سنن ابن ماجہ
Sunan Ibn Majah

نبی ﷺ نے کسی واقعے کا ذکر کیا اور فرمایا: “یہ علم چلے جانے کے وقت ہو گا

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
65045Sahih صحیح
عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ رضي الله عنه قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَقَالَ: «ذَاكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ، وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُهُ أَبْنَاءَنَا وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ زِيَادُ، إِنْ كُنْتُ لَأُرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ، أَوَلَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى يَقْرَؤونَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، لَا يَعْمَلُونَ بِشَيْءٍ مِمَّا فِيهِمَا؟!».
زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے, وہ کہتے ہیں: نبی ﷺ نے کسی واقعے کا ذکر کیا اور فرمایا: "یہ علم چلے جانے کے وقت ہو گا"۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! علم کیسے اٹھ جائے گا، جب کہ ہم قرآن پڑھتے ہیں، اپنے بیٹوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو پڑھائیں گے؟ قیامت تک (اسی طرح سلسلہ جاری رہے گا۔) نبی ﷺ نے فرمایا: زیاد! تیری ماں تجھے گم پائے، میں تو تجھے مدینے کے سب سے زیادہ سمجھ دار لوگوں میں خیال کرتا تھا۔ کیا یہ یہودی اور عیسائی تورات اور انجیل نہیں پڑھتے؟ لیکن وہ ان میں موجود کسی حکم پر عمل نہیں کرتے!"۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Ziyād ibn Labīd (may Allah be pleased with him) reported: The Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him) mentioned something and said: "That will be at the time when knowledge disappears." I said: "O Messenger of Allah, how will knowledge disappear when we recite the Qur’an and teach it to our children, and they teach it to their children (and so on) until the Day of Judgment?" He said: "May your mother be bereaved of you, O Ziyād! I thought you were the most knowledgeable man in Madīnah. Is it not the case with these Jews and Christians who read the Torah and the Gospel, yet they do not act upon anything therein?!"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابن ماجہSunan Ibn Majah
Original wording: رواه ابن ماجه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65045

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا: یہ وہ وقت ہوگا، جب لوگوں سے علم اٹھا لیا جا ئے گا۔ اس سے زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا، تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم سے علم کیسے اٹھا لیا جائے گا، جب کہ ہم قرآن پڑھتے اور یاد کرتے ہیں اور اللہ کی قسم ہم قرآن پڑھتے رہیں گے اور اپنی عورتوں اور بیٹوں اور پوتوں کو پڑھاتے رہیں گے؟ اس پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: اے زیاد! تیری ماں تجھے گم پائے، میں تجھے مدینے کے علما میں شمار کیا کرتا تھا! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتایا کہ علم اٹھ جانے کا مطلب یہ نہیں کہ قرآن اٹھ جائے گا، بلکہ علم اٹھنے کا مطلب ہے کہ اس پر عمل کرنا اٹھ جائے گا۔ کیوں کہ یہود ونصاری کے پاس بھی تورات وانجیل موجود ہیں، اس کے باوجود انہیں کوئی فائدہ نہیں ہو رہا اور نہ وہ ان کتابوں کے مقصد ومراد سے مستفید ہو رہے ہیں اور اپنے اس علم پر عمل کر رہے ہیں۔

حدیث کے فوائد

  • لوگوں کے ہاتھوں میں قرآنی نسخوں اور کتابوں کا موجود ہونا اس وقت تک فائدہ نہیں پہنچا سکتا، جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے۔
  • علم اٹھائے جانے کے کئی طریقے ہیں، جن میں سے چند اس طرح ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات، علمائے کرام کی وفات اور علم پر عمل نہ کرنا۔
  • قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور لوگ اس پر عمل کرنا چھوڑ دیں گے۔
  • علم پر عمل کرنے کی ترغیب کہ وہی اصل غایت و مقصود ہے۔

Explanation

As the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was sitting among his Companions, he said: This is the time at which knowledge will disappear and be taken away from people. Thereupon, Ziyād ibn Labīd al-Ansāri (may Allah be pleased with him) wondered and asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him): How will knowledge be taken away from us and we lose it, whereas we recite and memorize the Qur’an?! By Allah, we will recite it and make our women and children and our children's children recite it. In response, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said in wonder: May your mother be bereaved of you, O Ziyād! I considered you to be among the knowledgeable people of Madīnah. Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) pointed out that knowledge will not be lost by the loss of the Qur’an, but knowledge will be lost by the loss of acting upon it. A case in point is the Jews and the Christians, who have the Torah and the Gospel, yet they did not derive benefit from them or their objective, namely acting upon what they have learned.

Topics موضوعات