تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ اس کپڑے کا کوئی بھی حصہ اس کے کندھوں پر نہ ہو۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10639Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 10639)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھنے والے کو اس بات سے منع کیا ہے کہ اپنے دونوں کندھوں کو ننگا چھوڑ دے اور ان پر کچھ نہ رکھے۔ کیوں کہ دونوں کندھے اگرچہ جسم کے ان حصوں میں داخل نہیں ہیں، جن کو چھپائے رکھنا واجب ہے، لیکن ان کو ڈھانپ لینے کے بعد ستر عورت بہتر طریقے سے ہو جاتا ہے اور یہ اللہ کے سامنے نماز میں کھڑے ہوتے وقت اللہ کی تعظیم کے زیادہ قریب ہے۔
حدیث کے فوائد
- ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے، جب کپڑا بدن کے اتنے حصے کو چھپالے، جتنے حصے کو چھپانا ضروری ہے۔
- دو کپڑے پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے، جب ایک کپڑا جسم کے اوپری حصے کو اور دوسرا حصہ نچلے حصے کو ڈھانپ لے۔
- مصلی کے لیے اچھی حالت وہیئت میں نماز کے لیے جانا مستحب ہے۔
- نماز میں دونوں کندھوں یا ان میں سے کسی ایک کو ڈھانپنا واجب ہے، جب کہ انسان اس پر قادر ہو۔ کچھ لوگوں کے مطابق یہ نہی تنزیہی ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم کی محتاجی کا حال کہ ان میں سے بہتوں کے پاس دو کپڑے بھی نہیں ہوا کرتے تھے۔
- امام نووی اس حدیث کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہيں: اس کے پیچھے حکمت یہ ہے کہ جب آدمی کے پاس ایک ہی چادر ہو اور اسے لنگی کے طور پر استعمال کر لے اور کندھے پر کچھ نہ ہو، تو جسم کے ان حصوں کے کھل جانے کا امکان باقی رہ جاتا ہے، جن کا چھپانا لازمی ہے۔ جب کہ کندھے پر کچھ ہونے کی صورت میں اس کا امکان نہیں رہتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ کندھے پر کچھ نہ ہونے کی صورت میں ایسا ہو سکتا ہے کہ نیچے پہنے ہوئے چادر کو ایک ہاتھ یا دونوں ہاتھوں سے پکڑے رہنے کی ضرورت پڑ جائے، جس سے ایک تو نماز سے توجہ ہٹتی ہے اور دوسرا دائیں ہاتھ کو بائيں ہاتھ پر سینے کے نیچے رکھنے اور جہاں جہاں دونوں ہاتھوں کو اٹھانا مشروع ہے، وہاں وہاں اٹھانے کی سنت فوت ہوتی ہے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ کندھے پر کچھ نہ رکھنا دراصل جسم کے اوپری حصے اور زینت کی جگہ کو ڈھانپنے سے گریز کرنا ہے، جب کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے کہا ہے: { خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ } [سورہ اعراف : 31] یعنی ہر نماز کے وقت اپنے پاس دست یاب زینت اختیار کر لیا کرو۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) prohibited the one praying in a single garment from leaving his shoulders, i.e., what is between the shoulder and the neck, uncovered without putting anything on them to cover them. This is because although the shoulders are not ‘Awrah (must-cover body parts), yet covering them guarantees better concealment of the ‘Awrah, besides being closer to showing reverence and glorification to Allah Almighty while standing before Him in prayer.