جامع ترمذی
Jami' at-Tirmidhi

انہوں نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہے، تمہاری نافرمانی کی ہے اور تم سے جو جھوٹ بولا ہے، ان سب کا شمار و حساب ہو گا…

Da'if (ضعیف) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
65065Da'if ضعیف
عَنْ ‌عَائِشَةَ رضي الله عنها: أَنَّ رَجُلًا قَعَدَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لِي مَمْلُوكِينَ يَكْذِبُونَنِي وَيَخُونُونَنِي وَيَعْصُونَنِي، وَأَشْتُمُهُمْ وَأَضْرِبُهُمْ، فَكَيْفَ أَنَا مِنْهُمْ؟ قَالَ: «يُحْسَبُ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَكَذَّبُوكَ وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ، فَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ كَانَ كَفَافًا، لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ دُونَ ذُنُوبِهِمْ كَانَ فَضْلًا لَكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمُ اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ»، قَالَ: فَتَنَحَّى الرَّجُلُ فَجَعَلَ يَبْكِي وَيَهْتِفُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا تَقْرَأُ كِتَابَ اللهِ: {وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا}، الْآيَةَ»، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَجِدُ لِي وَلهُمْ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ مُفَارَقَتِهِمْ، أُشْهِدُكَ أَنَّهُمْ أَحْرَارٌ كُلُّهُمْ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی اکرمﷺ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول! میرے دو غلام ہیں، جومجھ سے جھوٹ بولتے ہیں، میرے مال میں خیانت کرتے ہیں اور میری نافرمانی کرتے ہیں۔ جب کہ میں انہیں گالیاں دیتا ہوں اور مارتا ہوں۔ میرا ان کا نپٹارا کیسے ہو گا؟ آپﷺ نے فرمایا : ’’انہوں نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہے، تمہاری نافرمانی کی ہے اور تم سے جو جھوٹ بولا ہے، ان سب کا شمار و حساب ہو گا اور تم نے انہیں جو سزائیں دی ہیں ان کا بھی شمار و حساب ہو گا۔ اب اگر تمہاری سزائیں ان کے گناہوں کے بقدر ہوئیں تو تم اور وہ برابر برابر چھوٹ جاؤ گے۔ نہ تمہارا حق ان پر رہے گا اور نہ ان کا حق تم پر۔ اور ا گر تمہاری سزا ان کے قصور سے کم ہوئی تو تمہارا فضل و احسان ہو گا۔ اور اگر تمہاری سزا ان کے گناہوں سے زیادہ ہوئی تو تجھ سے ان کے ساتھ زیادتی کا بدلہ لیا جائے گا"۔ (یہ سن کر) وہ شخص زور زور سے روتا ہوا واپس ہو گیا، تو آپﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم کتاب اللہ نہیں پڑھتے؟ (جس میں لکھا ہے : ) "قیامت کے دن ہم درمیان میں لا رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو۔ پھر کسی پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا"۔ اس شخص نے کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے اور ان کے لیے اس سے بہتر اورکوئی بات نہیں پاتا کہ ہم ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں۔ میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سب آزاد ہیں۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) reported: A man came and sat in front of the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) and said: "O Messenger of Allah, I have two slaves who lie to me, deceive me, and disobey me, and I scold them and hit them. So what is my case concerning them?" He said: "The extent to which they betrayed you, disobeyed you, and lied to you will be measured against how much you punish them. If your punishing them is equal to their sins, the two will be the same, nothing for you and nothing against you. If your punishing them is above their sins, some of your rewards will be taken from you and given to them." The man left, and began weeping and crying aloud. The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) said: "You should read what Allah says in His Book: {We will place the scales of justice on the Day of Resurrection, and no soul will be wronged in the least. Even if a deed is the weight of a mustard seed, We will bring it forth. Sufficient are We as Reckoners.} [Surat al-Anbiyā': 47]" Thereupon, the man said: "By Allah, O Messenger of Allah, I see nothing better for myself and them than parting with them. Bear witness that they are all free."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
جامع ترمذیJami' at-Tirmidhi
Original wording: رواه الترمذي
2Grade درجہ
Da'if ضعیف
Weak: chain has a defect, not used as proof
کمزور: سند میں کمزوری، دلیل نہیں
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65065

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے غلاموں کی نازیبا حرکتوں کی شکایت کرنے لگا کہ اس کے غلام بات کرتے وقت اس سے جھوٹ بولتے ہیں، امانت میں اس کی خیانت کرتے ہیں، معاملات میں اس کے ساتھ فریب کرتے ہیں اور اس کا حکم نہیں مانتے۔ جب کہ ان کو راہ راست پر لانے اور ان کی سرزنش کرنے کے لیے انہیں گالی دیتا اور مارتا پیٹتا ہے۔ اس شخص نے آپ سے دریافت کیا کہ قیامت کے دن ان غلاموں کے ساتھ اس کی کیا حالت ہوگی؟ تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: انہوں نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہے، تمہاری نافرمانی کی ہے اور تم سے جو جھوٹ بولا ہے، لہذا ان سب کا شمار و حساب ہو گا اور تم نے انہیں جو سزائیں دی ہیں ان کا بھی شمار و حساب ہو گا۔ اب اگر تمہاری سزائیں ان کے گناہوں کے بقدر ہوئیں، تو نہ تمہارا حق ان پر رہے گا اور نہ ان کا حق تم پر۔ جب کہ ا گر تمہاری سزا ان کے قصور سے کم ہوئی، تو یہ تمھارے اجر و ثواب میں اضافے کا باعث بنے گا۔ لیکن اگر تمہاری سزا ان کے گناہوں سے زیادہ ہوئی، تو تجھ سے قدر زائد لے کر ان کو دے دیا جائے گا۔ (یہ سن کر) وہ شخص زور زور سے رونے لگا۔ اس کی یہ حالت دیکھ آپﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم کتاب اللہ نہیں پڑھتے؟ (اللہ نے فرمایا ہے ): {قیامت کے دن ہم درمیان میں لا رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو۔ پھر کسی پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا، تو ہم اسے لا حاضر کریں گے اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے۔" [الأنبياء: 47] یہ سن کر اس شخص نے کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے اور ان کے لیے اس سے بہتر اور کوئی بات نہیں پاتا کہ میں ان سے جدا ہو جاؤں اور انہیں چھوڑ دوں۔ میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سب اللہ کی رضا کی خاطر آزاد ہیں، فقط اس لیے کہ حساب وکتاب اور عذاب سے محفوظ رہ سکوں۔

حدیث کے فوائد

  • عذاب الہی کے خوف سے اس صحابی نے اپنے غلاموں کو صدق دلی کے ساتھ آزاد کر دیا۔
  • ظالم سے اس کے ظلم کے برابر یا اس سے کم قصاص (بدلہ) لینا جائز ہے، لیکن زیادتی کرنا حرام ہے۔
  • خادموں اور کمزور وناتواں لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ترغیب۔

Explanation

A man came to the Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him) and complained about the bad behaviors of his slaves, mentioning that they lie to him, deceive him, and disobey his orders; whereas he curses them and disciplines them by beating. So, he asked the Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him) about his condition on the Day of Judgment in relation to them. In response, the Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him) said: The extent to which they betrayed you, disobeyed you, and lied to you will be measured against how much you punished them. If their sins and your punishment are equal in amount, nothing is due to you or upon you. But if your punishment is greater than their sins, you will be held accountable, and the excess amount will be taken from your good deeds and will be given to them. The man went aside and started to weep and cry. Thereupon, the Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him) said to him: Do you not read this in the Book of Allah: {We will place the scales of justice on the Day of Resurrection, and no soul will be wronged in the least.} No one will be wronged whatsoever on the Day of Judgment, and the scales will weigh people's deeds justly. So, the man said: By Allah, O Messenger of Allah, I find nothing better for me and them than leaving and parting with them. Bear witness that they are all free for the sake of Allah. This is because it would be truly hard to strike this balance and be constantly careful about such accountability. Responding to oppression falls under different categories: If retaliation is equal to the oppression, or less than that, it is valid. However, if it goes too far and exceeds the amount of oppression, it is prohibited and punishable.

Topics موضوعات