صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ- اور وہ قرآن لکھنے والوں میں سے تھے- کہتے ہیں، جب یمامہ کی لڑائی میں بہت سے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
10574Sahih صحیح
عن زيد بن ثابت الأنصاري -رضي الله عنه، وكان ممَّن يكتب الوحيَ- قال: أرسلَ إليَّ أبو بكر مَقتلَ أهلِ اليَمَامة وعنده عمر، فقال أبو بكر: إنَّ عمر أتاني، فقال: إن القتلَ قد اسْتَحَرَّ يوم اليَمَامة بالناس، وإنِّي أخشى أنْ يَسْتَحِرَّ القتلُ بالقُرَّاء في المواطن، فيذهب كثيرٌ من القرآن إلَّا أنْ تجْمعوه، وإنِّي لأَرى أنْ تَجْمع القرآنَ. قال أبو بكر: قلتُ لعمر: «كيف أفعلُ شيئًا لم يفعله رسولُ الله صلى الله عليه وسلم ؟» فقال عمر: هو واللهِ خيرٌ. فلم يزَلْ عمر يُراجعني فيه حتى شَرَحَ اللهُ لذلك صَدري، ورأيتُ الذي رأى عمر، قال زيد بن ثابت: وعمرُ عنده جالسٌ لا يتكلَّم، فقال أبو بكر: إنك رجلٌ شابٌّ عاقلٌ، ولا نَتَّهِمُك، كنتَ تكتبُ الوحيَ لرسول الله صلى الله عليه وسلم ، فتَتَبَّعِ القرآنَ فاجْمعه، فواللهِ لو كلَّفني نَقْلَ جبل من الجبال ما كان أثقلَ عليَّ ممَّا أمرني به مِن جَمْعِ القرآن، قلت: كيف تفعلان شيئًا لم يفعله النبي صلى الله عليه وسلم ؟ فقال أبو بكر: هو واللهِ خيرٌ، فلم أزَلْ أراجعه حتى شرح اللهُ صدري للذي شرحَ اللهُ له صدرَ أبي بكر وعمر، فقمتُ فتتبَّعتُ القرآنَ أجمعُه من الرِّقَاع والأكتاف، والعُسُب وصدور الرجال، حتى وجدتُ من سورة التوبة آيتيْن مع خُزيمة الأنصاري لم أجدْهما مع أحد غيره، {لقد جاءكم رسولٌ من أنفسِكم عزيزٌ عليه ما عَنِتُّم حريصٌ عليكم} [التوبة: 128] إلى آخرهما، وكانت الصُّحُفُ التي جُمِعَ فيها القرآنُ عند أبي بكر حتى توفَّاه اللهُ، ثم عند عمر حتى توفَّاه الله، ثم عند حفصة بنت عمر.
زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے -اور وہ قرآن لکھنے والوں میں سے تھے- وہ کہتے ہیں کہ جب یمامہ کی لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا اس وقت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے، میں گیا، ابو بکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے چنانچہ انہوں نے کہا کہ یمامہ کی لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، اور میں ڈرتا ہوں کہ اسی طرح جنگوں میں اور بھی قارئینِ قرآن مارے گئے تو بہت سارا قرآن دنیا سے اٹھ جائے گا ، لہذا قرآن کو ایک جگہ جمع کرادیں نہیں تو یہ ڈر لگا رہے گا۔ میری رائے تو یہ ہے کہ قرآن کو جمع کرا دیں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا کہ بھلا میں وہ کام کیسے کر سکتا ہوں جو رسول اللہﷺنے نہیں کیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم ! اسی میں بھلائی ہے، چنانچہ وہ برابر اسی بات کو مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اس بات کے لیے میرا سینہ کھول دیا اور میں نے بھی وہی سوچا جو عمر رضی اللہ عنہ نے سوچا۔ زید بن ثابت کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس خاموش بیٹھے رہے، پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا دیکھو ! تم جوان عقل مند آدمی ہو اور ہم تمہیں سچا جانتے ہیں، تم نبیﷺ کے زمانے میں بھی قرآن لکھا کرتے تھے ، لہذا قرآن کو تلاش کر کے اکٹھا کرو، زید بن ثابت کہتے ہیں کہ اگر مجھے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کو منتقل کرنے کے لیے کہتے تو مجھ کو اتنی پریشانی نہ ہوتی جتنی قرآن کو جمع کرنے میں محسوس ہوئی۔ میں نے کہا کہ آپ دونوں ایسا کام کرتے ہو جو نبیﷺ نے نہیں کیا، تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اسی میں بھلائی ہے، پھر میں ان سے تکرار کرتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے میرا بھی سینہ کھول دیا، جیسے اللہ نے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کا سینہ کھول دیا تھا، چنانچہ میں اٹھا اور میں نے قرآن کی تلاش شروع کر دی ، کہیں کپڑوں کے ٹکڑوں پر لکھا ہوا کہیں مونڈھے کی ہڈیوں پر کہیں کھجور کی ڈالیوں پر، اور لوگوں کو بھی یاد تھا، یہاں تک کہ مجھے سورہ توبہ کی دو آیتیں خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے سوا اور کہیں نہ ملیں، ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم﴾(دونوں آیتوں کی اخیر تک) ”تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں، پھر اگر رو گردانی کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے“۔ (سورہ توبہ: 128) پھر یہ مصحف جس میں قرآن جمع کیا گیا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی زندگی تک ان کے پاس رہا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی تک ان کے پاس رہا، ان کی وفات کے بعد اُم المؤ منین حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کےپاس تھا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Zayd ibn Thābit al-Ansāri (may Allah be pleased with him) one of the scribes of the Qur'an, reported: Abu Bakr as-Siddīq sent for me when the people (of the battle) of Yamāmah were killed. I found ‘Umar ibn al-Khattāb sitting with him. Abu Bakr said: "‘Umar came to me and said: 'The death toll was heavy on the day of (the battle of) Yamāmah and I feared that many of the memorizers of the Qur'an would be killed on other battlefields, and a large part of the Qur'an might be lost unless you collect it. Can I suggest that you collect it?' I said to ‘Umar: 'How could I do something that the Messenger of Allah had not done?' ‘Umar said: 'By Allah, this is good.' ‘Umar kept on debating with me until Allah opened my heart to it and I accepted ‘Umar’s point of view." Then Abu Bakr said: "While ‘Umar was sitting with him silently: 'You are a wise young man and we do not have any suspicions about you. You used to write the revelation for the Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him). So track down the Qur'an and collect it.' By Allah, had he ordered me to move one of the mountains, it would not have been harder on me than what he ordered me to do in collecting the Qur'an." I said to Abu Bakr: "How could you do something that the Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) had not done?" Abu Bakr replied: "By Allah, this is good." Abu Bakr kept on talking to me about it until Allah opened my heart to what He had opened the hearts of Abu Bakr and ‘Umar to. So I tracked down the Qur'an, collecting it (written) on parchment, shoulder blades, and palm stalks, and from the hearts of men, until I found these last two verses of Sūrat At-Tawbah from Khuzaymah al-Ansāri; I did not find them with anyone else: {There has certainly come to you a Messenger from among yourselves. Grievous to him is what you suffer, [he is] concerned over you...} until the end of the two verses [Sūrat At-Tawbah: 128-129]. The sheets on which the Qur'an was collected remained with Abu Bakr until he died, then with ‘Umar until he died, and then with Hafsah, the daughter of ‘Umar.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10574

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب یمامہ کی لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، جو سن گیارہ ہجری میں مدعی نبوت مسیلمہ کذاب سے یمامہ کے شہر میں ہوئی جس وقت عرب کے بہت سارے لوگ مرتد ہو گئے تھے، اور اس لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنے دورِ خلافت میں بلایا، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے، میں گیا، ابو بکر رضی اللہ عنہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے، عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، چنانچہ انہوں نے کہا کہ مسیلمہ کذاب سے لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، اور میں ڈرتا ہوں کہ اسی طرح جنگوں میں اور بھی حفاظ اور قرآن کے قرّاء مارے جاتے رہے تو بہت سارا قرآن دنیا سے اٹھ جائے گا! لہذا میری رائے تو یہ ہے کہ قرآن کو جمع کرا دیں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا کہ بھلا میں وہ کام کیسے کر سکتا ہوں جو رسول اللہﷺنے نہیں کیا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! قرآن کے جمع کرنے ہی میں بھلائی ہے، برخلاف اس کے چھوڑنے میں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عمر برابر اسی بات کو مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کے لیے میرا سینہ کھول دیا، اور میں نے قرآن کے جمع کرنے کے بارے میں سوچنے لگا۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا اور عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس خاموش بیٹھے رہے، پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے زید سے کہا بے شک اے زید! دیکھو! تم ایک جوان عقل مند آدمی ہو اور ہم تمہارے اوپر جھوٹ اور بھولنے کی تہمت بھی نہیں لگا رہے ہیں، تم نبیﷺ کے زمانے میں بھی قرآن لکھا کرتے تھے، لہذا قرآن کو تلاش کر کے اکٹھا کرو۔ اور پورا قرآن نبی ﷺ کے زمانے میں ہی لکھا گیا تھا لیکن ایک ہی جگہ پر نہ تھا، اور نہ تو مرتب انداز میں سورتیں لکھی تھیں۔ زید بن ثابت کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! اگر مجھے کسی پہاڑ کو منتقل کرنے کے لیے کہتے تو مجھے اتنی پریشانی نہ ہوتی جتنا قرآن جمع کرنے کے منصوبے میں معلوم ہوئی! پھر زید نے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ دونوں ایسا کام کرتے ہو جو نبیﷺ نے نہیں کیا؟ توابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم! یہ اچھا کام ہے۔ زید نے کہا پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ مجھ سے برابر کہتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے میرا بھی سینہ کھول دیا اور میں نے مصلحت عامہ کے مدِّ نظر قرآن کو جمع کرنے کے بارے میں سوچا۔ چنانچہ زید اٹھے اور انہوں نے قرآن کی تلاش شروع کر دی، تاکہ اسے کپڑوں کے ٹکڑوں، اور مونڈھوں کی ہڈیوں، سے جمع کر سکیں۔ ’’الأكتاف‘‘ کتف کی جمع ہے، اس سے مراد وہ چوڑی ہڈی ہے جو جانور کے مونڈھے پر ہوتی ہے اس کے سوکھ جانے کے بعد اس پر لکھا جاتا ہے، اور کھجور کی ڈالیوں پر، وہ اس طور پر کہ اس کے جھاگ کو اتار دیتے اور اس کی چوڑائی والے حصہ میں لکھتے، اور ان لوگوں کے سینوں سے جنہوں نے قرآن کو اکٹھا کیا اور اسے نبی ﷺ کی زندگی میں یاد کیا تھا، جیسے أبی بن کعب اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما، تو اس طرح سے جو آیتیں کپڑوں کے ٹکڑوں، اور مونڈھوں وغیرہ پر ملتیں وہ تاکید پر تاکید ہوتیں، یہاں تک کہ سورہ توبہ کی یہ دو آیتیں خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے سوا کہیں اور لکھی ہوئی نہ ملیں: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم﴾(دونوں آیتوں کی اخیر تک) ”تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں، پھر اگر رو گردانی کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے“۔ (سورہ توبہ: 128)، پھر یہ مصحف جس میں قرآن جمع کیا گیا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی زندگی تک ان کے پاس رہا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی تک ان کے پاس رہا، ان کی وفات کے بعد اُمُّ المؤ منین حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کےپاس تھا۔
قرآن کے جمع کرنے سے متعلق رافضہ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے اس کام پر اعتراض کیا کہ انہوں نے ایسا کام کیا، جسے رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا تھا، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس کام پر انکار کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اس کی کتاب کے ساتھ خیرخواہی ہے، اور آپﷺ نے اس بات کی اجازت دی ہے، صحیح مسلم میں ابو سعید کی روایت کردہ حدیث میں ہے ’’قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ نہ لکھو‘‘ اور ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کا مقصد اس چیز کا اکٹھا اور جمع کرنا تھا، جو پہلے ہی سے لکھا ہوا تھا، لہذا رافضہ کا اعتراض ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ پر درست نہیں۔

Explanation

Zayd ibn Thābit al-Ansāri (may Allah be pleased with him) reported that Abu Bakr As-Siddīq summoned him during his caliphate, after the Companions of the Prophet had fought against Musaylimah the Liar in the battle of Yamāmah in 11 AH. The battle was sparked due to Musaylimah's claim to be a prophet and also due to the apostasy of many of the Arabs. Many of the Prophet's Companions were killed in those battles. Zayd went to Abu Bakr and found ‘Umar sitting with him. Abu Bakr told Zayd that ‘Umar had come to him and told him that many of the Companions had been killed in their battles with Musaylimah and he feared that more of the Qur'an memorizers would be killed in subsequent battles with the disbelievers, and consequently parts of the Qur'an could be lost. So ‘Umar had proposed that the Qur'an should be collected. Abu Bakr wondered how he could do something that the Messenger of Allah had not done. ‘Umar replied that collecting the Qur'an would be better than leaving it scattered around. Abu Bakr said that ‘Umar had talked to him about collecting the Qur'an until he had felt comfortable with the idea and decided to collect it. Zayd ibn Thābit commented that ‘Umar was sitting there, silently. Then Abu Bakr said to Zayd that he was an intelligent young man whom they could not accuse of lying or forgetfulness. As Zayd had written the revelation for the Messenger of Allah, they suggested that he should track down the Qur'an and collect it. The whole Qur'an had been written down during the Prophet's life, but it had not been collected in one place nor were the Sūrahs arranged in their current order. Zayd commented that moving a mountain would have been easier for him than collecting the Qur'an. He wondered how Abu Bakr and ‘Umar could do something that the Prophet had not done. Abu Bakr said that this would be good, and he continued to talk to Zayd about the benefits of collecting the Qur'an until he felt comfortable with the proposal and decided to collect the Qur'an for the public interest. Zayd collected the Qur'an written on parchments, shoulder blades, and palm stalks, and also from the hearts of men who had fully memorized it, such as Ubai ibn Ka‘b and Mu‘ādh ibn Jabal. In this way, the text that was written on parchment and shoulder blades would be further evidence to what had been memorized by the Companions. He only found the last two verses of Sūrat At-Tawbah written down by Khuzaymah ibn Thābit al-Ansāri. These are the verses that state: {There has certainly come to you a Messenger from among yourselves. Grievous to him is what you suffer, [he is] concerned over you…} until the end of the two verses [Sūrat At-Tawbah: 128-129]. The sheets on which the Qur'an were collected remained with Abu Bakr until he died, then with ‘Umar until he died, and then with Hafsah, ‘Umar’s daughter (may Allah be pleased with them all). The Shias objected to Abu Bakr's collection of the Qur'an, because he had done something that the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) had not done. Abu Bakr did not do anything objectionable, as he embarked on this project for the sake of Allah, His Messenger, and His Book. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) had allowed this as in the Hadīth reported by Abu Sa‘īd: ''Do not write anything from me other than the Qur'an.'' [Muslim]. So Abu Bakr did nothing other than collecting the Qur'an that was already written. Thus, the Shias' objection to Abu Bakr's collection is baseless.

Topics موضوعات