بے شک شیطان مایوس ہو چکا ہے اس بات سے کہ نمازى لوگ جزیرۃ العرب میں اس کی عبادت کریں گے، لیکن وہ ان کے مابین…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8886Sahih Muslim (HadeethEnc 8886)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ نماز کی پابندی کرنے والے مسلمان جزیزۂ عرب میں اس کی عبادت اور بتوں کے سامنے سجدہ کریں گے۔ لیکن آج بھی اس کی خواہش کم نہيں ہوئی ہے۔ آج بھی اس بات کے لیے اس کی کوشش جاری ہے کہ ان کو اکسا کر ان کے درمیان لڑائی، جھگڑا اور فتنہ وفساد برپا کر دیا جائے۔
حدیث کے فوائد
- شیطان کی عبادت بت کی عبادت ہے۔ کیوں کہ وہی اس کا حکم دیتا ہے اور اس کی جانب بلاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے کہا تھا : "اے ابا جان! شیطان کی عبادت نہ کریں…"
- شیطان مسلمانوں کے درمیان دشمنیاں، عداوتیں، جنگیں اور فتنے برپا کرنے کى تگ ودو میں لگا رہتا ہے۔
- اسلام میں نماز کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کی باہمی محبت کو برقرار رکھتی ہے اور ان کے درمیان بھائی چارے کے بندھن کو مضبوط کرتی ہے۔
- دونوں شہادتوں کے بعد نماز دین کے شعائر میں سب سے زیادہ عظمت والى ہے اور اسی لیے اس حدیث میں مسلمانوں کو مصلِّیوں (نمازیوں) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
- جزیرۂ عرب کی چند خصوصیات ایسی ہیں، جو دوسرے ممالک اور علاقوں کو حاصل نہیں ہیں۔
- اگر کوئی کہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم فرما رہے ہیں: "شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ مسلمان جزیرۃ العرب میں اس کی عبادت کریں گے۔" جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جزیرۃ العرب کے کچھ حصوں میں بتوں کی پوجا ہو رہی ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں بات اسلامی فتوحات اور اسلام کے اندر لوگوں کے گروہ در گروہ داخل ہونے کو دیکھ کر شیطان کے دل میں چھانے والی مایوسی کی ہو رہی ہے۔ دراصل یہ حدیث شیطان کے ظن اور توقع کی بات کر رہی ہے۔ لیکن بعد میں اس کے برخلاف ہوا، جس کے پیچھے اللہ کی کوئی مصلحت ہوگی۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that Satan had lost hope that the believers who engage in prayer in the Arabian Peninsula would return to worshiping him and to prostrating to idols. However, he still desires and is still exerting effort and working hard to sow dissension between them by instigating disputes, hostility, wars, strife, etc.