جس نے قسم کھائی اور اپنے قسم میں کہا: ”لات و عزیٰ کی قسم“، تو وہ لا الہ الا ﷲ کہے، اور جو شخص اپنے ساتھی سے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6379Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 6379)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم غیر اللہ کی قسم کھانے سے خبردار کر رہے ہیں۔ کیوں کہ مومن قسم صرف اللہ کی کھاتا ہے۔ آپ بتا رہے ہیں کہ جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی، جیسے وہ جس نے لات و عزی، جو دور جاہلیت میں پوجے جانے والے دو بت ہیں، کی قسم کھائی، اس کے بعد اس کے اوپر لا الہ الا اللہ کہنا، شرک سے اپنی براءت کا اعلان کرنے کے لئے اور اس قسم کے کفارہ کے طور پر چاہیے۔
اس کے بعد آپ نے بتایا کہ جس نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ جوا کھیلیں (جوا نام ہے دو یا دو سے زیادہ لوگوں کا اس شرط کے ساتھ مقابلے میں شریک ہونے کا کہ ان کے درمیان کوئی مال ہو اور مقابلہ جیتنے والا مال لے جائے گا۔ انسان اس میں یا تو جیتتا ہے یا پھر ہارتا ہے)، اس کے لیے کچھ نہ کچھ صدقہ کرنا مستحب ہے، تاکہ جوا کی دعوت دینے کی وجہ سے جو گناہ ہوا ہے، اس کا کفارہ ہو جائے۔
حدیث کے فوائد
- قسم بس اللہ اور اس کے اسما و صفات کی کھانا جائز ہے۔
- غیراللہ کی قسم کھانا حرام ہے۔ قسم خواہ بتوں جیسے لات و عزی کی کھائی جائے، یا امانت کی کھائی جائے، یا نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی کھائی جائے یا کسی اور کی۔
- خطابی کہتے ہیں: قسم بس عظیم معبود کی کھائی جانی چاہیے۔ اس لیے اگر کسی نے لات وغیرہ کی قسم کھا ئی، تو اس نے کفار کے جیسا کام کیا۔ اسى لئے اسے یہ حکم دیا گیا کہ وہ تدارک کے طور پر کلمۂ توحید پڑھ لے۔
- غیراللہ کی قسم کھانے والے کو قسم کا کفارہ نہیں دینا ہے۔ اسے اللہ کے حضور توبہ واستغفار کرنا ہے۔ کیوں کہ یہ گناہ اتنا بڑا ہے کہ اسے توبہ کے علاوہ کوئی چيز نہیں مٹا سکتی۔
- قمار کی ساری صورتیں اور شکلیں حرام ہیں۔ قمار وہی میسر (جوا) ہے، جسے اللہ نے حرام کیا ہے اور شراب اور بتوں کے ساتھ یکجا بیان کیا ہے۔
- گناہ ہو جانے کی صورت میں اس سے واپس لوٹنا (یعنى توبہ کرنا) واجب ہے۔
- جو شخص گناہ میں پڑ جائے اسے چاہیے کہ اس کے بعد نیکی کرے؛ کیونکہ نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) warned of swearing by other than Allah, for a believer should only swear by Allah. He informs that whoever swears by other than Allah, like someone who says: By Al-Lāt and Al-‘Uzza – two idols that used to be worshipped during the Jāhiliyyah (pre-Islam period of ignorance) – should hasten to correct himself by saying: There is no god but Allah. This is to disavow Shirk and expiate for such swearing.
Then, he (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that if someone says to his companion "Come and gamble with me" – when two or more persons compete with one another and the winner takes the money involved, and each one should necessarily win or lose – he is recommended to give something in charity, as expiation for what he has called for.