”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل بھی منقطع ہو جاتا ہے، مگر تین قسم کے عمل (کا ثواب) جاری رہتا ہے۔ صدقۂ…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65566Sahih Muslim (HadeethEnc 65566)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ انسان کی موت کے ساتھ اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ اسے موت کے بعد ثواب بس تین چیزوں کا ملتا ہے، کیوں کہ ان کا سبب وہ خود ہوتا ہے۔ یہ تین چيزیں درج ذیل ہيں:
1- ایسا صدقہ جس کا ثواب مسلسل اور ہمیشہ جارى رہے کبھی بند نہ ہو۔ جیسے وقف، مسجد کی تعمیر اور کنواں کھدوانا وغیرہ۔
2- ایسا علم جس سے لوگ بہرہ ور ہوتے رہیں۔ جیسے علمی کتابوں کی تصنیف اور کسی شخص کو تعلیم سے آراستہ کرنا، جو اس کی موت کے بعد بھی علم کی نشر و اشاعت کا کام کرتا رہے۔
3- مومن اور صالح اولاد، جو اپنے والدین کے لیے دعا کرتے رہیں۔
حدیث کے فوائد
- اہل علم کا اجماع ہے کہ انسان کو موت کے بعد جن چیزوں کا ثواب ملتا رہتا ہے، ان میں صدقۂ جاریہ، لوگوں کے لیے مفید علم اور دعا شامل ہیں۔ کچھ حدیثوں میں حج کا ذکر بھی ہوا ہے۔
- ان تین چیزوں کا ذکر بطور خاص اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ چیزیں خیر کے کاموں میں اساس کی حیثیت رکھتی ہیں اور عام طور پر اہل فضل چاہتے ہيں کہ یہ چيزیں ان کے بعد باقی رہیں۔
- ویسے تو ہر نفع بخش علم کا اجر و ثواب ملتا ہے، لیکن اس معاملے میں شرعی علم اور اس کے حصول میں مدد گار علوم سرفہرست ہیں۔
- ان تین چيزوں میں بھی سب سے زیادہ نفع بخش چیز شرعی علم ہے۔ کیوں کہ اسے سیکھنے والا اس علم سے تو مستفید ہوتا ہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ شریعت کی حفاظت بھی ہوتی ہے اور اللہ کی ساری مخلوق فیض یاب ہوتی ہے۔ علم کے اندر ایک جامعیت یہ ہے کہ اس سے آپ کے دور کے لوگوں کے ساتھ ساتھ آپ کے بعد کے لوگ بھی فیض یاب ہوں گے۔
- اولاد کی صالح تربیت کی ترغیب۔ کیوں کہ صالح اولاد اپنے والدین کو آخرت میں نفع پہنچاتی ہے۔ اس نفع رسانی کی ایک صورت یہ ہے کہ صالح اولاد اپنے والدین کے لیے دعا کرتی ہے۔
- والدین کی وفات کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی ترغیب۔ یہ بھی والدین کے ساتھ اس حسن سلوک میں شامل ہے جس سے اولاد مستفید ہوتی ہے۔
- ویسے تو دعا اولاد کے علاوہ کوئی اور کرے، تب بھی میت کو فائدہ ہوتا ہے، لیکن آپ نے بطور خاص اولاد کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ کیوں کہ کسی بھی انسان کے لیے اس کی اولاد ہی تا دم حیات دعا کرتی رہتی ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that the deeds of a person come to a halt when he dies. No good deeds are recorded for him after death, except for these three things, as he was the cause behind them:
First: Charity whose reward is enduring, permanent, and ceaseless, like endowment, building mosques, digging wells, etc.
Second: Knowledge from which people draw benefits, like authoring books of knowledge or teaching knowledge to someone, who in turn disseminates this knowledge after his teacher's death.
Third: A pious, believing child who supplicates for his parents.