صحیح مسلم
Sahih Muslim

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، آپ کو پکڑ کر…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
10862Sahih صحیح
عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتَاه جبريل صلى الله عليه وسلم وهو يَلْعَب مع الغِلمان، فأخَذَه فصَرَعه، فشقَّ عن قلبه، فاستَخْرَج القلب، فاستخرج منه عَلَقة، فقال: هذا حَظُّ الشيطان منك، ثم غَسَله في طَسْت مِن ذَهَب بماء زمزم، ثم لَأَمَهُ، ثم أعاده في مكانه، وجاء الغِلْمان يَسْعَون إلى أُمِّه -يعني ظِئْرِه- فقالوا: إن محمدًا قد قُتِل، فاستَقْبَلُوه وهو مُنْتَقِعُ اللَّوْن، قال أنس: «وقد كنتُ أَرَى أثر ذلك المِخيط في صدره».
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، آپ کو پکڑ کر لٹا دیا، پھر آپ کے سینے کو چیرا، دل کو نکالا اور اس سے جمے ہوئے خون کا ایک ٹکڑا نکالنے کے بعد کہا : یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ تھا۔ پھر سونے کی طشت میں دل کو رکھ کر زمزم کے پانی سے دھویا، پھر اسے ملا دیا اور پھر اسے اس کی جگہ پر دوبارہ رکھ دیا۔ ادھر باقی بچے آپ کی ماں یعنی دائی کے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور بولے کہ محمد کو مار دیا گیا۔ تو لوگوں نےآپ کو اس حالت میں پایا کہ آپ کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں آپ کے سینے پر اس سلائی کے نشان دیکھا کرتا تھا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Anas ibn Mālik (may Allah be pleased with him) reported: Jibrīl came to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) while he was playing with his playmates. He took hold of him, laid him on the ground, split open his chest, took the heart out and then extracted a blood clot out of it and said: "That was the devil's share in you." Then he washed it with Zamzam water in a golden basin and then joined the wounded parts together after he restored the heart to its place. The boys came running to his mother, i.e. his wet nurse, and said: "Muhammad has been killed." They rushed to him and found his color was changed. Anas said: "I used to see the scar of this stitching on his chest."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10862

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم چھوٹے بچے تھے اور دیگر بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، پکڑ کر چت لٹایا، دل کو چیرا، اس سے جمے ہوئے خون کا ایک ٹکڑا نکالا جو کہ تمام برائیوں اور گناہوں کا سرچشمہ تھا اور فرمایا : یہ اگر آپ کے ساتھ رہ جاتا، تو آپ کے اندر شیطان کا ایک حصہ ہوتا۔ پھر دل کو سونے کی ایک طشت میں رکھ کر زمزم کے پانی سے دھویا، پھر اس کے اس حصے کو جہاں چیرا لگایا گیا تھا، ملا کر ٹھیک کیا اور اسے اس کی جگہ میں دوبارہ رکھ دیا۔ ادھر آپ کے ساتھ کھیلنے والے بچے تیزی سے بھاگتے ہوئے دائی حلیمہ کے پاس آئے اور بتایا کہ محمد کو مار دیا گیا ہے۔ چنانچہ لوگ بھاگم بھاگ پہنچے، تو دیکھا کہ آپ کا رنگ بدلا ہوا ہے۔
اس حدیث کے راوی سیدنا انس رضی اللہ عنہ، جو اس حادثے کے وقت موجود نہیں تھے، لیکن یقینی طور پر اس کی اطلاع ان کو تواتر اور شہرت کے ساتھ یا کم سے کم کسی ثقہ سے ملی ہوگی، کہتے ہیں کہ میں آپ کے سینے پر سلائی کے نشان دیکھا کرتا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ کا یہ قول اس بات کے دیگر متعدد دلائل میں سے ایک دلیل ہے کہ سینے کو چیرنے کا واقعہ معنوی نہیں بلکہ حسی تھا۔
یہ اور اس طرح کی دیگر حدیثوں کو ہو بہو تسلیم کرنا چاہیے اور ان کی تاویل کرتے ہوئے انھیں مجازی معنی پر محمول نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ در اصل یہ سچے اور سچے تسلیم کیے گئے نبی کے ذریعے قدرت والے اللہ کی قدرت کا بیان ہے۔

Explanation

Jibrīl came to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) when he was a little child playing with his mates. He put him on his back on the ground, slit his heart and took out of it a clot of thick blood, which is the source of evils and sins in the heart. Jibrīl said that this would have been the devil's share in the Prophet if such a clot of blood had remained in him. Then, he washed his heart with Zamzam water in a golden basin. Then he fixed the split, put the heart back in its place, and stitched the wound. Children who were playing with the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) rushed to his wet nurse Halīmah and told her that Muhammad was killed. They went to his place and found him pale.
Anas, who narrated this Hadīth, did not witness the incident himself. Yet, he must have heard it from a trustworthy Companion or through continuous chain of narrators. Anas said that he used to see the scar of stitching visible on the Prophet's chest. This is another proof that splitting the chest was physical, not spiritual.
One should take this Hadīth and similar ones at face value without interpreting them metaphorically. There is no need for a metaphorical interpretation, for the Hadīth is a report from the truthful Messenger about the power of Allah, the Omnipotent.

Topics موضوعات