وہ قضا نہیں کریں گی۔ نبی ﷺ کی (رشتہ دار) خواتین میں سے کوئی عورت چالیس دن تک نفاس میں رہتی اور آپ ﷺ اسے مدتِ…
Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وفي رواية: و«كنا نطلي على وُجُوهنا بِالوَرْسِ -تعني- من الكَلَف».
ایک اور روایت میں ہے کہ ہم جھائیوں کو دور کرنے کے لیے اپنے چہروں پر وَرس (ایک قسم کا پودا جو رنگائی کے کام ميں لايا جاتا ہے ) ملا کرتی تھیں۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiمسند احمدMusnad Ahmadسنن دارمیSunan ad-DarimiOriginal wording: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10008Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi & Musnad Ahmad & Sunan ad-Darimi (HadeethEnc 10008)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ہماری ماں ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عظیم القدر صحابی سمره بن جندب رضی اللہ عنہ کے فتوے کی اصلاح فرمائی جب انہوں نے عورتوں پر لازم قرار دیا کہ وہ مدتِ حیض میں چھوٹ جانے والی نمازوں کی قضا کریں۔ تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ قضا نہیں کریں گی، یعنی نماز کی قضا نہیں کریں گی۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے اس فتوے کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا: نبی ﷺ کی رشتہ دار خواتین میں سے کوئی عورت چالیس دن تک نفاس میں رہتی اور آپ ﷺ اسے مدتِ نفاس کی نمازوں کو قضا کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔ یہاں ”نساء النبی“ سے مراد آپ ﷺ کی بیویوں کے علاوہ آپ ﷺ کی بیٹیاں اور قریبی رشتہ دار خواتین ہیں۔ ”النساء“ کا لفظ بیویوں سے عام ہے کیونکہ اس کے تحت بیٹیاں اور باقی رشتہ دار خواتین آتی ہیں۔
یہاں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے قول: ”نفاس میں رہتی …الخ“ کی وجہ سے ایک اشکال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ مسہ ازدیہ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے حالت ِحیض میں نماز پڑھنے کے حکم کے بارے میں پوچھا تھا اور انہیں بتلايا تھا کہ سمرۃ رضی اللہ عنہ ان کی قضا کا حکم دیتے ہیں، جب کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نفاس والی عورتوں کی نماز کے بارے میں جواب دیا۔
اس کا جواب دو طرح سے دیا جاسکتا ہے:
اول: جواب کے قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں حیض کے لفظ سے نفاس مراد ہے۔
دوم: ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے حالتِ نفاس کی نماز کے بارے میں جواب دیا جو مدت میں حیض سے کم ہوتا ہے۔ کیوں کہ حیض دورانِ سال بارہ دفعہ آتا ہے، جب کہ نفاس اس طرح نہیں ہوتا بلکہ وہ اس کی بنسبت بہت ہی کم ہوتا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب شارع نے حالتِ نفاس میں نماز کو معاف کر دیا جو بار بار نہیں آتا تو حالت حیض کی نمازوں کو کیسے معاف نہیں کرے گا جو بار بار آتا ہے؟!۔ واللہ اعلم۔
ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا قول: ”وكنا نطلي على وجوهنا“ یعنی ہم ملتی تھیں۔ ”الطلی“ کا معنی تیل ملنا آتا ہے۔
”الورس“ ایک زرد رنگ کا پودا ہے جس سے چہرے پر ملنے کی کریم بنائی جاتی ہے۔
”تعني من الكَلَف“ الکلف سے مراد وہ رنگ ہے جو سیاہی اور سرخی کے درميان ہوتا ہے یعنی سرخی مائل مٹیالی رنگت يا کوئی اور چيز جو چہرے پر ظاہر ہوجاتی ہے۔
Explanation
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) corrected a Fatwa given by the noble Companion Samurah ibn Jundub (may Allah be pleased with him) where he commanded women to make up for the prayers abandoned during their menses. She said: "They should not do so," citing as evidence for her opinion that "the Prophet's wives would refrain (from prayer) for forty days during postpartum bleeding, and the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) would not command them to complete the prayers abandoned during that period." There is something confusing here, as Mussah asked Umm Salamah about the ruling on prayer in terms of menses, informing that Samurah commanded women to make up for them, but Umm Salamah gave her reply involving the prayer during the postpartum period. To clear this confusion, we say: First: Menstrual period in the question was meant to refer to the postpartum period, as indicated by the reply. Second: Umm Salamah gave her reply concerning prayer during the postpartum period, which is shorter in duration than the menstrual period, for the menses occur 12 times every year, unlike the postpartum period. So, she clarified that the Almighty Lawgiver pardoned women in terms of the prayer abandoned during the postpartum period which rarely recurs; so what about the menses which come frequently; and Allah knows best.