صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

تم سعد کی غیرت پر تعجب کرتے ہو ؟ اللہ کی قسم ! میں اس سے زیادہ باغیرت ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیور…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
8296Sahih صحیح
عن المغيرة بن شعبة رضي الله عنه مرفوعاً: قال سعدُ بنُ عُبَادة رضي الله عنه : لو رأيتُ رجلًا مع امرأتي لَضربتُه بالسيف غير مُصْفِح عنه، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: «أتعجبون من غَيْرة سعد، فوالله لأنا أغير منه، واللهُ أغير مني، من أجل غَيْرة الله حَرَّم الفواحش، ما ظهر منها، وما بطن، ولا شخص أغير من الله، ولا شخص أحبّ إليه العُذر من الله، من أجل ذلك بعث الله المرسلين، مُبشِّرين ومنذِرين، ولا شخص أحبّ إليه المِدحةَ من الله، من أجل ذلك وعد الله الجنة».
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھوں تو میں اسے تلوار کو اس سے موڑے بغیر (دھار کو دوسری طرف کئے بغیر سیدھی تلوار) ماروں گا۔ رسول اللہ ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا ” تم سعد کی غیرت پر تعجب کرتے ہو ؟ اللہ کی قسم ! میں اس سے بھی زیادہ باغیرت ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے اللہ نے غیرت کی وجہ سے ہی ان تمام فواحش کو، ان میں سے جو علانیہ ہیں اور جو پوشیدہ ہیں سب کو حرام ٹھہرایا ہے اور اللہ سے زیادہ کوئی شخص غیور نہیں نیز اللہ سے زیادہ کسی شخص کو معذرت پسند نہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے رسول بھیجے ہیں اور اللہ سے زیادہ کسی کو تعریف پسند نہیں، اسی لیے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Al-Mughīrah ibn Shu‘bah (may Allah be pleased with him) reported: Sa‘d ibn ‘Ubādah (may Allah be pleased with him) said: "If I saw a man with my wife, I would strike him with my bare sword." That statement reached the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him), who said: "Are you astonished at the jealousy of Sa‘d? I swear by Allah, I am more jealous than him, and Allah is more jealous than me. Because of His jealousy, Allah has prohibited immorality, the apparent and the hidden thereof. There is no (Shakhs) one who is more jealous than Allah, and no (Shakhs) one loves warning more than Allah. That is why Allah sent the messengers as bearers of glad tidings and as warners. No (Shakhs) one loves to be praised more than Allah, and for that reason Allah has promised Paradise."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8296

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

سعد بن عُبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا اگر میں کسی شخص کو اپنی عورت کے ساتھ دیکھ لوں تو میں تلوار کی سیدھی دھار کے ساتھ اس کی گردن اڑا دوں، یعنی اسے قتل کرنے میں توقّف نہ کروں۔ آپ ﷺ نے انہیں اس بات پر قائم رکھتے ہوئے فرمایا کہ میں سعد سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالی مجھ سے زیادہ غیور ہے۔ غیرت، اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے اور اللہ کی غیرت مخلوق کی غیرت کی طرح نہیں، بلکہ اللہ کی عظمت کے مطابق ہے جیسے غصہ اور رضامندی اور دیگر اللہ کی خصوصیات جن میں لوگ اللہ کے ساتھ شریک نہیں۔ لغت میں شخص کا معنی خاص، بلند اور ظاہر ہونے کے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے ظاہر، عظمت والے اور بڑا ہے۔ اہل سنت و جماعت جو قرآن و سنت کو لازم پکڑتے ہیں ان کے اصول کے مطابق اللہ تعالیٰ کے لیے غیرت کا لفظ بولنا ممنوع نہیں۔
پھر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ” اللہ نے غیرت کی وجہ سے ہی ان تمام فواحش کو، ان میں سے جو علانیہ ہیں اور جو پوشیدہ ہیں سب کو حرام ٹھہرایا ہے“ یعنی یہ اللہ کی غیرت ہی کا اثر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فُحش کاموں کے قریب جانے سے اپنے بندوں کو روک دیا ہے۔’فُحش‘ سے مُراد کام جن کی شناعت اور بُرا ہونا پاکیزہ لوگوں اور عقل سلیم والوں کے ہاں مسلم ہو جیسے زنا۔ ظاہر سے مُراد اعلانیہ کیے جانے والے تمام گناہ اور وہ گناہ ہیں جن میں اعضاء کا براہِ راست دخل ہوتا ہے اگرچہ وہ پوشیدہ ہی ہوں۔ اور باطن سے مُراد جو پوشیدہ ہوں اور دلوں میں ہوں۔
”اللہ سے زیادہ کوئی شخص غیور نہیں نیز اللہ سے زیادہ کسی شخص کو معذرت پسند نہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے رسول بھیجے ہیں“ یعنی اللہ نے پیغمبروں کو لوگوں کی طرف عذاب سے پہلے ڈرانے اور خوشخبری دینے کے لیے بھیجا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿رُّسُلاً مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلاَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ﴾ ”ہم نے انہیں رسول بنایا ہے، خوشخبریاں سنانے والے اور آگاه کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر ره نہ جائے“۔
” اور اللہ سے زیادہ کسی کو تعریف پسند نہیں، اسی لیے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے“ یہ اللہ تعالیٰ کے کاملِ مطلق ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف سے اپنے فضل اور سخا کی ثنا و تعریف سے خوش ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ہر طرح کی نعمت دے کر سخاوت کا مظاہرہ کیا جس سے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں، اور نعمتوں پر شکر ادا کرنے سے وہ خوش ہوتا ہے۔ لوگ جب بھی اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں تو وہ اس میں اللہ تعالیٰ کا حق ادا نہیں کر سکتے، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف خود بیان کی اور جنت کا وعدہ کیا تاکہ لوگ اللہ سے زیادہ مانگیں اور اس زیادہ سے زیادہ حمد و ثنا بیان کریں اور اپنی استطاعت کے مطابق اس کی کوشش کریں۔ اس لیے کہ جنت تمام انعامات کی انتہا ہے۔

Explanation

Sa‘d ibn ‘Ubādah (may Allah be pleased with him) said that if he saw a man with his wife, he would strike him with the sharpest part of his sword, i.e. he would kill him immediately without hesitation. The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) approved of what he said and informed that he is more jealous than Sa‘d, and that Allah is more jealous than him. The jealousy of Allah, the Almighty, is one of Allah’s attributes which are peculiar to Him, not the same jealousy of the creatures. Rather, it is an attribute befitting His grandeur, like anger, pleasure, and other attributes that are unique to Him. The linguistic meaning of 'Shakhs' is whatever is elevated and prominent, and Allah, Exalted, is more prominent, mightier, and greater than everything. So, there is no problem in referring to Allah, the Almighty, by this word, as per the principle of Ahl As-Sunnah, who restrict themselves to what Allah and His Messenger said.
Then the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) said: “Because of His jealousy, Allah has prohibited immorality, the apparent and the hidden thereof”, i.e. one of the effects of Allah’s jealousy is that He has forbidden His slaves from approaching immorality, which includes whatever is regarded as heinous and obscene by purified souls and intact minds, such as fornication. The apparent forms of immorality include what is done in public, and what is committed by the body organs, albeit secretly. The hidden forms include what is done in private and what the hearts conceal.
“No one loves warning more than Allah. That is why Allah sent the messengers as bearers of glad tidings and as warners”, i.e. He sent the Messengers to warn His slaves before exacting punishment upon them, as He said (what means): {Messengers as bearers of good news as well as of warning in order that mankind should have no plea against Allah after the Messengers.} [Sūrat An-Nisā': 165]
“No one loves to be praised more than Allah, and for that reason Allah has promised Paradise." This is due to His absolute perfection. He, Exalted, likes His slaves to praise and commend Him for His grace and generosity. For that reason, He bestowed upon them every favor that they could enjoy, and He is pleased with them when they praise Him for that. No matter how much they praise and commend Him, it could never amount to what He deserves of praise and commendation. That is why He praised Himself, and promised Paradise, to be more frequently asked, praised and commended by His slaves. They have to exert as much effort as they can seeking Paradise, which is the ultimate favor.

Topics موضوعات