تمہارے لیے بس اتنا کرنا کافی ہے کہ تم اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لو اور پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہا لو۔ اس…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10030Sahih Muslim (HadeethEnc 10030)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بتلا رہی ہیں کہ وہ اپنے سر کے بالوں کو چوٹيوں کی صورت ميں باندھ ليا کرتی تھیں۔ انہوں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ حدثِ اکبر سے پاک ہونے کے لیے غسل (يعنى غسلِ حیض اور غسل ِجنابت) کیسے کریں؟ کیا پانی کو اندر تک پہنچانے کے لیے ان کا اپنے بالوں کو کھولنا ضروری ہے یا انھیں کھولنا ضروری نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، تمہارے لیے بس اتنا کافی ہے کہ تم اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لیا کرو“ یعنی تمہارے لیے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں ہے، بلکہ تمہارے لیے بس اتنا کافی ہے کہ تم چلو بھر کر تین دفعہ اپنے سر پر پانی ڈال لیا کرو بایں طور کہ غالب گمان ہو جائے کہ بالوں کی جڑیں تر ہو گئی ہیں، چاہے پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچے یا نہ پہنچے۔ کیونکہ اگر پانی کا بالوں کی تہ تک پہنچانا واجب ہوتا تو پھر بالوں کا کھولنا ضروری ہوتا، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ پانی اندر تک پہنچ گیا ہے یا نہیں۔
”تین چلو“ تین چلو سے معین طور پر صرف تین کا عدد مراد نہیں ہے، بلکہ پانی کو بالوں کی جڑوں تک پہنچانا مطلوب ہے۔ اگر پانی ایک ہی دفعہ میں جڑ تک پہنچ جائے تو پھر تین دفعہ ڈالنا سنت ہو گا اور اگر نہ پہنچے تو پھر اس سے زیادہ دفعہ ڈالنا واجب ہو گا یہاں تک کہ جڑوں تک پہنچ جائے اور ان کے تر ہو جانے کا غالب گمان ہو جائے۔
”پھر اپنے اوپر پانی بہا لو“ یعنی اپنے پورے بدن پر پانی بہا لو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں ہے کہ پھر تم اپنے سر پر پانی انڈیلو۔
”تم پاک ہو جاؤ گی“ سنن ابو داود وغیرہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”فإذا أنت قد طَهُرت“ (تو سمجھ لو کہ تم پاک ہو گئیں) یعنی لاحق ہونے والے حدثِ اکبر سے تم پاک ہو جاؤگی۔
حاصل یہ کہ نبی ﷺ نے انہیں فتوی دیا کہ غسلِ جنابت یا غسلِ حیض کرتے ہوئے ان کے لیے اپنے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں ہے بلکہ ان کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ تین چلو بھر کر اپنے سر پر ڈال لیں اور اپنے پورے جسم پر پانی بہا لیں۔ ا س سے وہ حدث اکبر سے پاک ہو جائیں گی۔
Explanation
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) reports that she braids her hair, so she asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) how to wash from major ritual impurity: must she undo her hair so that water reaches her scalp? The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said that it is unnecessary for her to do so. Rather, it would be sufficient to pour three handfuls of water on her head and assume that the water reaches the roots of the hair, whether the water does reach the scalp or not, because if that was necessary, the braids would have to be undone. The Hadīth, however, does not suggest that.
Three handfuls are not necessarily the exact number required; what is required is to let the water reach the roots of the hair. If it reaches them with one handful, then pouring three handfuls is an act of Sunnah. If it does not reach them even after three handfuls, then pouring more handfuls is obligatory until one believes that the hair is most probably soaked.
To summarize, the Prophet instructed Umm Salamah not to undo her hair to wash from sex or menstruation. Pouring three handfuls of water on her head then pouring water over her whole body purifies her from major ritual impurity.