ظہر کا وقت سورج کے ڈھل جانے سے آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جانے تک (یعنی) عصر کا وقت داخل ہونے تک رہتا…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10596Sahih Muslim (HadeethEnc 10596)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
عبد اللہ بن عمرو سے کی حدیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ اوقات نماز بیان کر رہی ہے: اولاً: ظہر کا وقت: اس کا نام ظہر اس لیے رکھا گیا ہے؛ کیوں کہ اس کی ادائیگی دوپہر میں کی جاتی ہے۔ یہی راجح ہے۔ یہاں وقت سے مراد اول وقت ہے۔ ”جب سورج ڈھل جائے“ یعنی جب سورج آسمان کے درمیان سے مغرب کی طرف چلنا شروع کردے۔ اس کا اندازہ سایۂ اصلی کے مشرق کی سمت بڑھنے سے لگایا جا سکتا ہے۔ آدمی کا سایہ اس کی لمبائی جیسا ہو جائے یعنی اس کے قریب، عصر کے وقت تک۔
ثانیاً: آپ ﷺ نے فرمایا: عصر کا وقت آدمی کا سایہ اس کے برابر ہونے سے شروع ہوتا ہے اور اس وقت تک بلا کراہت جاری رہتا ہے، جب تک سورج زرد نہ ہو جائے۔ ”ما لم تّصْفَرَّ الشمس“ اس سے مراد وقت اختیار ہے جیسا کہ صحیحین میں رسول اللہ ﷺ سے وارد ہے کہ ”جس نے سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی، اس نے عصر کو پا لیا“۔ یعنی ادائیگی کے اعتبار سے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ”عصر کا وقت اس وقت تک ہے، جب تک سورج غروب نہیں ہوتا“۔ مسلم کی روایت ہے کہ ”جب تک سورج زرد نہیں ہوتا اور اس کا پہلا سینگ نہیں گر جاتا“۔
ثالثاً: مغرب کی نماز کا وقت؛ لفظِ صلاۃ کا ذکر کچھ جگہوں پر کیا گیا ہے اور کچھ جگہوں پر اسے حذف کر دیا گیا ہے؛ تاکہ دونوں اطلاقات کا جواز ملحوظ رکھا جائے۔ جب تک شفق ختم نہیں ہوجاتا۔ شفق سے مراد و ہ سرخی ہے، جو سورج کے غروب ہونے کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مغرب کا وقت شفق کے غائب ہونے تک دراز رہتا ہے۔ اگر شفق کا بعض حصہ غائب ہو گیا، تو عشا کا وقت شروع نہیں ہو گا، جیسا کہ سورج کا بعض حصہ غروب ہو جانے پر مغرب کا وقت شروع نہیں ہوتا۔
رابعاً: نماز عشاء کا وقت؛ بالاجماع عشاء کا وقت غروب شفق سے لے کر نصف رات تک رہتا ہے۔ یہاں بھی مراد وقت اختیار ہے۔ ورنہ وقت جواز طلوع فجر تک رہتا ہے۔
خامسا: صبح کی نماز کا وقت فجر کے طلوع ہونے پر شروع ہوتا ہے یعنی طلوع صبح صادق سے۔ جب تک سورج کا کچھ حصہ طلوع نہ ہو جائے۔ جب سورج طلوع ہونا شروع ہو جائے، تو نمازکی ادائیگی سے رک جاؤ۔ اس لیے کہ سورج شیطان کے سر کی دو جانبوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ یہ اس لیے کہا گیا ہے کہ شیطان طلوع آفتاب کے وقت کے انتظار میں رہتا ہے اور سورج کے سامنے، اس کی پرستش کرنے والوں کی طرف رخ کرکے سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے۔ تاکہ سورج کے لیے سجدہ گزاروں کے سجدے اس کی عبادت میں تبدیل ہو جائیں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے امت کو اس وقت نماز پڑھنے سے منع فرمادیا؛ تاکہ اللہ کے عبادت گزاروں کی نماز، شیطان کے عبادت گزاروں کی عبادت سے الگ وقت میں ہو۔
Explanation
This Hadīth tells us about the prayer times: First: The time for the Zhuhr prayer starts when the sun passes the highest part of the sky and starts to descend towards the west. That is when we can see the shadow of a straight object increase and fall towards the east, and one's shadow becomes almost equal in length to his height until the time for the ‘Asr prayer comes. Second: The time for the ‘Asr starts from the point when one's shadow is equal to his height in length and lasts until the sun turns yellow. This indicates the preferred time for offering the ‘Asr. However, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Whoever prays one Rak‘ah of the ‘Asr before the sun sets has prayed it in time.'' [Al-Bukhāri and Muslim]
Also: "The time for the ‘Asr lasts until the sun sets." A narration of Muslim reads: "…until the sun turns yellow and its first horn has fallen." Third: The time for the Maghrib lasts so long as the dusk has not gone. Dusk is the soft glowing light from the sky when the sun is below the horizon. So if the twilight has partially gone, then the ‘Ishā' time has not yet come. Similarly, if the sun has set partially, then the Maghrib time has not yet come. Fourth: The time for the ‘Ishā' starts when the twilight has completely faded until midnight, which is the preferred time for offering the ‘Ishā'. However, the time of necessity extends until pre-dawn. Fifth: The time for the Fajr starts from pre-dawn (true dawn) and lasts so long as the sun has not yet started to rise. When the sun starts to rise, one must not pray, because it rises between the two horns of the devil. The devil waits for the time when the sun starts to rise and stands up to be facing those who prostrate for the sun. Their prostration for the sun turns into worship of the devil. Hence, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) prohibited the Muslims to pray at that time to differentiate between those who worship Allah and those who worship the devil.