صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

تین شخص کہیں باہر جا رہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی، انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں جا کر پناہ لی، اتفاق سے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
10417Sahih صحیح
عن ابن عمر رضي الله عنهما ، عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال: «خرج ثلاثةُ نَفَرٍ يمشون فأصابهم المَطَر، فدَخَلوا في غارٍ في جبَل، فانْحَطَّت عليهم صَخْرةٌ، قال: فقال بعضُهم لبعض: ادعوا اللهَ بأفضلِ عَمَلٍ عَمِلتموه، فقال أحدُهم: اللهمَّ إني كان لي أبَوَانِ شَيْخانِ كبيران، فكنتُ أخرج فَأَرْعى، ثم أَجيء فأحْلِب فأجيء بالحِلاب، فآتي به أبويَّ فيَشْربان، ثم أسِقِيَ الصِّبْيَة وأهلي وامرأتي، فاحتَبَستُ ليلة، فجئتُ فإذا هما نائمان، قال: فكرهتُ أن أُوقِظَهما، والصِّبية يَتَضَاغَوْن عند رِجْلي، فلم يزل ذلك دَأْبي ودَأْبَهما، حتى طلَع الفجر، اللهم إن كنتَ تَعْلَمُ أنِّي فعلتُ ذلك ابْتغاء وجهِك، فافرُجْ عنا فُرْجة نرى منها السماء، قال: فَفُرِج عنهم، وقال الآخر: اللهم إن كنتَ تعلم أني كنتُ أُحبُّ امرأةً مِن بنات عمي كأشَدِّ ما يُحبُّ الرجلُ النساء، فقالت: لا تَنال ذلك منها حتى تعطيها مائة دينار، فسَعيْتُ فيها حتى جَمَعتُها، فلما قَعَدتُ بيْن رِجليْها قالت: اتقِ الله ولا تَفُضَّ الخاتَمَ إلا بحقِّه، فقمتُ وتركتُها، فإن كنتَ تعْلَم أنِّي فعلتُ ذلك ابتغاء وجهِك، فافرُجْ عنا فُرْجَة، قال: ففُرِج عنهم الثُّلُثيْنِ، وقال الآخر: اللهم إن كنتَ تعْلَم أني اسْتَأجَرْتُ أجيرًا بفَرَق من ذُرَة فأعْطيتُه، وأَبَى ذاك أنْ يأخُذَ، فعَمَدتُ إلى ذلك الفَرَق فزرعتُه، حتى اشتريتُ منه بقرًا وراعِيها، ثم جاء فقال: يا عبد الله أعْطِني حَقِّي، فقلتُ: انطلقْ إلى تلك البقر وراعِيها فإنها لك، فقال: أتستهْزِئ بي؟ قال: فقلت: ما أستهزئ بك ولكنها لك، اللهم إن كنتَ تعلم أنِّي فعلتُ ذلك ابتغاء وجهك، فافْرُجْ عنا فكُشِف عنهم».
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: تین شخص کہیں باہر جا رہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی، انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں جا کر پناہ لی، اتفاق سے پہاڑ کی ایک چٹان اوپر سے لڑھکی (اور اس غار کے منہ کو بند کر دیا جس میں یہ تینوں پناہ لیے ہوئے تھے) اب ایک نے دوسرے سے کہا کہ اپنے سب سے اچھے عمل کا جو تم نے کبھی کیا ہو، نام لے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ اس پر ان میں سے ایک نے یہ دعا کی: اے اللہ ! میرے ماں باپ بہت ہی بوڑھے تھے، میں باہر لے جا کر اپنے مویشی چَراتا تھا، پھر جب شام کو واپس آتا تو ان کا دودھ نکالتا اور برتن میں پہلے اپنے والدین کو پیش کرتا، جب میرے والدین پی لیتے تو پھر بیوی بچوں اور گھر والوں کو پلاتا، اتفاق سے ایک رات مجھے دیر ہو گئی اور جب میں گھر لوٹا تو والدین سو چکے تھے، اس نے کہا کہ پھر میں نے پسند نہیں کیا کہ انہیں جگاؤں، بچے میرے قدموں میں بھوکے پڑے رو رہے تھے، میں برابر دودھ کا پیالہ لیے والدین کے سامنے اسی طرح کھڑا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ اے اللہ ! اگر تیرے نزدیک میں نے یہ کام صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا، تو ہمارے لیے تو اس چٹان کو ہٹا کر اتنا راستہ بنا دے کہ ہم آسمان کو دیکھ سکیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: چناچہ وہ پتھر کچھ ہٹ گیا۔ دوسرے شخص نے دعا کی: اے اللہ ! تو خوب جانتا ہے کہ مجھے اپنے چچا کی ایک لڑکی سے اتنی زیادہ محبت تھی جتنی ایک مرد کو کسی عورت سے ہو سکتی ہے، اس لڑکی نے کہا تم مجھ سے اپنی خواہش اس وقت تک پوری نہیں کر سکتے جب تک مجھے سو اشرفی نہ دے دو، میں نے ان کے حاصل کرنے کی کوشش کی اور آخر اتنی اشرفی جمع کر لی، پھر جب میں اس کی دونوں رانوں کے درمیان بیٹھا، تو وہ بولی: اللہ سے ڈر اور مہر کو ناجائز طریقے پر نہ توڑ، اس پر میں کھڑا ہو گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا، اب اگر تیرے نزدیک میں نے یہ عمل تیری ہی رضا کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے (نکلنے کا) راستہ بنا دے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: چنانچہ وہ پتھر دو تہائی ہٹ گیا۔ تیسرے شخص نے دعا کی: اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے ایک مزدور ایک ’فرق‘ جوار کے عوض کام پر لگایا جب میں اسے دینے لگا تو اس نے لینے سے انکار کردیا میں نے اس جوار کو لے کر بو دیا، (اس میں اتنی برکت ہوئی کہ) میں نے اس سے ایک بیل اور چرواہا خرید لیا، کچھ عرصہ بعد اس نے آکر مزدوری مانگی کہ اے اللہ کے بندے! مجھے میرا حق دیدے، میں نے کہا: اس بیل اور چرواہے کے پاس جاؤ وہ سب تمھارا ہی ہے، اس نے کہا: مجھ سے مذاق کرتے ہو، میں نے کہا: میں مذاق نہیں کرتا واقعی یہ تمھارے ہی ہیں، اے اللہ! اگر تیرے نزدیک یہ کام میں نے تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے (اس چٹان کو ہٹا کر) راستہ بنا دے، چناچہ وہ پتھر ان سے ہٹ گیا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "While three persons were walking, rain began to fall and they had to enter a cave in a mountain. A (big) rock rolled over (and blocked the mouth of the cave). They said to one another: 'Invoke Allah with the best deed you have performed.' One of them said: 'O Allah, my parents were old, and I used to go out for grazing (my camels), and on my return, I would milk (the camels) and take the milk to my parents to drink. After that, I would give it to my children, family, and wife. One day, I got delayed, and as I returned home, I found my parents asleep, and I disliked to awaken them. The children were crying near my feet (out of hunger), and they continued like that till dawn. O Allah, if You know that I did this for Your sake, remove this rock a bit so that we may see the sky.' So the rock was moved a bit. The second man said: 'O Allah, You know that I loved a cousin of mine with the deepest love that a man might have for a woman, and she told me that I would not get my desire fulfilled unless I paid her one hundred dinars. I struggled until I could gather the required amount, and when I sat in between her legs, she said: 'Fear Allah, and do not deflower me except lawfully.' Thereupon, I got up and left her. O Allah, If You know that I did this for Your sake, remove this rock a bit.' So two thirds of the rock was moved. Then the third man said: 'O Allah, You know that I once hired a worker for one Faraq (a measure equal to 16 pounds) of maize, and when I wanted to pay him, he refused to take his wages; so I cultivated it and bought cows and a shepherd from its yield; and after a period of time, that man came and said: 'O slave of Allah, give me my right.' I said to him: ‘Go to those cows and the shepherd and take them, for they yours.’ He said: ‘Are you mocking me?’ I said to him: ‘I am not mocking you; but they belong to you.’ O Allah, If You know that I did this for Your sake, remove the rock.' So the rock was removed."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10417

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

تین لوگ کہیں جا رہے تھے کہ اچانک انہیں بارش نے گھیر لیا، بارش کی شدت سے بچنے کے لیے وہ ایک غار میں داخل ہوئے، اچانک ایک چٹان گری اور غار کا راستہ بند ہو گیا، انھوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا: اپنے کیے ہوئے سب سے افضل عمل کے ذریعہ اللہ سے دعا کرو، امید کہ اللہ کشادگی پیدا کرے اور اس چٹان کو ہٹا دے،
تینوں میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے بوڑھے ماں باپ تھے، میں چراہ گاہ جاکر اپنے اونٹ چرایا کرتا تھا، پھر چراگاہ سے واپس آتا اور اونٹنی کو دوہتا، اپنے ماں باپ کو دودھ پیش کرتا اور وہ اسے پیتے، پھر اپنے چھوٹے بچوں، بیوی اور بھائی بہن وغیرہ کو پلاتا تھا، ایک مرتبہ کسی وجہ سے گھر واپس آنے میں تاخیر ہوگئی، واپس آکر کیا دیکھتا ہوں کہ میرے والدین سو چکے ہیں، پہلے کی طرح میں نے دودھ دوہا اور دونوں کے سرہانے کھڑا ہوگیا، انہیں بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا اور ان کے پینے سے پہلے اپنی آل اولاد کو بھی پلانا مناسب نہیں سمجھا جب کہ میرے بچے بھوک کی شدت کے سبب میرے پیروں کے پاس رو رہے تھے، میں ایسے ہی مستقل کھڑا رہا یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی، وہ دونوں بیدار ہوئے دودھ پیا اور پھر میں نے اپنے بچوں کو پلایا، اےاللہ! اگر تیرے نزدیک میں نے یہ کام صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا، تو ہمارے لیے تو اس چٹان کو تھوڑا سا ہٹا دےتاکہ ہم آسمان کو دیکھ سکیں، اللہ تعالی نے اس پتھر کو اتنا ہٹا دیا کہ وہ آسمان دیکھ سکیں۔
دوسرے شخص نےکہا: اے اللہ! مجھے اپنے چچا کی ایک لڑکی سے بڑی شدید محبت تھی، میں نے اسے اپنے لیے بہکانا چاہا وہ مجھے روکتی رہی لیکن (مجبوری میں) سو دینار کے عوض وہ راضی ہو گئی، میں نے سو دینار حاصل کیے اور اسے دے دیا، جب میں اس پر قابض ہو گیا اور اس کے دونوں پیروں کے درمیان بیٹھا تو وہ مجھ سے کہنے لگی: اللہ سے ڈرو اور حرام کا ارتکاب نہ کرو اور ناجائز طریقے سے میری بکارت نہ زائل کرو، چنانچہ میں اس کے دونوں پیروں کے درمیان سے اٹھ گیا اور اسے چھوڑ دیا، اے اللہ! تو جانتا ہے اگر میں نے یہ کام تیری رضا پانے کے لیے کیا ہے تو ہم سے اس چٹان کو دور کردے، چنانچہ اللہ نے اس چٹان کو ہٹا کر دو تہائی راستہ بنا دیا۔
اور تیسرے شخص کہا: اے اللہ! میں نے سولہ رطل جوار کے عوض ایک مزدور اجرت پر رکھا، جب وہ اپنے کام سے فارغ ہوا تو میں نے اس کو اس کی اجرت دے دی جسے اُس وقت لینے سے اس نے انکار کردیا، میں نے اس جوار کو کھیتی میں لگا دیا اور مسلسل اس سے کھیتی اور خرید وفروخت کرتا رہا یہاں تک کہ اس سےایک گائے اور ایک چرواہا خرید لیا، پھر ایک مدت کے بعد وہ مزدور آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے بندے! مجھے میرا حق دے دے۔ میں نے کہا: اس بیل اور چرواہے کے پاس جاؤ وہ تمھارا ہی ہے سب کو لے جاؤ ، مزدور نے کہا: کیا تم مجھ سے مذاق کرتے ہو؟ میں نے کہا: میں تم سے مذاق نہیں کررہا، واقعی یہ تمھارے ہی ہیں، پس اے اللہ! اگر تیرے نزدیک یہ کام میں نے تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے اس چٹان کو ہٹا کر راستہ بنا دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے غار کے باقی راستہ کو کھول دیا اور وہ تینوں باہر آگئے۔

Explanation

While three men were walking, it rained and they took refuge in a cave. Then a rock fell and blocked the mouth of the cave. They said to each other: Invoke Allah with the best deed that you have performed so that perhaps He will remove your distress and move this rock away.
One of them said: "O Allah, I had an old father and mother. And I used to go out for grazing my camels, and when I returned home, I would milk the camels and bring the milk to my parents to drink therefrom. After them, I would let my young children, wife, and the rest of my family, such as brothers and sisters, drink from it. One night, some emergency delayed me, and when I turned back, I found my parents asleep. I milked the camels as usual and stood near my parents, disliking to awaken them or to let my children and family drink before them. The children were crying out of extreme hunger. Nevertheless, we remained in this condition till dawn, after which they woke up and I gave them the milk to drink before I gave my children any. O Allah, if You know that I did this to win Your pleasure, remove this rock a little bit so that we can see the sky." So Allah caused the rock to move a little, enabling them to see the sky.
The second man said: "O Allah, I loved a cousin of mine intensely. I tried to seduce her, but she stipulated that I should pay her one hundred dinars to fulfill my desire. I collected the required amount and gave it to her; and when I sat in between her legs, she said to me: 'Fear Allah and do not commit the illegal act, and do not deflower me except lawfully.' Thereupon, I got up and left her. O Allah, if You know that I did this in pursuit of Your pleasure, remove this rock a little." So Allah, the Almighty, caused two thirds of the rock to move.
The third man said: "O Allah, I employed a worker to do some work for me in return for 16 pounds of maize. When he finished the job, I wanted to pay him, but he refused to take his wage, so I took the maize and cultivated it, and I kept cultivating and selling it until I bought cows and a shepherd with its price. Later, this worker came to claim his dues, saying: 'O slave of Allah, give me my right.' I said to him: 'Go to those cows and the shepherd and take them, for they are all yours.' He thought that I was mocking him, but I affirmed that I was not, and I again told him that the cows and the shepherd were his. O Allah, if You know that I did this in pursuit of Your pleasure, remove the rock." Thereupon, Allah, the Almighty, caused the rock to move from the remaining part of the cave's mouth, so they exited it.

Topics موضوعات