صحیح مسلم
Sahih Muslim

کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
6454Sahih صحیح
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟» قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: «إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ».
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟" صحابہ نے جواب دیا: ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس کوئی روپیہ پیسہ اور ساز و سامان نہ ہو۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے، جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوۃ جیسے اعمال لے کر آئے گا۔ تاہم اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت دھری ہو گی، کسی کا مال (ناحق) کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا۔ چنانچہ اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں اور اس پر واجب الاداء حقوق ابھی باقی رہے، تو ان لوگوں کے گناہ لے کر اس کے اوپر ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔"
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Do you know who the bankrupt is?" They said: "The bankrupt among us is the one who has neither money nor belongings." He said: "Verily, the bankrupt in my Ummah is the one who comes on the Day of Resurrection with prayers, fasting, and Zakah, but he comes while he has hurled abuse at this one, slandered that one, unlawfully consumed the wealth of this one, shed the blood of that one, and beat this one. So, this one will be given of his good deeds and that one will be given of his good deeds. If his good deeds run out before justice is fulfilled, some of their sins will be cast upon him and then he will be thrown into Hellfire."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: رواه مسلم
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #6454

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ سے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ صحابہ نے جواب دیا: ہمارے درمیان مفلس وہ ہے، جس کے پاس مال و اسباب نہ ہو۔ جواب سن کر آپ نے کہا: قیامت کے دن میری امت کا مفلس وہ ہوگا، جو اچھے اعمال جیسے نماز، روزہ اور زکوۃ وغیرہ کے ساتھ آئے، لیکن دنیا میں کسی کو گالی دے رکھی ہو، کسی کی عزت و آبرو پر تہمت لگا کر آیا ہو، کسی کا مال کھاکر انکار کر دیا ہو، کسی کو مارا اور ذلیل کیا ہو۔ لہذا اس کی نیکیاں لے کر مظلوموں کے درمیان بانٹنا شروع کر دیا جا‏ئے گا۔ اگر اس کی ستم رسانیوں کا حق ادا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئيں، تو مظلوموں کے گناہ لے کر اس کے صحیفوں میں درج کر دیا جائے گا اور چوں کہ اس کے پاس نیکیاں باقی نہیں رہ جائيں گی، اس لیے اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

حدیث کے فوائد

  • اس حدیث میں حرام کاموں میں ملوث ہونے سے خبردار کیا گیا ہے۔ خاص طور سے بندوں کے مادی اور معنوی حقوق کو تلف کرنے سے۔
  • بندوں کے آپسی حقوق ایک دوسرے سے حاصل کرنے کی جد و جہد پر مبنی ہیں۔ جب کہ اللہ کے حقوق عفو و درگزر پر مبنی ہيں، بس شرک اس کے دائرے سے باہر ہے۔
  • مکالمے کا طریقہ استعمال کرنا، جو سننے والے کو شوق دلائے، اس کی توجہ مبذول کرائے اور اس کی دل چسپی بڑھائے۔ خاص طور پر تربیت اور رہنمائی کے معاملے میں۔
  • یہاں مفلس کا حقیقی معنی بیان کیا گیا ہے۔ حقیقی مفلس وہ ہے، جس کے قرض خواہ قیامت کے دن اس کے اعمال صالحہ لے اڑیں گے۔
  • قصاص آخرت میں کبھی کبھی انسان کی تمام نیکیوں کا صفایا کر دے گا اور اس کی جھولی میں کوئی نیکی رہنے نہيں دے گا۔
  • مخلوق کے ساتھ اللہ کا معاملہ انصاف اور حق پرقائم ہے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) asked his Companions: Do you know who the bankrupt is? They said: The bankrupt among us is the one who has no wealth or property. He said: The bankrupt in my Ummah on the Day of Resurrection is the one who comes with righteous deeds such as prayer, fasting, and Zakah, but he comes having insulted and cursed this one, slandered that one, consumed the wealth of this one and denied it, shed the blood of that one and oppressed him, and beaten this one and humiliated him. So, the wronged ones will be given from his good deeds. If his good deeds run out before he has settled the rights and grievances due upon him, some of the sins of the wronged ones will be taken and placed in the records of the wrongdoer. Then, he will be thrown into Hellfire, as no good deeds will remain for him.

Topics موضوعات