کیا دوپہر کے وقت تمہیں سورج کو دیکھنے میں کچھ دشواری ہوتی ہے جب کہ یہ بادل کی اوٹ میں بھی نہ ہو؟۔ صحابہ کرام…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10413Sahih Muslim (HadeethEnc 10413)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
کچھ صحابہ نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم روز قیامت اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟۔ آپ ﷺ نے انہیں جواب دیا: کیا تمہیں دوپہرکے وقت سورج کو دیکھنے میں کچھ دشواری ہوتی ہے جب کہ وہ کسی بادل کی اوٹ میں بھی نہ ہو۔ یعنی کیا جب سورج پوری طرح چڑھا ہوا اور صاف ظاہر ہوتا ہے اور اس کی روشنی پورے جہان میں پھیلی ہوتی ہے اور کوئی ایسا بادل بھی نہیں ہوتا جس نے اسے چھپا رکھا ہو تو کیا اسے دیکھنے کے لیے تمہارے درمیان کوئی ایسی دھکم پیل ہوتی ہے جس سے ایک دوسرے کو ضرر پہنچتا ہو؟ صحابہ کرام نے جواب دیا کہ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا چودہویں کی رات چاند دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری پیش آتی ہے جو کسی بدلی کی اوٹ میں بھی نہ ہو۔ یعنی جس رات چاند مکمل ہو کر آسمان پر پوری طرح عیاں ہوتا ہے اور کوئی ایسا بادل بھی نہیں ہوتا جو اسے تم سے اوجھل کر دے تو کیا اسے دیکھنے میں تمہارے مابین کوئی ایسی دھکم پیل ہوتی ہے جس سے ایک دوسرے کو ضرر پہنچتا ہو؟ صحابہ کرام نے جواب دیا کہ نہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تمہیں اپنے رب کو دیکھنے میں بالکل ویسے ہی دشواری نہیں ہو گی جیسا کہ سورج و چاند میں سے کسی کو دیکھنے میں تمہیں دشواری نہیں ہوتی۔ یعنی اللہ کی رؤیت بالکل واضح اور صاف ہو گی اور اس میں کوئی شک شبہ نہیں ہو گا کہ اس بارے میں تمہارا باہم اختلاف ہو یا پھر تم ایک دوسرے کی بات کو جھٹلاو۔ جیسا کہ سورج اور چاند کے دیکھنے میں کوئی شک نہیں ہوتا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی جھگڑا ہوتا ہے۔ یہ تشبیہ رؤیت میں ہے جو اس کے بالکل واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے ہے بایں طور کہ اس میں کوئی شک نہیں ہو گا یعنی نہ تو اس کی کیفیات میں کوئی شک ہو گا اور نہ ہی دیکھی گئی ذات میں۔ اللہ سبحانہ و تعالی مخلوقات کی مشابہت سے پاک ہے۔
پھر نبی ﷺ نے قیامت کے دن کے مناظر میں سے ایک منظر کے بارے میں بتایا اور وہ یہ کہ رب تعالی سبحانہ اپنے بندوں میں سے ایک بندے سے ملے گا اور اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کرائے گا اور فرمائے گا: اے فلاں شخص! کیا میں نے تمہیں تمہاری قوم میں سرکردہ شخص نہیں بنایا تھا، کیا میں نے تمہاری جنس سے تمہیں بیوی نہیں دی تھی اور تجھے اس پر قدرت نہیں بخشی تھی اور تمہارے اور اس کے درمیان محبت و رحمت اور انسیت و الفت نہیں رکھ دی تھی؟، کیا میں نے گھوڑوں اور اونٹوں کو تمہارا تابع فرمان نہیں کر دیا تھا؟، کیا میں نے تمہیں تمہاری قوم پر سرداری نہیں دی تھی جس کی بنا پر تم غنیمت کو چوتھائی حصہ وصول کرتے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں بادشاہ اپنے لیے مالِ غنیمت کا چوتھائی حصہ مختص کر لیتے تھے۔ بندہ ان تمام نعمتوں کا اقرار کرے گا ۔ اس پر اللہ تعالی فرمائےگا: کیا تجھے یہ یقین تھا کہ عنقریب تمہاری مجھ سے ملاقات ہونے والی ہے؟۔ وہ شخص کہے گا: نہیں۔ اس پر اللہ تعالی فرمائےگا: آج میں بھی تمہیں ویسے ہی بھلاتا ہوں جیسے تم نے مجھے بھلائے رکھا۔ یعنی آج میں تمہیں اپنی رحمت سے ویسے ہی دور کرتا ہوں جیسے دنیا میں تم میری اطاعت سے دور رہے۔ یہاں نسیان سے مراد علم ہونے کے باوجود چھوڑ دینا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿إِنَّا نَسِينَاكُمْ ۖ وَذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِ﴾ ”ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا چنانچہ چکھو ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب“۔
پھر رب تعالی شانہ ایک دوسرے بندے سے ملے گا۔ نبی ﷺ نے اس شخص کے بارے میں اسی طرح کے سوال و جواب کا ذکر فرمایا جیسے پہلے شخص کے بارے میں فرمایا تھا۔
پھر اللہ تعالی تیسرے بندے سے ملےگا اور اسے بھی ایسے ہی کہے گا وہ شخص کہے گا: اے میرے رب! میں تجھ پر، تیری کتابوں اور رسولوں پر ایمان لایا، میں نے نمازیں پڑھیں، روزے رکھے اور صدقہ دیا۔ وہ حد ِاستطاعت ہر ممکن طریقے سے اپنی تعریف کرے گا ۔ اس پر رب تعالی شانہ فرمائے گا: پھر ذرا یہیں رکنا۔ یعنی اگر تم اپنی اتنی ہی تعریفیں کر رہے ہو تو پھر ذرا یہاں رکو تاکہ ہم تمہارے خلاف گواہ پیش کر کے تمہیں تمہارے اعمال دکھا دیں۔ پھر اس سے کہا جائے گا: اب ہم تمہارے خلاف گواہ لاتے ہیں۔ اس پر وہ بندہ اپنے دل ہی دل میں سوچے گا کہ یہاں کون ہے جو میرے خلاف گواہی دے گا؟۔ اللہ تعالی اس کے منہ پر مہر لگا دے گا اور اس کی ران، گوشت اور ہڈیوں سے کہا جائے گا کہ تم بولو۔ اس پر اس کی ران، گوشت اور ہڈیاں اس کے اعمال کے بارے میں بتائیں گی۔ ایسا اس لیے کیا جائے گا تاکہ اس کا کوئی عذر باقی نہ رہے۔ یعنی اس کے اعضاء کو قوت گویائی اس لیے دی جائے گی تا کہ اللہ تعالی اس کے گناہوں کی کثرت اور اس کے اعضاء کی اس کے خلاف گواہی کی بدولت خود اس کی طرف سے عذر ختم کر دے بایں طور کے اس کے پاس کوئی عذر باقی ہی نہ رہے ۔ یہ تیسرا شخص منافق ہو گا جس پر اللہ تعالی غضبناک ہوگا۔
Explanation
Some of the Companions (may Allah be pleased with them) asked the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him): "Will we see our Lord on the Day of Judgment?" He said: "Do you find any difficulty in seeing the sun at noon when there are no clouds?" In other words: do you crowd with each other to the extent that you might harm one another in order to see the sun when it is high in the horizon and spreading its light all over the world, with no clouds screening it from you? They answered in the negative. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) again asked: "Do you have any difficulty in seeing the full moon when there are no clouds?" That is: do you crowd or struggle with one another in a way that might cause you harm in your attempt to see a full moon that is clearly seen in the sky without any cloud screening it? They said: 'No.' The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "By Allah, in Whose Hand my life is, You will not face any difficulty in seeing your Lord, only as much as you find difficulty in seeing one of them (the sun and moon)."
This means that they will see their Lord so clearly and evidently that it involves no argument or doubt; that none would disagree or belie the other, just as no one argues over seeing the sun or the moon. The similitude made here applies to the unquestionable clarity of sighting Allah, not to the manner in which it takes place or the nature of the One Whom is seen. Indeed, He, the Exalted, is far above being likened to creatures.
Then the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed about one of the events of the Day of Judgment. That is, one of Allah's servant will stand before Him, the Exalted, and He will remind him of the favors that He bestowed upon him, one after the other: like favoring him; making him a chief among his people; granting him a wife from his own kind and allowing him to enjoy her; fostering love, compassion, affection, and intimacy between the both of them; subjugating horses and camels to him; and making him the chief of his people, who is entitled to a quarter of the war booty, while in the pre-Islamic time, kings would take the whole booty to themselves. The servant will affirm all of these favors. The Lord will ask him: "Did not you know that you were going to meet Me?" The servant will say: "No," and Allah will say: "So I will forget you as you had forgotten Me." In other words, Allah will exclude him from His mercy just as he abandoned His obedience during his life. The word 'forget' here means to leave something knowingly and deliberately. This is explained by Allah's saying: {Indeed, We have [accordingly] forgotten you. And taste the punishment of eternity} [Sūrat al-Ahqāf: 14]. Once again, Allah will meet another servant, and a similar conversation will take place. Furthermore, Allah will meet a third servant, who will say to Him: "I affirmed my faith in You, Your Book, and in Your Messenger, and I observed the prayer and fasted and gave charity, and he will praise himself as much as he can. Thereupon, Allah, the Almighty, will say to Him: "Hence, (as you have praised yourself in such a way) remain in your place so that we bring our witnesses to your deeds." The servant will think of who that witness would be. Thereafter, Allah will make a seal on his mouth, and his thighs, flesh, and bones will be ordered to speak. They will tell all about his deeds, which will render his excuses unacceptable, due to his numerous sins and the testimony of his own limbs against himself. This third servant is the hypocrite, whom Allah is angry with.