جس نے اذان سنتے وقت یہ دعا پڑھی: “اللَّهُم ربِّ هذه الدَّعْوَة التَّامة، والصَّلاة القَائمة، آتِ محمدا…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: رواه البخاري
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10635Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 10635)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بیان فرما رہےہیں کہ جس نے مؤذن کی اذان سننے کے بعد یہ دعا پڑھی:
(اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ) یعنی اذان کے یہ کامل الفاظ، جن کے ذریعے اللہ کی عبادت اور نماز کی جانب بلایا جاتا ہے اور کھڑی ہونے والی نماز، جو ہمیشہ پڑھی جاتی رہے گی، کے رب! "آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ" محمدﷺ کو جنت کا وہ اونچا مقام عطا فرما، جو آپ کے علاوہ اور کسی کو زیب نہیں دیتا اور ديگر مخلوقات کے مراتب سے اعلى مرتبہ عطا فرما۔ "وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ" اور انہیں مقام محمود عطا کر، جس کا تو نے ان سے یہ فرما کر وعدہ کیا ہے: "عسى أن يبعثك ربك مقامًا محمودًا" (عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا)۔
جس نے یہ دعا پڑھی، وہ قیامت کے دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی شفاعت کا حق دار ہو گا اور اس کے لیے آپ کی شفاعت واجب ہو جائے گی۔
حدیث کے فوائد
- مؤذن کا جواب دینے کے بعد اس دعا کی مشروعیت۔ جس نے اذان نہیں سنی، وہ یہ دعا نہیں پڑھے گا۔
- تمام مخلوقات میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضلیت کہ آپ کو وسیلہ، فضیلت، مقام محمود اور شفاعت عظمی حاصل ہوگی۔
- رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا ثبوت۔ کیوں کہ آپ کے الفاظ ہيں : "قیامت کے دن میری شفاعت اس کے لیے واجب ہوجائے گی"۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سفارش آپ کی امت کے اہل کبائر کے لیے ہوگی کہ ان کو جہنم میں داخل نہ کیا جائے، جو جہنم میں داخل ہو چکے ہوں گے ان کو وہاں سے نکال دیا جائے، بلا حساب وکتاب جنت میں داخل کر دیا جائے یا جنت میں داخل ہونے والے لوگوں کے درجات بلند کر دیے جائيں۔
- طیبی کہتے ہیں: اذان کے کلمات شروع سے "محمدًا رسول الله" تک "الدعوة التامة" ہیں، "حی علی الصلاۃ" اور "حی علی الفلاح" "الصلاۃ القائمة" ہیں۔ یہاں ایک احتمال اس بات کا ہے کہ "الصلاۃ" سے مراد دعا ہو اور "القائمۃ" سے مراد دائمی۔ "قام على الشيء" کے معنی ہيں کسی چیز کی پابندی کرنا۔ اس طرح "الصلاة القائمة" دعوت تامہ کا بیان (وضاحت) ہے۔ جب کہ دوسرا احتمال اس بات کا ہے کہ "الصلاة" س مراد نماز ہو، جس کی دعوت اس وقت دی جا رہی ہے۔ یہی زیادہ ظاہر بھی ہے۔
- مہلب کہتے ہیں: اس حدیث میں نمازوں کے اوقات میں دعا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ کیوں کہ ان اوقات میں دعا قبول ہونے کی امید رہتی ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarifies that whoever says the following upon hearing the muezzin completing the Adhān (call to prayer):
(O Allah, Lord of this perfect call), these are the words of the Adhān that are used to call people to worship Allah and to perform the prayer; (perfect) complete, i.e., the call of Tawhīd (monotheism) and the divine message. (And the prayer that is to be established) constantly and that is about to be offered. (Grant) and give (Muhammad Al-Wasīlah) and the highest position in Paradise that is not to be granted to anyone other than him (may Allah's peace and blessings be upon him), (and Al-Fadīlah), i.e., the degree of superiority over others' degrees, (and resurrect him to) and give him (the Praiseworthy Station) that brings praise to the one standing therein, which is a reference to the Grand Intercession on the Day of Judgment (that You have promised him) by saying: {So your Lord may raise you to a praised status} to be yours.
Whoever says this supplication becomes worthy of the Prophet's intercession that will be definitely granted to him.