اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، کیوں کہ مجھے جہنم کے اندر تمھاری تعداد سب سے زیادہ دیکھائی گئى ہے”۔ انہوں…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10011Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 10011)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم عید کے دن عید گاہ کی جانب نکلے۔ چوں کہ آپ نے عورتوں سے وعدہ کر رکھا تھا کہ انھیں الگ سے دین کی باتیں بتائيں گے، اس لیے اس دن وعدہ پورا کر دیا۔ اس درمیان آپ نے کہا: اے عورتو! تم صدقہ کیا کرو اور زیادہ سے زیادہ مغفرت طلب کیا کرو کہ یہ دونوں گناہوں کی معافی کے دو عظیم ترین اسباب ہیں۔ کیوں کہ میں نے اسرا کی رات جہنم کے اندر تمھاری تعداد زیادہ دیکھی۔
اتنا سننے کے بعد وہاں موجود ایک عقل وخرد کی مالک با وقار عورت نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جہنم کے اندر ہماری تعداد زیادہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟
آپ نے جواب دیا: اس کی کئی وجوہات ہیں: تم بہ کثرت لعن طعن اور گالی گلوج کرتی ہو اور شوہر کے حق کا انکار کرتی ہو۔ پھر آپ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم (عورتوں) سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقل مند، دور اندیش اور ضبط کے مالک شخص کی عقل کو ماؤف کر دینے والا نہيں دیکھا۔
اس عورت نے عرض کیا: ہماری عقل اور ہمارے دین کی کمی کہاں سے عیاں ہوتی ہے؟
آپ نے فرمایا: جہاں تک عقل کی کمی کی بات ہے، تو دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے۔ یہ عقل کی کمی ہوئی۔ جب کہ دین کی کمی یہ ہے کہ اس کے اعمال صالحہ نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ حیض کی وجہ سے وہ کئی دنوں تک نماز نہیں پڑھتی اور رمضان میں اس کے کئی روزے چھوٹ جاتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ یاد رہے کہ حیض کی وجہ سے نماز اور روزہ چھوڑنے کی بنا پر عورت کو برا بھلا نہیں کہا جائے گا اور اس کی پکڑ بھی نہیں ہوگی۔ کیوں کہ یہ فطری چیز ہے۔ بالکل ویسے ہی، جیسے انسان فطری طور پر مال کا گرویدہ، جلد باز اور نادان ہوا کرتا ہے… لیکن آپ نے اس کی تنبیہ فرمائی تاکہ عورتوں کے فتنے میں مبتلا ہونے سے ہوشیار رہا جائے۔
حدیث کے فوائد
- عورتوں کا عید کی نماز کے لیے نکلنے اور ان کے لیے الگ سے وعظ ونصیحت کا بندوبست کرنا مستحب ہے۔
- اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر کی نافرمانی اور کثرت سے لعنت کرنا گناہ کبیرہ ہے؛ کیوں کہ جہنم کی دھمکی اس بات کی علامت ہے کہ یہ گناہ کبیرہ ہے۔
- اس حدیث میں ایمان کے بڑھنے اور گھٹنے کا بیان ہے۔ لہذا جس نے اپنی عبادت کو بڑھایا اس کے ایمان اور دین میں اضافہ ہوا اور جس نے اپنی عبادت میں کمی کی اس کے دین میں کمی آئی۔
- نووی کہتے ہیں: عقل میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ایمان میں بھی کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ عورتوں کے اندر موجود کمی کو بیان کرنے کا مقصد اس پر ان کی ملامت کرنا نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ کمی ان کے اندر فطری طور پر موجود ہے۔ یہاں اسے بیان کرنے کا مقصد ان کے فتنے میں پڑنے سے آگاہ کرنا ہے۔ اسی وجہ سے عذاب کی وجہ شوہر کی ناشکری بتائی گئی ہے، ان کے اندر موجود کمی نہيں۔ دین کی کمی کا انحصار انھیں باتوں پر نہيں ہے جن سے گناہ ہوتا ہے، بلکہ اس کا دائرہ اس سے کہيں زیادہ وسیع ہے۔
- اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر بات کا مطلب واضح نہ ہوتا ہو تو متعلم عالم سے اور تابع متبوع سے وضاحت طلب کر سکتا ہے۔
- اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کی گواہی مرد کے مقابلے میں آدھی ہے، کیوں کہ اس کے اندر ضبط وحافظہ کی کمی پائی جاتی ہے۔
- ابن حجر عسقلانی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث "مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ" کے بارے میں لکھتے ہیں: مجھے لگتا ہے جہنم کے اندر عورتوں کی اکثریت ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے۔ کیوں کہ جب یہ عورتیں عقل مند انسان کی عقل کو ماؤف کر دینے کا سبب ہیں، جس کے نتیجے میں وہ نامناسب بات یا نامناسب کام کر بیٹھتا ہے، تو گویا کہ اس گناہ میں وہ بھی شریک ہوئیں۔
- عورت کے لیے حیض کے ایام میں نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا حرام ہے۔ یہی حال نفاس والی عورت کا بھی ہے۔ دونوں پاک ہو جانے کے بعد روزے کی قضا کریں گی، نماز کی نہیں۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن اخلاق کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر کسی پھٹکاروملامت کے خواتین کے سوالوں کے جواب مرحمت فرمادیے۔
- ابن حجر کہتے ہيں: صدقہ عذاب کو دور کرتا ہے۔ وہ کبھی کبھی مخلوقوں کے درمیان ہونے والے گناہ کو بھی مٹا دیتا ہے۔
- نووی کہتے ہيں: عورتوں کا دینی نقص حیض کے دنوں میں نماز اور روزہ چھوڑنے کی وجہ سے ہے۔ کیوں کہ جس کی عبادت زیادہ ہوتی ہے، اس کا دین اور ایمان بڑھ جاتا ہے۔ اس کے برخلاف جس کی عبادت کم ہوتی ہے، اس کے دین میں کمی آجاتی ہے۔ پھر دینی نقص کبھی گناہ کا سبب بن جاتا ہے۔ جیسے نماز اور روزہ جیسی واجب عبادتوں کو بلا عذر چھوڑ دینا۔ کبھی گناہ کا سبب نہیں بھی بنتا۔ جیسے ایسے شخص کا جمعہ اور جہاد چھوڑنا، جس پر دونوں واجب نہ ہوں۔ جب کہ کبھی کبھی انسان اس کا مکلف ہوتا ہے جیسے حائضہ عورت کا نماز اور روزہ چھوڑنا۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) went out to the praying area on the day of Eid. He had promised to give women a special sermon and he fulfilled his promise on that day. He said: O womenfolk, give charity and seek Allah's forgiveness frequently, as both are among the greatest means of erasing sins, for indeed, I saw you on the Night of Isrā’ forming the majority of the inhabitants of Hellfire.
Then a woman among them, who was wise, perceptive, and dignified, said: O Messenger of Allah, why do we form the majority of the inhabitants of Hellfire?
He said: For some reasons: you frequently curse and use abusive language, and you deny your husbands' rights. Then he (may Allah's peace and blessings be upon him) described them, saying: I have not seen anyone with a deficiency in intellect and religion who is more dominant over a person of wisdom, intellect, resolve, and self-control than you.
She said: O Messenger of Allah, what is the deficiency in intellect and religion?
He said: As for the deficiency of intellect, it is the fact that the testimony of two women is equivalent to the testimony of one man; this is what is meant by a deficiency in intellect. The deficiency in religion is the decrease in good deeds, for a woman spends nights and days not praying due to menstruation and fasts fewer days in Ramadan due to menstruation; this is what is meant by a deficiency in religion. However, they are not to be blamed or held accountable for that because it is part of their natural disposition, just as humans are created with an innate love for wealth, haste in their matters, ignorance, and other such traits. However, this is mentioned as a warning against being infatuated with them.