صحیح مسلم
Sahih Muslim

جس دن بدر کی لڑائی ہوئی اس دن رسول اللہﷺ نے مشرکوں کو دیکھا کہ وہ ایک ہزار تھے اور آپ ﷺکے اصحاب تین سو انیس…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
10555Sahih صحیح
عن ابن عباس رضي الله عنه قال: لمَّا كان يومُ بدْر نظر رسولُ الله صلى الله عليه وسلم إلى المشركين وهم ألف، وأصحابه ثلاثُمائة وتسعة عشر رجلا، فاستقبل نبيُّ الله صلى الله عليه وسلم القبلةَ، ثم مدَّ يديْه، فجعل يَهْتِف بربِّه: «اللهمَّ أَنْجِزْ لي ما وعدْتَني، اللهم آتِ ما وعدْتَني، اللهمَّ إنْ تَهْلِك هذه العِصابةُ من أهْل الإسلام لا تُعْبَد في الأرض»، فما زال يَهْتِف بربِّه، مادًّا يديْه مستقبلَ القِبلة، حتى سقط رِداؤه عن مَنْكبيه، فأتاه أبو بكر فأخذ رِداءه، فألقاه على مَنْكبيه، ثم التَزَمه مِن وَرَائه، وقال: يا نبيَّ الله، كفاك مناشَدَتَك ربَّك، فإنَّه سيُنْجِز لك ما وعَدَك، فأنزل الله عز وجل : {إذ تستغيثون ربَّكم فاستجاب لكم أنِّي مُمِدُّكم بألف من الملائكة مُرْدِفين} [الأنفال: 9] فأمدَّه اللهُ بالملائكة، قال أبو زميل: فحدثني ابن عباس، قال: بينما رجلٌ من المسلمين يومئذ يشتَدُّ في أَثَر رَجُلٍ من المشركين أمامه، إذ سَمِع ضربةً بالسَّوْط فَوْقَه وصَوْت الفارس يقول: أقدِم حَيْزُوم، فنَظَر إلى المشرك أمامه فخَرَّ مُسْتَلْقيًا، فنظر إليه فإذا هو قد خُطِمَ أنفُه، وشُقَّ وجهُه، كضرْبة السَّوْط فاخْضَرَّ ذلك أجمعُ، فجاء الأنصاري، فحدَّث بذلك رسولَ الله صلى الله عليه وسلم ، فقال: «صدَقْتَ، ذلك مِن مَدَدِ السماء الثالثة»، فقَتَلوا يومئذ سبعين، وأَسَروا سبعين، قال أبو زميل، قال ابن عباس: فلمَّا أَسَروا الأُسارى، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبي بكر وعمر: «ما تَرَوْن في هؤلاء الأُسارى؟» فقال أبو بكر: يا نبي الله، هم بنو العَمِّ والعَشِيرة، أَرَى أن تَأْخُذ منهم فِدْيَةً فتكون لنا قوَّةً على الكفار، فعسى اللهُ أنْ يهديَهم للإسلام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ما تَرى يا ابنَ الخطَّاب؟» قلت: لا واللهِ يا رسول الله، ما أرى الذي رأى أبو بكر، ولكني أرى أنْ تُمَكِنَّا فَنَضْرب أعناقَهم، فتُمَكِّنْ عليًّا من عَقِيل فيضرب عنقَه، وتُمَكِّنِّي من فلان نسيبًا لعمر، فأضرب عنُقه، فإن هؤلاء أئمةُ الكفر وصَناديدُها، فهَوِيَ رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قال أبو بكر، ولم يَهْوَ ما قلتُ، فلمَّا كان من الغَدِ جئتُ، فإذا رسولُ الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر قاعدين يبكيان، قلتُ: يا رسول الله، أخبرني مِن أي شيء تبكي أنت وصاحبُك؟ فإن وجدتُ بكاءً بكيْتُ، وإن لم أجد بكاء تَباكيْتُ لِبُكائكما، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " أبكي للذي عُرِضَ على أصحابك مِن أخذِهم الفِداء، لقد عُرِضَ عليَّ عذابَهم أدْنى مِن هذه الشجرة -شجرةً قريبةً من نبي الله صلى الله عليه وسلم- وأنزل الله عز وجل : {ما كان لِنَبِيٍّ أن يكون له أَسرى حتى يُثْخِنَ في الأرض} [الأنفال: 67] إلى قوله {فكلوا مما غَنِمْتُم حلالا طيِّبا} [الأنفال: 69] فأحلَّ الله الغنيمةَ لهم.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جس دن بدر کی لڑائی ہوئی اس دن رسول اللہﷺ نے مشرکوں کو دیکھا کہ وہ ایک ہزار تھے اور آپ ﷺکے اصحاب تین سو انیس آدمی تھے۔ اللہ کے نبی ﷺنے قبلہ کی طرف منھ کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور پکار کر اللہ سے دعا کرنے لگے،’’ اےاللہ! جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے پورا کر دے، اے اللہ! جو تو نے وعدہ کیا ہے اسے تو دے دے، اے اللہ! اگر یہ مسلمانوں کی جماعت ہلاک ہو گئی، تو پھر زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی‘‘۔ پھر آپ ﷺاپنے ہاتھ کو پھیلائے ہوئے برابر یہ دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ آپﷺ کی چادر آپ کے دونوں مونڈھوں سے اتر گئی، ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور آپﷺ کی چادر کو لیا، اور آپﷺ کےمونڈھے پر ڈال دی، پھرآپﷺ کے پیچھے لپٹ گئے اور فرمایا: اے اللہ کے نبیﷺ! بس آپ کی اتنی دعا کافی ہے، اب اللہ تعالی آپ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرے گا، اس وقت اللہ نے یہ آیت اتاری ﴿إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ﴾ ”اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سےفریاد کر رہے تھے، پھر اللہ تعالی نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے“۔ (الانفال: 9) چنانچہ اللہ نےفرشتوں کے ذریعہ آپ ﷺ کی مدد کی۔ ابو زمیل نے مجھ سے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بتایا کہ اس دن مسلمانوں میں سے ایک آدمی مشرکین کے ایک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا جو اس کے آگے تھا، اتنے میں اوپر سے اس کے کان میں کوڑے کی آواز سنائی دی اور ایک گھوڑسوار کی آواز سنائی دی، وہ کہتا تھا ، آگے بڑھ اے حیزوم! پھر دیکھا کہ وہ کافر جو اس مسلمان کے سامنے تھا چت گر پڑا، جب اس وقت مسلمان نے دیکھا کہ اس کی ناک پر نشان تھا اور اس کا منھ پھٹ گیا تھا، جیسے کوئی کوڑا مارتا ہے اور اس کا رنگ سبز پڑ گیا تھا۔ پھر وہ انصاری صحابی رسولﷺ کے پاس آئے اور واقعہ بیان کیا۔ آپ ﷺنے فرمایا :تو سچ کہتا ہے، یہ مدد تیسرے آسمان سے آئی تھی۔ چنانچہ مسلمانوں نےاس دن ستر کافروں کو مارا تھا، اور ستر کافروں کو گرفتار کیا تھا۔ ابو زمیل نے کہا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب قیدیوں کو گرفتار کر کے لائے تو رسول ﷺ نےابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے کہا ’’ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے،، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ!یہ ہمارے قبیلے اور برادری کے لوگ ہیں میرے خیال سے کچھ مال لے کر انہیں چھوڑ دیجیے جس سے مسلمانوں کو کافر وں سے لڑنے کی طاقت ہو جائے گی، ممکن ہے انہیں اللہ اسلام کی ہدایت دے دے۔ رسول اللہ ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا ’’ابنِ خطاب! ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ میں نے کہا نہیں اے اللہ کے رسولﷺ! یہ میری رائے نہیں جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہے، لیکن میری رائے یہ ہے کہ آپ انہیں ہمارے حوالے کر دیں اور ہم ان کی گردنیں مار دیں، اور عقیل کو علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کریں وہ ان کی گردن ماریں اور مجھے میرا فلاں عزیز دیجیے میں اس کی گردن مار دوں، کیونکہ یہ لوگ کفر کے پیشوا اورسردار ہیں۔ چنانچہ رسول ﷺ کو ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے پسند آئی اور میری رائے پسند نہیں آئی۔ جب دوسرا دن ہوا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس میں آیا آپﷺ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ دونوں رو رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ اور آپ کے ساتھی کیوں رو رہے ہیں؟ اگر رونے والی چیز ہے تو میں بھی روؤں، اور اگر مجھے رونا نہیں آیا تو رونے کی کیفیت بنا لوں گا ، نبیﷺنے فرمایا: میں رو رہا ہوں جو تمہارے ساتھیوں پر فدیہ لینے کی وجہ سے میرے سامنے ان کا عذاب اس درخت (نبیﷺ کےپاس درخت) سے بھی زیادہ نزدیک پیش کیا گیا پھر اللہ نے یہ آیت اتاری ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ﴾ سے ﴿فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ تک۔ ”نبی کے ہاتھ میں قیدی نہیں چاہیے جب تک کہ ملک میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے۔ تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا اراده آخرت کا ہے اور اللہ زور آور باحکمت ہے اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ہوتی پس جو کچھ حلال اور پاکیزه غنیمت تم نے حاصل کی ہے، خوب کھاؤ پیو“، چنانچہ اللہ نے ان کے لیے غنیمت کو حلال کردیا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) reported: On the day of (the battle of) Badr, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) looked at the polytheists, who were one thousand (fighters), while his Companions were three hundred and nineteen. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) turned towards the Qiblah, stretched his hands up, and started calling upon his Lord: "O Allah, fulfill for me what You have promised to me. O Allah, accomplish what You have promised to me. O Allah, if this small band of Muslims is destroyed, You will not be worshiped on earth." He continued his supplication to his Lord while raising his hands and facing the Qiblah until his mantle slipped down from his shoulders. So Abu Bakr came to him, picked up his mantle, and put it back on his shoulders. Then he embraced him from behind and said: "O Prophet, you have sufficiently prayed to your Lord, and He will fulfill for you what He has promised you." So Allah, the Exalted, revealed: {When you appealed to your Lord for help, He responded to your call (saying): I will help you with one thousand angels coming in succession} [Sūrat al-Anfāl: 9]. So Allah supported him with angels." Abu Zumayl reported that Ibn ‘Abbās told him: "On that day, a Muslim was chasing a disbeliever who was running in front of him, he heard the sound of a whip from above, and the voice of a rider, saying: 'Go ahead, Hayzūm.' He glanced at the polytheist, who had (then) fallen down on his back. When he looked at him, there was a scar on his nose, and his face was torn as if it had been lashed with a whip, and it all turned purple. The Ansāri (man from the Ansār came to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) and related this (incident) to him. He said: 'You have told the truth. This was help from the third heaven.' On that day (the day of the battle of Badr), the Muslims killed seventy disbelievers and captured seventy as captives. The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said to Abu Bakr and ‘Umar (may Allah be pleased with both of them): 'What is your opinion regarding these captives?' Abu Bakr said: 'They are our kith and kin. I think you charge them a ransom (in return for releasing them), which (the ransom) will be a source of strength to us against the disbelievers. Perhaps, Allah will guide them to Islam.' Then the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: 'What is your opinion, O Ibn al-Khattāb?' He said: 'No, by Allah, O Messenger of Allah, I do not agree with the opinion of Abu Bakr. I am of the opinion that you should hand them over to us so that we cut off their heads. Hand over ‘Aqīl to ‘Ali to cut off his head, and hand over such-and-such relative to me to cut off his head. These are the leaders of the disbelief and its veterans.' ‘Umar noted: 'The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) favored the opinion of Abu Bakr and did not favor what I had said. The next day, when I came to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) I found that both he and Abu Bakr were sitting and crying. I said: ‘O Messenger of Allah, why are you and your companion crying? Tell me the reason. For I will cry, or I will at least pretend to cry in sympathy with you.’ The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: ‘I cry for what has been offered to your companions of taking the ransom (from the prisoners). I was shown the punishment to which they will be subjected. It was brought to me as close as this tree.’ Then Allah, the Exalted, revealed: {It is not befitting for a Prophet that he should take prisoners until the force of the disbelievers has been crushed...} [Sūrat al-Anfāl: 67] {so eat of what you have gained of the spoils of war, (it is) lawful and pure} [Sūrat al-Anfāl: 69]. So Allah made war spoils lawful for them."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10555

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

جس دن بدر کی لڑائی ہوئی اس دن رسول ﷺ نے مشرکوں کو دیکھا وہ ایک ہزار تھے اور آپ ﷺکے اصحاب تین سو انیس آدمی تھے، نبیﷺ نے مشرکین کے مقابلے اپنے اصحاب کی قلت کو جان لیا، تو اللہ کے نبی ﷺ نے قبلہ کی طرف منہ کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور پکار کر اللہ سے دعا کرنے لگے،’’اےاللہ! جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے پورا کر دے۔ اے اللہ! جو تو نے وعدہ کیا ہے اسے تو دے دے۔ اے اللہ! اگر تو نے ان مسلمانوں کو ہلاک کر دیا، تو پھر زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی،، یعنی: اےاللہ! جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے پورا کر دے، اور مسلمانوں کو کافروں پر غالب فرما۔ اگر تو نے ان مسلمانوں کو ہلاک کر دیا، تو پھر زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی،، پھر آپ ﷺاپنے ہاتھ کو پھیلائے ہوئے برابر یہ دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی چادر آپ کے دونوں مونڈھوں سے اتر گئی، ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور آپﷺ کی چادر کو لیا، اور آپﷺ کےمونڈھے پر ڈال دی، پھر آپﷺ کے پیچھے لپٹ گئے اور فرمایا: اے اللہ کے نبیﷺ! بس آپ کی اتنی دعا کافی ہے، اب اللہ تعالی آپ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرے گا، اس وقت اللہ نے یہ آیت اتاری﴿إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ﴾ ”اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سےفریاد کر رہے تھے، پھر اللہ تعالی نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے“۔ (الانفال: 9) یعنی:جس وقت اللہ سے فریاد طلب کر رہے تھے اور اس سے مدد طلب کر رہے تھے، تو اللہ نے تمہاری دعا قبول کی اور ایک ہزار پہ در پہ آنے والے فرشتوں کے ذریعہ تمہاری مدد کی۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خبر دیا کہ اس دن مسلمانوں میں سے ایک آدمی مشرکین کے ایک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا تاکہ اسے قتل کرے، اتنے میں اس نے کوڑے اور گھوڑسوار کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا، ’’آگے بڑھ اے حیزوم!‘‘ پھر دیکھا کہ وہ مشرک گرا پڑا ہے۔ اور اس کے چہرے میں ناک پر کوڑے کا نشان تھا اور اس کا منھ پھٹ گیا تھا۔پھر اس انصاری صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سب بیان کیا، تو آپ ﷺ نے اسے خبر دیا کہ وہ تیسرے آسمان کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ تھا اور حیزوم اس فرشتے کے گھوڑے کا نام ہے۔ چنانچہ مسلمانوں نےاس دن ستر کافروں کومارا تھا، اور ستر کافروں کو گرفتار کیا تھا، جب ان قیدیوں کو گرفتار کر کے لائے تو رسول ﷺ نےابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے کہا ’’ان قیدیوں کے بارے میں کیا رائے ہے؟،، تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ!یہ ہمارے قبیلے اور برادری کے لوگ ہیں میرے خیال سے کچھ مال لے کر انہیں چھوڑ دیجیے جس سے مسلمانوں کو کافر وں سے لڑنے کی طاقت ہو جائے گی، ممکن ہے انہیں اللہ تعالی اسلام کی ہدایت دے دے۔ جب کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں اے اللہ کے رسولﷺ! میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے سے اتفاق نہیں رکھتا، میری رائے یہ ہے کہ آپ انہیں ہمارے حوالے کر دیں اور ہم انہیں قتل کر دیں، اور ان قیدیوں کو ہم میں سے ہر ایک قریبی اپنے قریبی کو قتل کرے، کیونکہ یہی لوگ کفر کے پیشوا اور گمراہی کے سردار ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کو ابو بکررضی اللہ عنہ کی رائے پسند آئی اور عمر رضی اللہ عنہ کی رائے پسند نہیں آئی، جب دوسرا دن ہوا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس عمر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے آپﷺ اورابو بکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ دونوں بیٹھے ہوئے رو رہے ہیں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے بتلائیں کہ آپ اور آپ کے ساتھی کیوں رو رہے ہیں؟ اگر رونے والی چیز ہے تو میں بھی روؤں، اور اگر مجھے رونا نہیں آیا تو رونے کی کیفیت تو بنا لوں! اس پر نبیﷺنے فرمایا: کہ وہ اس لیے رو رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جنہوں نے قیدیوں سے فدیہ لینے کی بات کی ان پر عذاب پیش کیا، اور ان پر عذاب اس درخت سے بھی قریب ترپیش کیا گیا، ’’نبی ﷺ کے قریب ایک درخت تھا اس درخت کی طرف اشارہ ہے‘‘۔ اللہ عز وجل نے یہ آیت ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ﴾ سے ﴿فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ تک اتاری۔ ”نبی کے ہاتھ میں قیدی نہیں چاہیے جب تک کہ ملک میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے۔ تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا اراده آخرت کا ہے اور اللہ زور آور باحکمت ہے اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ملتی پس جو کچھ حلال اور پاکیزه غنیمت تم نے حاصل کی ہے، خوب کھاؤ پیو اور اللہ سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ غفور ورحیم ہے“، یعنی وہ کفار جو اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور دین کو نیست ونابود کرنا چاہتے ہیں ان سے فدیہ لے کر چھوڑنا مناسب اور ٹھیک نہیں، کیونکہ یہ فدیہ لینا ایک معمولی چیز ہے بنسبت ان کے اس شر اور برائی کے جس کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے اس شر کو ختم کر دیا جائے، کیونکہ جب تک ان کا یہ شراور طاقت نیست و نابود نہ ہوگا اس وقت تک ان سے فدیہ نہ لیا جائے، لیکن جب ان کا شر ختم ہو جائے اور وہ کمزور پڑ جائیں تو اس وقت انہیں باقی رکھنے اور ان سے فدیہ لینے میں کوئی حرج نہیں، پھر اللہ نےمسلمانوں کے لیے کافروں سے زبردستی لیے گئے اموال کو حلال کر دیا۔

Explanation

When it was the battle of Badr, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) looked at the polytheists, who were numbered one thousand fighters, whereas his Companions consisted of only three hundred and nineteen men. As the Muslims were a minority compared to the disbelievers, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) turned toward the Qiblah and raised his hands to the heaven, audibly invoking Allah: "O Allah, fulfill for me what You have promised to me. O Allah, accomplish what You have promised to me. O Allah, if this small band of Muslims is destroyed, You will not be worshiped on earth." He continued his prayer until his cloak fell off his shoulders. Abu Bakr picked it up and put it back on the Prophet's shoulders, embracing him from behind and telling him that he made sufficient invocation to Allah, Who would fulfill His promise of victory to the Prophet. Hence, Allah, the Almighty, revealed: {When you appealed to your Lord for help, He responded to your call (saying): I will help you with one thousand angels coming in succession} [Sūrat al-Anfāl: 9]. This means that Allah would provide the believers with a thousand fighters among the angels who would be sent one after another to support the believers in their fight against the polytheists.
Ibn ‘Abbās mentioned that while a Muslim man from among the Ansār was chasing a disbeliever to kill him, he heard a crack of a whip and the voice of a horseman saying "Go ahead, Hayzūm." The Ansāri looked to find the infidel on the ground with the trace of a whip on his nose and a rupture across his face. The Ansāri told the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) about that, and the Prophet told him that this was an angel from the third heaven and that Hayzūm was the name of that angel's horse. On that day, the Muslims killed seventy disbelievers and took another seventy as captives.
Concerning the captives, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) consulted Abu Bakr and ‘Umar on what to do with them. Abu Bakr opined that those were the Muslims' relatives and kin, and therefore the Prophet should take a financial ransom and release them. The ransom would support the Muslims in their subsequent fights against the disbelievers. Abu Bakr added that, perhaps, Allah would guide them to Islam. ‘Umar, however, did not agree with Abu Bakr's opinion and opined that the Muslims should kill them and the Prophet should ask each Muslim to kill his relative among these captives, for they were the leaders of disbelief and the heads of misguidance. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) inclined to Abu Bakr's suggestion rather than that of ‘Umar.
One day later, ‘Umar found the Prophet and Abu Bakr crying. He asked why they were crying, for if there was a reason for crying, he would join them in it, and if not, then he would pretend to cry in sympathy with them. The Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) told him that they were crying because Allah spoke of the punishment of those who spoke of accepting the ransom from the captive disbelievers; the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) pointed to a tree near him and said that the punishment was presented closer than that tree. In this regard, Allah, the Almighty, revealed: {It is not befitting for a Prophet that he should take prisoners until the force of the disbelievers has been crushed…} [Sūrat al-Anfāl: 67] to the end of the verse: {So eat of what you have gained of the spoils of war, (it is) lawful and pure} [Sūrat al-Anfāl: 69]. This means that it is not appropriate for a Prophet, while fighting the disbelievers who want to extinguish the light of Allah and extirpate Islam, to hasten to arrest them and keep them alive to collect their ransom. Such ransom is of little value compared with the benefit of eradicating them and ending their evil. As long as those infidels were strong enough to act maliciously and threaten the Muslims, it was not appropriate to take them as captives. However, if they were incapable of doing evil, it would be fine to arrest them and keep them alive. Then Allah declared the riches that the Muslims take from the disbelievers by force in war to be lawful for them.

Topics موضوعات