بے شک ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے، پھر وہ اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے پس مرتبے کے اعتبار سے اس کے نزدیک وہی…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10569Sahih Muslim (HadeethEnc 10569)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ابلیس اپنے تخت یعنی تختِ شاہی کو پانی پر رکھتا ہے، پھر جنوں میں سے اپنے لشکریوں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں اور انہیں گمراہ کریں، تو مرتبے کے اعتبار سے ابلیس کا سب سے قریبی وہ شیطان ہوتا ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے میں سب زیادہ بڑھا ہوا ہو، ان شیاطین میں سے ایک آتا ہے اور ابلیس سے کہتا ہے: میں نے ایسا اور ایسا کیا یعنی مثال کے طور پر میں نے چوری کا حکم دیا اور شراب پینے پر ابھارا وغیرہ، تو ابلیس اس سے کہتا ہے: تو نے کوئی بہت بڑا کام نہیں کیا یا یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کو کارنامہ شمار کیا جائے، یہاں تک کہ انہیں شیطانوں میں سے ایک اور آتا ہے اور ابلیس سے کہتا ہے: میں نے فلاں کو نہیں چھوڑا یہاں تک کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کرادی اور شوہر نے بیوی کو طلاق دے دیا، ابلیس اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور اسے اپنے سے چمٹا کر اس کا معانقہ کرتا ہے، اور اس سے کہتا ہے: ”ہاں! تو ہے“ یعنی تو ہی وہ شیطان ہے جس نے میری چاہت پوری کر دی اور لوگوں کو گمراہ کرنے اور ان کے مابین فساد برپا کرنے کی میری آرزو و خواہش کو عملی جامہ پہنا دیا۔
Explanation
Satan places his throne over the water, then dispatches his soldiers from the Jinn to tempt people and mislead them. The closest one to Satan is the one who causes the most mischievous deviation among people. One of those devils will come and say to Satan: I did this and that (i.e. I enticed someone to steal, drink wine, for example). Satan tells him: You did nothing worth the attention. The line continues until one comes up and says: I did not leave so-and-so until I caused dissension between him and his wife to the extent that he divorced her. Satan shall bring him closer, hug him, and say: It is you (i.e. you are the one who fulfilled my wish of misleading and corrupting people).