نبی ﷺ نے کسی واقعے کا ذکر کیا اور فرمایا: “یہ علم چلے جانے کے وقت ہو گا
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابن ماجہSunan Ibn MajahOriginal wording: رواه ابن ماجه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65045Sunan Ibn Majah (HadeethEnc 65045)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا: یہ وہ وقت ہوگا، جب لوگوں سے علم اٹھا لیا جا ئے گا۔ اس سے زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا، تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم سے علم کیسے اٹھا لیا جائے گا، جب کہ ہم قرآن پڑھتے اور یاد کرتے ہیں اور اللہ کی قسم ہم قرآن پڑھتے رہیں گے اور اپنی عورتوں اور بیٹوں اور پوتوں کو پڑھاتے رہیں گے؟ اس پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: اے زیاد! تیری ماں تجھے گم پائے، میں تجھے مدینے کے علما میں شمار کیا کرتا تھا! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتایا کہ علم اٹھ جانے کا مطلب یہ نہیں کہ قرآن اٹھ جائے گا، بلکہ علم اٹھنے کا مطلب ہے کہ اس پر عمل کرنا اٹھ جائے گا۔ کیوں کہ یہود ونصاری کے پاس بھی تورات وانجیل موجود ہیں، اس کے باوجود انہیں کوئی فائدہ نہیں ہو رہا اور نہ وہ ان کتابوں کے مقصد ومراد سے مستفید ہو رہے ہیں اور اپنے اس علم پر عمل کر رہے ہیں۔
حدیث کے فوائد
- لوگوں کے ہاتھوں میں قرآنی نسخوں اور کتابوں کا موجود ہونا اس وقت تک فائدہ نہیں پہنچا سکتا، جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے۔
- علم اٹھائے جانے کے کئی طریقے ہیں، جن میں سے چند اس طرح ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات، علمائے کرام کی وفات اور علم پر عمل نہ کرنا۔
- قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور لوگ اس پر عمل کرنا چھوڑ دیں گے۔
- علم پر عمل کرنے کی ترغیب کہ وہی اصل غایت و مقصود ہے۔
Explanation
As the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was sitting among his Companions, he said: This is the time at which knowledge will disappear and be taken away from people. Thereupon, Ziyād ibn Labīd al-Ansāri (may Allah be pleased with him) wondered and asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him): How will knowledge be taken away from us and we lose it, whereas we recite and memorize the Qur’an?! By Allah, we will recite it and make our women and children and our children's children recite it. In response, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said in wonder: May your mother be bereaved of you, O Ziyād! I considered you to be among the knowledgeable people of Madīnah. Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) pointed out that knowledge will not be lost by the loss of the Qur’an, but knowledge will be lost by the loss of acting upon it. A case in point is the Jews and the Christians, who have the Torah and the Gospel, yet they did not derive benefit from them or their objective, namely acting upon what they have learned.