سنن ابو داؤد · جامع ترمذی · مسند احمد
Sunan Abi Dawud · Jami' at-Tirmidhi · Musnad Ahmad

یوں نہ کہو کہ ’عليكَ السلامُ‘، کیونکہ ’علیک السلام‘ سے تو مُردوں کو سلام کیا جاتا ہے، اس کے بجائے ’السلام…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
4952Sahih صحیح
عن أبي جرَيٍّ جابر بن سُلَيْمٍ رضي الله عنه قال: رأيت رجلاً يصْدُرُ الناس عن رأيه، لا يقول شيئاً إلا صدروا عنه، قلت: من هذا؟ قالوا: رسول الله صلى الله عليه وسلم . قلت: عليك السلام يا رسول الله - مرتين - قال: «لا تقل: عليك السلام، عليك السلام تحية الموتى، قل: السلام عليك» قال: قلت: أنت رسول الله؟ قال: «أنا رسول الله الذي إذا أصابك ضُرٌّ فدعوته كشفه عنك، وإذا أصابك عام سَنَةٍ فدعوته أنْبَتَهَا لك، وإذا كنت بأرض قَفْرٍ أو فَلَاةٍ فَضَلَّتْ راحلتك، فدعوته ردها عليك» قال: قلت: اعْهَدْ إِليَّ. قال: «لا تَسُبَنَّ أحداً» قال: فما سَبَبْتُ بعده حُرًّا، ولا عبداً، ولا بعيراً، ولا شاة، «ولا تحْقِرَنَّ من المعروف شيئاً، وأن تكلم أخاك وأنت مُنْبَسِط إليه وجهك، إنَّ ذلك من المعروفِ، وارفعْ إزارك إلى نصف الساق، فإِنْ أبيت فإلى الكعبين، وإياك وإسبال الإزار، فإنها من المَخِيلَةِ. وإِنَّ اللهَ لا يحب المَخِيلَةَ؛ وإِنِ امرُؤٌ شتمك وعَيَّرَكَ بما يعلم فيك فلا تُعَيِّرْهُ بما تعلم فيه، فإِنَّما وبال ذلك عليه».
ابوجری رضی اللہ عنہ جن کا نام جابر بن سلیم ہے کہتے ہیں کہ (جب میں مدینہ آیا تو) میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کی رائے کو قبول کرتے ہیں جب بھی وہ کوئی بات کہتا ہے لوگ اسی کو تسلیم کرتے ہیں، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دو مرتبہ یہ کہا ’علیک السلام يا رسول اللہ‘۔ رسول کریم ﷺ نے یہ سن کر کہا کہ ’علیک السلام‘ نہ کہو، یہ مُردوں کا سلام ہے اس کے بجائے ’السلام علیک‘ کہو! اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ کیا آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں میں اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف و مصیبت پہنچے اور تم اسے پکارو تو وہ تمہاری تکلیف و مصیبت کو دور کرے، اگر تمہیں قحط سالی اپنی لپیٹ میں لے لے اور تم اسے پکارو تو وہ تمہارے لیے سبزہ (غلہ وغیرہ) اگادے اور اگر تم کسی بے آب و گیاہ زمین میں، یا کسی ایسے جنگل میں ہو جو آبادی سے دور ہو اور تم اپنی سواری گم کر بیٹھو اور پھر تم اسے پکارو تو وہ تمہاری سواری تمہارے پاس واپس بھیج دے۔ جابر کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت فرما دیجیے! آپ ﷺ نے فرمایا کسی کو برا بھلا نہ کہو۔ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کسی کو برابھلا نہیں کہا نہ آزاد کو، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو اور نہ بکری کو۔
کسی بھی نیکی کو حقیر نہ جانو اور جب تم اپنے کسی بھائی سے ملاقات کرو تو خندہ پیشانی اختیار کرو کیونکہ یہ بھی ایک نیکی ہے اور تم اپنی ازار (یعنی پاجامہ، لنگی وغیرہ) کو نصف پنڈلی تک اونچی رکھو، اگر اتنی اونچی رکھنا تمہیں پسند نہ ہو تو ٹخنوں تک رکھو مگر (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے سے بچو! اس لیے کہ (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانا تکبر کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔ نیز اگر کوئی شخص تمہیں گالی دے اور تمہارے کسی ایسے عیب پر تمہیں عار دلائے جسے وہ جانتا ہے تو تم انتقاما اس کے کسی عیب پر جسے تم جانتے ہو اسے عار نہ دلاؤ کیونکہ اس کا گناہ اسے ہی ملے گا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Jarai Jābir ibn Sulaym (may Allah be pleased with him) reported: I saw a man whose opinion was followed by the people, and whenever he said something they acted in accordance to what he said. I asked: "Who is that?" They said: "The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him)." I said to him twice: "Upon you be peace, O Messenger of Allah." He said: "Do not say 'upon you be peace'; 'Upon you be peace' is how you greet the dead. Say instead 'peace be upon you.'"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4952

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کے پاس لوگ آتے اور وہ جو کچھ وہ کہتا اس پر عمل کرتے ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں ۔ اس پر میں کہنے لگا کہ ’عليك السلام يا رسول الله، عليك السلام يا رسول الله‘‘۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علیک السلام نہ کہو۔ یہ تو مردہ لوگوں کا سلام ہے ۔ اس کے بجائے ’السلام علیک‘ کہو۔ میں نے پوچھا: کیا آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ ہاں ۔ یعنی میں ہی ہوں جسے اللہ نے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ وہ اللہ کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف و مصیبت پہنچے اور تم اسے عاجزی و لاچاری کے ساتھ پکارو تو وہ تم سے وہ مصیبت دور کردے۔اور اگرخشک سالی آن پڑے اور زمین سے کچھ پیدا نہ ہو اور تم اسے پکارو تو وہ اس میں تہمارے لیے غلہ اگا کر بڑا کردے ۔ اگر تم کسی ایسی زمین میں ہو جہاں نہ پانی ہے اور نہ کسی انسان کا نام و نشان اور تم اپنی سواری گم کر بیٹھو اور پھر تم اسے پکارو تو وہ تمہاری سواری کو تم تک لوٹا دے ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ مجھے کوئی ایسی نصیحت فرما دیں جو میرے لیے سود مند ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’’کسی کو برا بھلا مت کہو۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس کے بعد کسی کو برا بھلا نہیں کہا۔ نہ کسی آزاد انسان کو اور نہ کسی غلام کو ۔ نہ اونٹ کو اور نہ بکری کو ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کسی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر اسے نہ چھوڑو۔ اورچہرے کی بشاشت کے ساتھ اپنے بھائی سے ملنے کو ہیچ نہ جانو کیونکہ یہ بھی نیکی ہے۔ اپنی ازار اور دیگر لباس کو نصف پنڈلی تک اونچا رکھو۔ اگر ایسا نہ کرسکو تو پھر ٹخنوں تک اونچا رکھو۔ ٹخنوں اور نصف پنڈلی کے درمیان رکھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اور اپنی ازار کو (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے سے پرہیز کرو کیونکہ یہ تکبر اور خودپسندی کی علامت ہے اور اللہ کو یہ پسند نہیں ۔اگر کوئی تمہیں برا بھلا کہے یا پھر تمہیں تمہارے گناہ اور برے افعال یاد دلا کر عار دلائے تو تم اس کی برائیوں کے ساتھ اسے عار مت دلاو۔ کیونکہ روز قیامت اس کا وبال اسی پر ہوگا اور ممکن ہے کہ اس کا کچھ حصہ دنیا میں بھی اس پر آجائے۔

Explanation

Jābir ibn Sulaym (may Allah be pleased with him) reported that he saw a man whose opinion was followed by everyone and no one would contradict what he said. He asked the people who he was and they replied that he is the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). So he greeted him twice, saying: "Upon you be peace, O Messenger of Allah." The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) answered: "Do not say 'upon you be peace'; 'Upon you be peace' is how you greet the dead. Say instead 'peace be upon you.'" Jābir then asked: "Are you the Messenger of Allah?" He said: "Yes, I am the Messenger of Allah." i.e. I am he who was sent by Allah; Allah is He who will lift your affliction when you call upon him if you're afflicted with poverty or a calamity, who will cause the plants to grow to give you food when you call upon him at times of famine, and who will restore to you your riding animal when you call upon him if it has abandoned you in a desolate land in which there are no people and no water. Jābir then asked him to give him advice, and he told him not to curse anyone. Jābir said that he never cursed anyone since then, neither a freeman, nor a slave, nor a camel, nor a sheep. The Messenger of Allah then told him: Do not look down upon any good deed or refrain from doing it because you think it is insignificant, even addressing your fellow Muslim with a cheerful face for that is an act of goodness. Keep the length of your Izār (waist sheet) midway down the shin (and not farther). If not, then down to the ankles (but not lower than that). There is no harm in letting the garment reach between the ankles and halfway up the shin, but beware of letting your garment trail lower than that for it represents arrogance and pride, and Allah, the Almighty loathes this. If someone insults you mentioning your sins and bad deeds that you commit, do not insult him back with his own sins and bad deeds. He will receive punishment for what he said on the Day of Judgment and he may even see some of his punishment in the life of this world.

Topics موضوعات