قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ ہٹیں گے، جب تک اس کی عمر کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- جامع ترمذیJami' at-TirmidhiOriginal wording: رواه الترمذي
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4950Jami' at-Tirmidhi (HadeethEnc 4950)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں قیامت کے دن کوئی بھی شخص حساب کی جگہ سے جنت یا جہنم کی جانب اس وقت تک بڑھ نہیں سکے گا، جب تک اس سے کچھ باتیں پوچھ نہ لی جائيں :
1- اس نے اپنی زندگی کن کاموں میں گزاری؟
2- اس نے جو علم حاصل کیا تھا، کیا اسے اللہ کے لیے حاصل کیا تھا، کیا اس پر عمل کیا تھا اور کیا اسے اس کے مستحق تک پہنچایا تھا؟
3- اس کے پاس جو مال تھا، اسے کہاں سے کمایا تھا؟ کمائی کے راستے حلال تھے یا حرام؟ ساتھ ہی اسے کہاں خرچ کیا تھا؟ اللہ کی رضامندی کے کاموں میں یا ناراضگی کے کاموں میں۔
4- اسے جو جسم، قوت، عافیت اور جوانی ملی ہوئی تھی، اسے کن کاموں میں خرچ کیا تھا؟
حدیث کے فوائد
- زندگی کو اللہ کو راضی کرنے والے اعمال میں لگانے کی ترغیب۔
- بندوں کو اللہ کی بے شمار نعمتیں حاصل ہیں اور ہر بندے کو اللہ کے حضور اسے ملی ہوئی نعمتوں کے بارے میں جواب دینا ہوگا۔ اس لیے اسے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کی رضا کے کاموں میں ہی خرچ کرنا چاہیے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said that none among people will pass the place of reckoning, either to Paradise or Hellfire, on the Day of Judgment until he is asked about four things, which are:
First: His life; how did he let it perish and how did he spend it?
Second: His knowledge; did he seek it for the sake of Allah? Did he act upon it? Did he convey it to those entitled to it?
Third: His money; from where did he earn it? Was it lawfully or unlawfully earned? What did he spend it on? Did he spend it on what pleases Allah or on what displeases Him?
Fourth: His body, strength, wellness, and youth; how did he use them and wear them out?