’’جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآن کریم کی متشابہ آیات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں،…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65062Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 65062)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "وہی تو ہے جس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور کچھ دوسری متشابہات، یعنی ملتی جلتی ہیں۔ پھر جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور انہیں معنی پہنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالاں کہ ان کے حقیقی معنی اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ ہاں جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان پر ایمان ہے۔ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق تو صرف دانش مند ہی حاصل کرتے ہیں۔" اس آیت میں اللہ پاک نے یہ بتایا ہے کہ اسی نے اپنے نبی پر قرآن نازل فرمایا، جس میں کچھ واضح طور پر دلالت کرنے والی آیتیں ہیں، جن کے احکام معروف ومشہور ہیں اور ان میں کوئی التباس نہیں ہے۔ یہ آیتیں ہی قرآن کی اصل اور مرجع ہیں۔ اختلاف کے وقت انہی آیتوں کی طرف لوٹنا چاہیے۔ جب کہ قرآن کی کچھ آیتیں ایسی بھی ہیں، جن میں ایک سے زیادہ معانی کا احتمال پایا جاتا ہے۔ بعض لوگوں پر ان کے معانی کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے یا وہ یہ گمان کر بیٹھتے ہیں ان آیتوں کا دوسری آیتوں سے تعارض وتصادم ہے۔ پھر اللہ تعالی نے ان آیتوں کے تئیں لوگوں کے تعامل کی وضاحت فرمائی۔ چنانچہ جن لوگوں کے دل حق سے پھرے ہوئے ہیں، وہ محکم آیتوں کو چھوڑ دیتے اور (ایک سے زائد معانی پر محتمل) متشابہ آیتوں کو لےلیتے ہیں۔ اس سے ان کا مقصد شبہات پھیلانا اور لوگوں کو گمراہ کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف جو لوگ علم میں پختہ ہیں وہ ان متشابہ آیتوں کو سمجھتے ہیں اور انہیں محکم آیتوں کی طرف لوٹاتے ہیں، ان پر ایمان لاتے ہیں اور یہ اقرار کرتے ہیں کہ وہ اللہ پاک کی جانب سے ہیں، اس لیے ان کے درمیان تعارض اور التباس ناممکن ہے۔ لیکن اس سے نصیحت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو عقل سلیم کے حامل ہیں۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ اگر انہیں متشابہ آیتوں کی جستجو میں پڑے ہوئے لوگ نظر آئیں، تو جان لیں کہ یہی وہ لوگ ہیں، جن کا نام اللہ تعالی نے اس آيت میں لیا ہے : "جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے"، اس لیے ان سے دور رہیں اور ان کی باتوں پر کان نہ دھریں۔
حدیث کے فوائد
- قرآن مجید کی محکم آیتیں وہ ہیں، جن کى دلالت واضح اور جن کے معانی ظاہر ہیں اور متشابہ آیتیں وہ ہیں، جو ایک سے زائد معانی کا احتمال رکھتی ہوں اور (ان کو سمجھنے کے لیے) غور وفکر اور فہم وبصیرت کی ضرورت ہو۔
- گمراہ، بدعتی اور لوگوں کو گمراہی اور شک وشبہ میں مبتلا کرنے کی غرض سے شبہات پیدا کرنے والوں کی صحبت میں رہنے کی ممانعت۔
- آیت کا اختتام اللہ کے فرمان "کسی چیز سے صحیح سبق تو صرف دانش مند ہی حاصل کرتے ہیں" سے کر کے دراصل گمراہ لوگوں کی مذمت اور گہرے علم والے لوگوں کی تعریف کی گئی ہے۔ یعنی یہ کہا گیا ہے کہ جس نے نصیحت حاصل نہیں کی اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلتا رہا، وہ عقل مندوں میں سے نہیں ہے۔
- متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑنا دل کی گمراہی کا سبب ہے۔
- جن متشابہ آیتوں کا معنی و مفہوم سمجھنے میں دشواری ہو، انہیں محکم آیتوں کی طرف لوٹانا واجب ہے۔
- اللہ پاک نے قرآن کی بعض آیتوں کو محکم اور بعض کو متشابہ بنایا ہے، تاکہ لوگوں کی آزمائش ہوسکے اور اہل ایمان اور اہل ضلالت میں فرق ہو سکے۔
- قرآن میں متشابہ آیتوں کے پیچھے یہ مصلحت کار فرما ہے کہ عام لوگوں کی مقابلہ میں علماء کی فضیلت آشکارا ہو سکے اور لوگوں کو اپنی عقل کی کوتاہی معلوم ہوسکے، تاکہ وہ اپنے رب کے سامنے سر تسلیم خم کردیں اور اپنی عاجزی کا اعتراف کریں۔
- علم میں پختگی کی فضیلت اور اس پر ثابت قدم رہنے کی ضرورت۔
- { وما يعلم تأويله إلا الله والراسخون في العلم } اس آیت میں (اللہ) پر وقف کرنے سے متعلق مفسرین کے دو اقوال ہیں۔ جو (اللہ) پر وقف کے قائل ہیں، ان کے نزید تاویل سے مراد چیز کی حقیقت و کیفیت اور اس چیز کا علم ہے، جس کا حصول ناممکن ہے۔ جیسے روح اور قیامت جیسی چیزیں، جن کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ علم میں پختگی رکھنے والے اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی حقیقت کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔ اس طرح وہ (بے جا تاویل سے) بچ جاتے ہیں اور (دوسروں کو بھی گمراہی سے) بچا لیتے ہیں۔ البتہ جو وصل کے قائل ہیں اور (اللہ) پر وقف نہیں کرتے، ان کے نزدیک تاویل سے مراد تفسیر اور وضاحت ہے۔ ان کے نزدیک معنی یہ ہے کہ اللہ اسے جانتا ہے اور علم میں پختگی رکھنے والے بھی اسے جانتے ہیں۔ چناں چہ وہ ان پر ایمان رکھتے اور انہیں محکم آیتوں کی طرف لوٹاتے ہیں۔
Explanation
The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) recited this verse: {It is He Who has sent down to you the Book. In it are definite verses, which are the foundation of the Book, while others are ambiguous. Those with deviant hearts follow the ambiguous verses, seeking discord and seeking their [false] interpretation. But no one knows their [true] interpretation except Allah. And those who are well-grounded in knowledge say: "We believe in it. It is all from our Lord." None will take heed except people of understanding.} Allah Almighty says in this verse that it is He Who sent down the Qur’an to His Prophet and that it contains clear verses that give specific unambiguous rulings; these serve as the foundation and points of reference of the Book, and they are to be referred to when differences arise. And it contains other verses that may give a number of potential meanings, over which people may get confused or they may think there is a contradiction between one of those verses and another verse. Then, Allah points out how people deal with those verses. Those whose hearts are deviated from the truth abandon the definite verses and turn to the ambiguous ones, thereby seeking to create misconceptions and mislead people. On the other hand, those well-grounded in knowledge know these ambiguous verses and refer them to the definite ones, believing in them and that they are from Allah Almighty and that they cannot be confusing or contradictory. But no one remembers this or takes heed from it except the people of sound minds. Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) told the Mother of the Believers ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) that, if she saw those who follow the ambiguous verses, then indeed they are the ones named by Allah in the verse that reads: {Those with deviant hearts}; so, beware of them and do not listen to them.