کوئی شخص کسی دوسرے شخص پر فسق اور کفر کی تہمت نہ لگائے، کیوں کہ اگر وہ ایسا نہ ہوا تو یہ تہمت اسی کی طرف لوٹ…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8883Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 8883)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے خبردار کیا ہے کہ کوئی کسی سے یہ کہے کہ تم فاسق ہو یا تم کافر ہو۔ کیوں کہ سامنے والا شخص اگر فاسق یا کافر نہ ہو، تو کہنے والا ہی اس صفت کا حق دار ہو جائے گا اور اس کی کہی ہوئی بات اسی کی جانب لوٹ جائے گی۔ البتہ اگر اس کی کہی ہوئی بات درست ہو تو کہنے والے کا کوئی نقصان نہيں ہوگا کیوں کہ اس کی کہی ہوئی بات سچی ہے۔
حدیث کے فوائد
- کسی شرعی جواز کے بغیر کسی کو کافر یا فاسق کہنا حرام ہے۔
- لوگوں کے بارے میں احکام صادر کرنے سے پہلے ان کے بارے میں تفتیش ضروری ہے۔
- ابن دقیق عید کہتے ہيں: کسی شخص کو، جو سچ مچ کافر نہ ہو، کافر کہنے والے کے لیے یہ بہت بڑی وعید ہے۔
- ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں: کسی کو کافر یا فاسق کہنے سے اس کے فاسق یا کافر نہ ہو جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ ایسا کہنے کی وجہ سے گناہ گار نہیں ہوگا۔ دراصل اس کی تھوڑی سی تفصیل ہے۔ اگر سامنے والے کی خیرخواہی یا اس کا حال بتاکر کسی اور کی خیرخواہی کرنا مقصد ہو، تو جائز ہے۔ اگر عار دلانا، بدنام کرنا اور تکلیف دینا مقصد ہو، تو جائز نہيں ہے۔ کیوں کہ حکم پردہ پوشی کرنے، تعلیم دینے اور سمجھانے بجھانے کا ہے اور یہ کام نرمی سے ہو جائے، تو سختی سے کرنا جائز نہیں ہے۔ سختی کرنے سے کبھی کبھی انسان بھڑک جاتا ہے اور اصرار کرنے لگتا ہے۔ کیوں کہ بہت سے لوگوں کی طبیعت میں انانیت ہوتی ہے، جو خاص طور سے اس وقت جاگ اٹھتی ہے، جب بتانے والا سامنے والے سے کم مقام و مرتبے والا ہو۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) warned that whoever says to another person: You are a defiant sinner, or: You are a disbeliever, if this person is not as he said, then he will be worthy of this mentioned description, and his accusation will rebound on him. However, if this person is as he said, then nothing will rebound on him given that he said the truth.