نبی ﷺ نزولِ قرآن کے وقت بہت سختی محسوس فرمایا کرتے تھے اور اپنے ہونٹوں کو ہلاتے تھے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اس سے مراد ہے ”قرآن آپ ﷺ کے دل میں جمع دینا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہےں، ﴿فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ ”پھر جب ہم پڑھ چکیں تو اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو“ (القیامۃ: 18)
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: (اس کا مطلب یہ ہے) کہ آپ اس کو خاموشی کے ساتھ سنتے رہیں۔ پھر یقیناً یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ اس کو پڑھیں (یعنی اس کو محفوظ کر سکیں)۔ چنانچہ اس کے بعد جب رسول الله ﷺ کے پاس جبرائیل علیہ السلام آتے تو آپ ﷺ اسے (توجہ سے) سنتے۔ جب وہ چلے جاتے تو نبی ﷺ اس (وحی) کو اسی طرح پڑھتے جس طرح جبرائیل علیہ السلام نے اسے پڑھایا ہوتا تھا۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10843Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 10843)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ابن عباس رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نزولِ وحی کے وقت بہت زیادہ سختی اور بے چینی محسوس کرتے تھے۔ جبرائیل علیہ السلام کے وحی مکمل کرنے سے پہلے ہی آپ ﷺ جو کچھ ان سے سنتے اسے اپنے ہونٹوں کو ہلا کر پڑھنا شروع کر دیتے اس اندیشے کے پیش نظر کہ کہیں یہ نہ ہو کر آپ ﷺ کے یاد کر لینے سے پہلے ہی جبرائیل علیہ السلام چلے جائیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے شاگرد سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے سامنے بیان کیا کہ نبی ﷺ کیسے اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو اس حالت میں دیکھا تھا اور اس کو سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے بھی اپنے شاگردوں کے سامنے بیان کیا۔
اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿لا تُحَرِّكْ به لسانَك لِتَعْجَلَ به إنَّ علينا جَمْعَه وقُرآنَه﴾ یعنی قرآن کو جلدی جلدی لینے کی غرض سے اپنی زبان کو نہ ہلاؤ۔ اسے جمع کرنا اور تمہارے سینے میں بٹھا دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ یعنی جب جبرائیل پڑھ کر فارغ ہو جائیں تو (اس کے پیچھے پیچھے پڑھو) اور خاموشی کے ساتھ سنو۔ پھر تمہارا بعینہ اسی طرح پڑھانا ہماری ذمہ داری ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس جب بھی جبرائیل علیہ السلام تشریف لاتے تو آپ ﷺ خاموشی سے سنتے اور جب وہ چلے جاتے تو نبی ﷺ اس وحی کو ویسے ہی پڑھتے جیسے جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو پڑھایا ہوتا۔
Explanation
Ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) says that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) used to experience hardship and intense stress while the revelation was being sent down upon him. He used to move his lips with what he received from Jibrīl before Jibrīl had finished the revelation, fearing that he would not be able to memorize it before Jibrīl left. Ibn ‘Abbās described to his student Sa‘īd ibn Jubayr how the Prophet moved his lips. This indicates that Ibn ‘Abbās had seen the Prophet in that state. Sa‘īd, likewise, described it to his students. Allah, the Exalted, sent down a verse commanding the Prophet not to move his tongue with the Qur'an to hasten in receiving it, for Allah ensured that the Qur'an would be collected in the Prophet's heart. Then, Allah, the Almighty, revealed another verse telling the Prophet to listen attentively when Jibrīl recited the Qur'an to him, for Allah ensured that the Prophet would recite it just as Jibrīl had recited it. Later on, when Jibrīl came to the Prophet with revelation, the Prophet would listen to him, and when Jibrīl had departed, the Prophet would read the Qur'an as Jibrīl taught him to read it.