صحیح مسلم
Sahih Muslim

کافر جب کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اس کے بدلے میں دنیا ہی میں اسے رزق دے دیا جاتا ہے۔ جب کہ مومن کے لیے اللہ…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
10105Sahih صحیح
عن أنس بن مالك رضي الله عنه مرفوعاً: «إنَّ الكافر إذا عمل حسنة، أُطْعِمَ بها طُعْمَةً من الدنيا، وأما المؤمن فإِنَّ اللهَ تعالى يدخر له حسناته في الآخرة، ويُعْقِبُهُ رزقًا في الدنيا على طاعته».
وفي رواية: «إنَّ الله لا يظلم مؤمنا حسنة، يُعْطَى بها في الدنيا، ويُجْزَى بها في الآخرة، وأما الكافر فَيُطْعَمُ بحسنات ما عمل لله تعالى في الدنيا، حتى إذا أفضى إلى الآخرة، لم يكن له حسنة يُجْزَى بها».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کافر جب کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اس کے بدلے میں دنیا ہی میں اسے رزق دے دیا جاتا ہے۔ جب کہ مومن کے لیے اللہ تعالی اس کی نیکیوں کو آخرت کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں اور اس کی نیکی پر اسے دنیا میں بھی رزق دیتے ہیں“۔
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کسی مومن سے ایک نیکی کا بھی ظلم نہیں کرے گا دنیا میں اسے اس کا بدلہ عطا کیا جائے گا اور آخرت میں بھی اسے اس کا بدلہ عطا کیا جائے گا اور کافر کو دنیا میں ہی بدلہ عطا کردیا جاتا ہے جو وہ نیکیاں اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے یہاں تک کہ جب آخرت میں فیصلہ ہوگا تو اس کے لیے کوئی نیکی نہ ہوگی جس کا اسے بدلہ دیا جاتا“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Anas ibn Mālik (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "When a disbeliever does a good deed, he is rewarded for it in this world. As to the believer, Allah, the Almighty, saves his good deeds to reward him in the Hereafter and provides him with sustenance in this life as a reward for his obedience."
Another narration reads: "Allah does not deal unjustly with a believer regarding a single good deed. He is given blessings for it in this world and will be rewarded for it in the Hereafter. As to the disbeliever, he is given sustenance as a reward for his good deeds in this world, so when he comes to the Hereafter, there are no more good deeds for him for which he can be rewarded.”
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10105

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

کافر جب کوئی نیک کام کرتا ہے تو اللہ عزّ وجلّ اس کے بدلے میں اسے دنیا ہی میں رزق عنایت کر دیتا ہے لیکن مومن جب کوئی نیکی کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کا اجر محفوظ رکھ چھوڑتا ہے تاکہ آخرت میں اسے یہ دیا جا سکے ساتھ ہی دنیا میں اسے اس کی اطاعت گزاری پر رزق بھی دیتا ہے۔
دوسری روایت میں ہے کہ ایسا نہیں ہوتا کہ اللہ تعالی مومن کو اس کی نیکیوں کا بدلہ نہ دیں بلکہ اللہ تعالی اسے ان کے بدلے میں دنیا میں رزق دیتے ہیں اور آخرت میں بھی اسے ان کا ثواب ملے گا۔ جب کہ کافر کو اللہ تعالی اس کے اچھے کاموں کے بدلے میں دنیا ہی میں رزق دے دیتا ہے بایں طور کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کی کوئی ایسی نیکی نہیں ہو گی جس پر اسے ثواب دیا جائے۔
علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ کافر جب حالتِ کفر ہی میں مر جائے تو آخرت میں اسے کوئی ثواب نہیں ملتا اور نہ ہی جہان آخرت میں اس کے کسی ایسے عمل کا بدلہ ملے گا جسے اس نے دنیا میں اللہ کی خوشنودی کے لیے کیا ہو گا اس لیے کہ ایمان عمل کی قبولیت کی بنیادی شرط ہے۔ اس حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ اللہ کی خوشنودی کے لیے وہ دنیا میں جو نیک اعمال کرتا ہے جن کے درست ہونے کے لیے نیت کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے صلہ رحمی، صدقہ کرنا، آزاد کرنا، مہمان نوازی اور نیک اعمال کے لیے سہولت کاری وغیرہ، تو ان کے عوض میں اسے دنیا میں رزق عنایت کیا جاتا ہے۔
تاہم اگر کافر اس طرح کے نیک اعمال کرے اور پھر اسلام لے آئے تو اسے آخرت میں ان کا ثواب ملے گا جیسا کہ حدیث میں ہے (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:) ”تم اس بھلائی سمیت اسلام میں داخل ہوئے جو تم نے پہلے کی ہیں“۔

Explanation

If a disbeliever does an act of obedience, then Allah, the Almighty, will provide him with sustenance in this world in return for it. As for the believer, if he does an act of obedience, then Allah will save the reward to give it to him in the Hereafter as well as reward him for his obedience in this world.
Allah never misses rewarding the believer for his good deeds; He gives him reward in this world as well as the next. As to the disbeliever, he is only rewarded in this world for his good deeds, and when the Day of Judgment comes, he will have no good deeds to be rewarded for.
Scholars have agreed that if the disbeliever dies upon disbelief, then he will have no reward in the Hereafter, and he will not be rewarded for any of his good deeds performed in this world. This Hadīth clearly mentioned that the disbeliever will be fed and rewarded in this world for what he did of good deeds which do not require a sound intention to be accepted, such as maintaining ties of kinship, charity, freeing a slave, hosting guests, and similar deeds.
However, if the disbeliever does such good deeds then enters Islam, then he will be rewarded for them in the Hereafter, as indicated in the Hadīth: "You embraced Islam with all the previous good deeds you had performed.”

Topics موضوعات