلق غیب کی باتیں بتایا کرتے ہيں، تو آپ نے کہا کہ ان پر دھیان مت دو، ان کی بات پر عمل نہ کرو اور ان کی پرواہ مت کرو۔

لوگوں نے کہا کہ کبھی کبھی ان کی کہی ہوئی کوئی بات اصل صورت حال کے مطابق نکل آتی ہے۔ مثلا وہ کسی مہینے کے کسی دن کوئی واقعہ پیش آنے کی بات کہتے ہیں اور وہ واقعہ پیش آ بھی جاتا ہے۔

چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : دراصل ہوتا یہ ہے کہ جن آسمان کی جو خبر سنتے ہيں، اسے اچک لیتے ہیں اور اپنے کاہن دوستوں کے پاس آکر بتا دیتے ہيں اور پھر جن سے سنی ہوئی اس ایک بات میں کاہن سو جھوٹ ملا لیتے ہیں۔

حدیث کے فوائد

  • کاہنوں کی بات کو سچ ماننے کی ممانعت اور اس بات کی نشان دہی کہ ان کی باتیں جھوٹی اور گھڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ چاہے ان کی ایک آدھ بات صحیح بھی نکل آئے۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے بعد آسمان کو شیطانوں سے محفوظ کر دیا گیا۔ اس کے بعد ان کے لیے وحی اور دوسری خبروں کو سننا ممکن نہ رہا۔ ہاں، کوئی چوری چھپے سن لے اور شہابوں سے محفوظ رہ جائے تو بات الگ ہے۔
  • جن بعض انسانوں کو اپنا دوست بنا لیتے ہیں۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was asked about those who speak about unseen and future things, and he said: Pay no attention to them and do not believe them.

They said: Their statements sometimes conform with reality – they say that something will occur in such and such month on such and such day, it actually happens as they stated.

Thereupon, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: The jinn snatch what they hear from the heavenly information, descend upon their allies from among the diviners, and convey what they heard to them. Then, the diviners add a hundred lies to this piece of information that reached them from heaven.

Topics موضوعات