صحیح مسلم
Sahih Muslim

ہمیں آپ ﷺ نے بول و براز کے وقت قبلہ رُخ ہونے سے روکا ہے۔ اسی طرح داہنے ہاتھ سے استنجا کرنے، تین سے کم پتھروں…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
10048Sahih صحیح
عن سلمان رضي الله عنه ، قال: قيل له: قد عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُم صلى الله عليه وسلم كل شيء حتى الخِرَاءَةَ، قال: فقال: أجَل «لقد نَهَانا أن نَستقبل القِبْلَة لِغَائِطٍ، أو بَول، أو أن نَسْتَنْجِيَ باليمين، أو أن نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ من ثلاثة أحْجَار، أو أن نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَو بِعَظْمٍ».
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ان سے کہا گیا کہ تمھارے نبی تمھیں ہر چیز سکھاتے ہیں، حتیٰ کہ قضائے حاجت کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں۔ سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں۔ ہمیں آپ ﷺ نے بول و براز کے وقت قبلہ رُخ ہونے سے روکا ہے، اسی طرح داہنے ہاتھ سے استنجا کرنے، تین سے کم پتھروں کے استعمال کرنے اور گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے بھی روکا ہے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Salmān (may Allah be pleased with him) reported: The polytheists said to us: I see that your companion teaches you everything, even how to relieve yourselves. He said: Yes, indeed. He forbade us from using our right hand for cleaning ourselves, or facing the Qiblah (direction of prayer), and he prohibited us from using dung and bones, and said: "None of you should clean himself with less than three stones."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10048

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

حدیث کا مفہوم:سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: ”قد عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُم ﷺ كل شيء حتى الخِرَاءَةَ“ یعنی آپ ﷺ اپنے صحابہ کو بیت الخلا میں داخل ہونے سے لے کر باہر نکلنے تک، قضاے حاجت کے آداب سکھلاتے ہیں۔ اسی میں سے قضاے حاجت کے وقت قبلے کی طرف رُخ اور پیٹھ کرنا اور داہنے ہاتھ، گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع کرنا ہے۔
ہاں! ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے بول و براز کے وقت قبلہ رُخ ہونے سے منع فرمایا کہ قضاے حاجت کے وقت قبلے کی طرف رُخ بھی نہیں کرنا چاہیے اور پیٹھ بھی۔ اس لیے کہ یہ نماز وغیرہ میں مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ یہ سب سے محترم جہت ہے، اس کی عزت اور تکریم ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿وَمَنْ يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ عِنْدَ رَبِّه﴾ ”جو کوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے اس کے اپنے لئے اس کے رب کے پاس بہتری ہے۔“ (الحج:30).
داہنے ہاتھ سے استنجا کرنا بھی ممنوع ہے۔ اس لیے کہ داہنا ہاتھ پاکیزہ، محترم اور اچھے کاموں میں استعمال ہوتا ہے۔ جن کاموں میں ذلت اور توہین کا پہلو ہوتا ہے، جیسے پاخانہ صاف کرنا تو یہ بائیں ہاتھ کے کام ہیں۔ دوسری حدیث کے الفاظ ہیں: ”ولا يَتَمَسح من الخلاء بيمنيه“ (اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے)۔
تین سے کم پتھر استنجا میں استعمال کرنا بھی ممنوع ہے، اگرچہ صفائی اس سے کم سے بھی حاصل ہو جائے۔ اس لیے کہ اکثر تین سے کم پتھروں سے پاکی حاصل نہیں ہوتی، تین پتھروں کی قید اس وقت ہے جب پتھروں کے بعد پانی استعمال نہ کیا جارہا ہو۔ اگر پتھروں کے بعد پانی کا استعمال بھی ہو، تو تین پتھروں سے کم پر بھی اکتفا کرسکتے ہیں۔ اس لیے کہ اس وقت یہاں پتھروں سے مقصود نجاست کا کم کرنا ہے، مکمل طہارت حاصل کرنا نہیں۔
گوبر سے استنجا کرنا بھی ممنوع ہے۔ اس لیے کہ یہ جنات کے جانوروں کی غذا ہے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں صراحت ہے کہ جنات کا ایک وفد آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے کھانے کا مطالبہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمھارے لیے ہر وہ ہڈی ہے، جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور وہ تمھارے ہاتھوں میں آجائے، اس پر پہلے سے زیادہ گوشت آجاتا ہے اور ہر مینگنی یا لید تمھارے جانوروں کا چارہ ہے“۔
ہڈیوں سے استنجا کرنا بھی شریعت میں ممنوع ہے۔ اس لیے کہ یہ جنات کی خوراک ہے۔ جیسے کہ گزشتہ حدیث میں ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”ان سے استنجا نہ کیا کرو؛ کیوںکہ یہ تمھارے جن بھائیوں کی خوراک ہے“۔
اس طرح، حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ ہڈیوں سے استنجا نہ کرنے کی حکمت یہ ہے کہ انھیں گندہ نہ کیا جاۓ؛تاکہ انھیں بطور غذا استعمال کرنے والوں کو دشواری نہ ہو۔ کیوں کہ جب انھیں نجاست صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جاۓ گا، ان کی غذا خراب ہو جاۓ گی۔

Explanation

Salmān al-Fārisi (may Allah be pleased with him) reported: The polytheists mockingly said to us: Your Prophet teaches you everything; he even teaches you how to relieve yourselves, whether in urinating or defecating! Salmān said: Yes, he taught us the etiquette of relieving oneself. Among what he taught us is that he (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade us from cleaning ourselves with the right hand after relieving ourselves, out of respect and to keep it clean from impurity. He also forbade us from facing the Ka‘bah while urinating or defecating. And he forbade us from using animal dung or bones for Istijmār (dry cleansing). Furthermore, he instructed that one in a state of Hadath (ritual impurity) should not suffice with fewer than three stones when performing Istijmār.

Topics موضوعات