اس ایک صحیح بات کو جِن اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں ایسی آواز میں ڈالتا ہے، جو مرغی کے کڑکڑانے جیسی…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8918Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 8918)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایسے لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا، جو آنے والے وقت سے متعلق غیب کی باتیں بتایا کرتے ہيں، تو آپ نے کہا کہ ان پر دھیان مت دو، ان کی بات پر عمل نہ کرو اور ان کی پرواہ مت کرو۔
لوگوں نے کہا کہ کبھی کبھی ان کی کہی ہوئی کوئی بات اصل صورت حال کے مطابق نکل آتی ہے۔ مثلا وہ کسی مہینے کے کسی دن کوئی واقعہ پیش آنے کی بات کہتے ہیں اور وہ واقعہ پیش آ بھی جاتا ہے۔
چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : دراصل ہوتا یہ ہے کہ جن آسمان کی جو خبر سنتے ہيں، اسے اچک لیتے ہیں اور اپنے کاہن دوستوں کے پاس آکر بتا دیتے ہيں اور پھر جن سے سنی ہوئی اس ایک بات میں کاہن سو جھوٹ ملا لیتے ہیں۔
حدیث کے فوائد
- کاہنوں کی بات کو سچ ماننے کی ممانعت اور اس بات کی نشان دہی کہ ان کی باتیں جھوٹی اور گھڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ چاہے ان کی ایک آدھ بات صحیح بھی نکل آئے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے بعد آسمان کو شیطانوں سے محفوظ کر دیا گیا۔ اس کے بعد ان کے لیے وحی اور دوسری خبروں کو سننا ممکن نہ رہا۔ ہاں، کوئی چوری چھپے سن لے اور شہابوں سے محفوظ رہ جائے تو بات الگ ہے۔
- جن بعض انسانوں کو اپنا دوست بنا لیتے ہیں۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was asked about those who speak about unseen and future things, and he said: Pay no attention to them and do not believe them.
They said: Their statements sometimes conform with reality – they say that something will occur in such and such month on such and such day, it actually happens as they stated.
Thereupon, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: The jinn snatch what they hear from the heavenly information, descend upon their allies from among the diviners, and convey what they heard to them. Then, the diviners add a hundred lies to this piece of information that reached them from heaven.