’’عنقریب تم میں سے ہر شخص سے اس کا رب اس حال میں کلام فرمائے گا کہ آدمی اور اس کے رب کے درمیان کوئی ترجمان…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6615Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 6615)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ قیامت کے دن ہر مومن اللہ تعالی کے سامنے اکیلا کھڑا ہوگا اور اللہ اس سے بلاواسطہ بات کرے گا۔ دونوں کے درمیان بات کا ترجمہ کرنے کے لیے کوئی ترجمان نہيں ہوگا۔ وہ گھبراہٹ کے عالم میں دائيں بائيں دیکھے گا کہ شاید جہنم سے، جو اس کے سامنے موجود ہے، بھاگنے کا کوئی راستہ مل جائے۔ لیکن دائیں دیکھے گا تو اسے اپنے آگے بھیجے ہوئے اچھے اعمال کے سوا کچھ نظر نہيں آئے گا۔ بائیں دیکھے گا تو اسے اپنے آگے بھیجے ہوئے برے اعمال کے سوا کچھ نظر نہيں آئے گا۔ جب کہ آگے دیکھے گا، تو جہنم نظر آئے گی، جس سے وہ بچ کر نکل نہيں سکے گا، کیوں کہ اسے صراط سے گزرنا ہی پڑے گا۔ بعد ازاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اپنے اور جہنم کے بیچ صدقہ اور نیکی کے کام کو آڑ بنا لو۔ یہ چاہے کسی معمولی چيز، جیسے آدھی کھجور کا صدقہ کرکے ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث کے فوائد
- صدقہ کرنے خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، اچھے اخلاق و عادات اختیار کرنے، لطف آمیز معاملہ کرنے اور نرمی سے بات کرنے کی ترغیب۔
- اللہ تعالی قیامت کے دن اپنے بندے سے اتنا قریب ہوگا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی پردہ، کوئی واسطہ اور کوئی ترجمان نہ ہوگا۔ لہذا مومن کو اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی سے بچنا چاہیے۔
- انسان کو کسی بھی صدقے کو کم تر نہیں جاننا چاہیے۔ چاہے وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ صدقہ آگ سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informs that every believer will stand alone before Allah on the Day of Resurrection and that Allah Almighty will speak to him without an intermediary or interpreter between them to translate the words. He will look to the right and left out of extreme fear, hoping that he will find a way in which he can go and attain salvation from the Hellfire that lies in front of him. If he looks to the right side, he will see nothing but the good deeds he has sent forth. If he looks to his left, he will see nothing but the bad deeds he has sent forth. And if he looks ahead of him, he will see nothing but Hellfire and cannot turn away from it, as he must pass over the Sirāt (a bridge over Hellfire). Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Put a shield between yourselves and the Hellfire by charity and pious acts, even if it is something little, like half a date.