کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6454Sahih Muslim (HadeethEnc 6454)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ سے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ صحابہ نے جواب دیا: ہمارے درمیان مفلس وہ ہے، جس کے پاس مال و اسباب نہ ہو۔ جواب سن کر آپ نے کہا: قیامت کے دن میری امت کا مفلس وہ ہوگا، جو اچھے اعمال جیسے نماز، روزہ اور زکوۃ وغیرہ کے ساتھ آئے، لیکن دنیا میں کسی کو گالی دے رکھی ہو، کسی کی عزت و آبرو پر تہمت لگا کر آیا ہو، کسی کا مال کھاکر انکار کر دیا ہو، کسی کو مارا اور ذلیل کیا ہو۔ لہذا اس کی نیکیاں لے کر مظلوموں کے درمیان بانٹنا شروع کر دیا جائے گا۔ اگر اس کی ستم رسانیوں کا حق ادا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئيں، تو مظلوموں کے گناہ لے کر اس کے صحیفوں میں درج کر دیا جائے گا اور چوں کہ اس کے پاس نیکیاں باقی نہیں رہ جائيں گی، اس لیے اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
حدیث کے فوائد
- اس حدیث میں حرام کاموں میں ملوث ہونے سے خبردار کیا گیا ہے۔ خاص طور سے بندوں کے مادی اور معنوی حقوق کو تلف کرنے سے۔
- بندوں کے آپسی حقوق ایک دوسرے سے حاصل کرنے کی جد و جہد پر مبنی ہیں۔ جب کہ اللہ کے حقوق عفو و درگزر پر مبنی ہيں، بس شرک اس کے دائرے سے باہر ہے۔
- مکالمے کا طریقہ استعمال کرنا، جو سننے والے کو شوق دلائے، اس کی توجہ مبذول کرائے اور اس کی دل چسپی بڑھائے۔ خاص طور پر تربیت اور رہنمائی کے معاملے میں۔
- یہاں مفلس کا حقیقی معنی بیان کیا گیا ہے۔ حقیقی مفلس وہ ہے، جس کے قرض خواہ قیامت کے دن اس کے اعمال صالحہ لے اڑیں گے۔
- قصاص آخرت میں کبھی کبھی انسان کی تمام نیکیوں کا صفایا کر دے گا اور اس کی جھولی میں کوئی نیکی رہنے نہيں دے گا۔
- مخلوق کے ساتھ اللہ کا معاملہ انصاف اور حق پرقائم ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) asked his Companions: Do you know who the bankrupt is? They said: The bankrupt among us is the one who has no wealth or property. He said: The bankrupt in my Ummah on the Day of Resurrection is the one who comes with righteous deeds such as prayer, fasting, and Zakah, but he comes having insulted and cursed this one, slandered that one, consumed the wealth of this one and denied it, shed the blood of that one and oppressed him, and beaten this one and humiliated him. So, the wronged ones will be given from his good deeds. If his good deeds run out before he has settled the rights and grievances due upon him, some of the sins of the wronged ones will be taken and placed in the records of the wrongdoer. Then, he will be thrown into Hellfire, as no good deeds will remain for him.