رسول اللہ ﷺ نے گھڑ سواروں کا ایک دستہ نجد کی طرف روانہ کیا۔ وہ قبیلہ بنو حنیفہ کے سرداروں میں سے ایک شخص…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10888Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 10888)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی ﷺ نے محمد بن مسلمہ کی نگرانی میں دس محرم سن چھ ہجری کو گھوڑ سواروں کا ایک دستہ نجد کی طرف روانہ کیا تھا تاکہ وہ بنو بکر کے قبائل جس میں بنو حنیفہ کے لوگ بھی ہیں ان سے قتال کریں۔ چناں چہ انہوں نے ان پر حملہ کیا اور شکست دی اور ثمامہ بن اثال کو قید کر لیا اور انہیں مدینہ لے کر آئے اور مسجد نبوی کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ نبی ﷺ نے ان کے پاس جا کر کہا: ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟ یعنی تمہارا میرے بارے میں کیا خیال ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیا کرنے والا ہوں؟ انہوں نے کہا: میرا خیال بہت اچھا ہے یعنی میرا یہی گمان ہے اور میں یہی امید رکھتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ جو بھی برتاؤ کریں گے بہتر کریں گے۔
ثمامہ کا یہ کہنا: ’’اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا’’ یعنی اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایسے لوگ موجود ہیں جو میرے قتل کا بدلہ لیں گے کیوں کہ میں اپنی قوم کا سردار ہوں۔ اور کہا گیا ہے کہ اس کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ: اگر آپ مجھے قتل کریں گے توآپ کا یہ اقدام انصاف پر مبنی ہوگا اور آپ گویا میرے ساتھ وہی سلوک کر رہے ہیں جس کا میں مستحق ہوں کیوں کہ ایک خون میں مَیں مطلوب ہوں، اس لئے اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو میرا قتل کیا جانا قصاص کے طور پر ہوگا اور آپ ہرگز میرے اوپر ظلم کرنے والے نہیں ہوں گے۔
اور رہا ثمامہ کا یہ کہنا: ’’اور اگر آپ مجھ پر احسان کرتے ہیں توایک ایسے شخص پر احسان کریں گے جو احسان فراموش نہیں بلکہ احسان کا قدر دان ہے‘‘ یعنی اگر آپ میری معافی کے ذریعہ میرے ساتھ احسان کریں تو معاف کر دینا بھلے لوگوں کے اخلاق میں سے ہے اور میرے یہاں آپ کے اس احسان کو فراموش نہیں کیا جائے گا اور آپ ایک ایسے شخص کے ساتھ احسان کریں گےجو احسان کا قدر دان ہے، احسان فراموش نہیں۔
اور ثمامہ رضی اللہ عنہ کے اس قول میں کہ: ’’اور اگر آپ مال چاہتے ہیں‘‘ یعنی اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ مال دے کر میں اپنی جان کا فدیہ ادا کروں تو جس قدر چاہتے ہیں کہیے آپ کو طلب کے مطابق دیا جائے گا۔
اس گفتگو کے بعد نبی ﷺ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ ’’اور جب اگلا دن ہوا تو آپ نے ان سے فرمایا: ثمامہ! تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: وہی جو میں نے آپ سے کہہ دیا تھا‘‘ یعنی آپ نے ان کو ان کے حال پر کھمبے سے بندھا ہوا چھوڑ دیا یہاں تک کہ جب دوسرا دن ہوا تو پھر آپ ﷺ نے ان پر پہلا سوال دہرایا تو ثمامہ نے پھر پہلے دن والا جواب ہو بہو دہرایا، آپ نے ان کو تیسرے دن تک کے لیے ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ تیسرے دن آپ نے ان پر سوال دہرایا تو ثمامہ نے ہو بہو وہی جواب دہرایا۔ تیسرے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ ’’ثمامہ کو آزاد کردو‘‘ یعنی ان کے بند ڈھیلے کر دو۔
’’ثمامہ فوراً مسجد کے قریب کھجوروں کے ایک باغ میں چلے گئے‘‘ یعنی مسجد کے قریب پانی کے پاس چلے گئے۔ ’’وہاں انہوں نے غسل کیا اور پھر مسجد میں داخل ہوئے اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں‘‘ یعنی انہوں نےاپنے اسلام لانے کا اعلان کر دیا اور شہادتین کو پڑھا ،اور یہ صحیحین کی روایت ہے کہ ثمامہ رضی اللہ عنہ نے خود سے غسل کیا نبی ﷺ کے کہنے سے نہیں۔
اس کے بعد ثمامہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ پر نازل شدہ دین حنیف اور آپ کے محبوب شہر مدینہ نبویہ کے تعلق سے اپنے احساسات کو بیان کیا۔ ثمامہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ یہ تھے: میرے نزدیک روئے زمین پر کوئی چہرہ آپ کے چہرہ سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا لیکن اسلام لانے کے بعد اب آپ کا چہرہ میرے لیے تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہو گیا ہے بایں طور کہ نفرت اور ناپسندیدگی ایسی محبت میں تبدیل ہو گئی جس کی برابری کوئی دوسری محبت نہیں کر سکتی۔
’’اللہ کی قسم! روئے زمین پر کوئی دین مجھے آپ ﷺ کے دین سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا اور اب آپ ﷺ کا دین مجھے سارے دینوں سے زیادہ پیارا اور محبوب ہے‘‘ اور یہی ہے ایمان کی تاثیر جب اس کی چاشنی دل کو چھو لیتی ہے۔
’’اللہ کی قسم! کوئی شہر آپ ﷺ کے شہر سے زیادہ برا دکھائی نہیں دیتا تھا اور اب آپ ﷺ کا شہر مجھے سب شہروں سے زیادہ محبوب دکھائی دیتا ہے‘‘ اس لئے کہ آپ کی محبت نے مجھے آپ کے شہر سے مزید محبت کرنے پر ابھارا ہے۔
پھر انہوں نے کہا: ’’اور آپ کے گھڑ سواروں نے جب مجھے گرفتارکیا اس وقت میں عمرہ کا ارادہ کر چکا تھا، تواب آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ یعنی کیا آپ مجھے عمرہ کر لینے کی اجازت دیں گے؟ ’’تو آپ ﷺ نے انہیں بشارت دی‘‘ یعنی ان کے تمام گناہوں کے بخشے جانے اور دنیا وآخرت کی بھلائی کی بشارت دی۔ ’’اور حکم دیا کہ وہ عمرہ کر لیں،جب وہ مکہ پہنچے تو کسی کہنے والے نے کہا تو بدمذہب ہوگیا ہے‘‘ یعنی ایک دین سے نکل کر دوسرا دین اپنا لیا۔ انہوں نے کہا: ’’ہرگز نہیں اللہ کی قسم بلکہ میں تو محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاکر مسلمان ہوچکا ہوں‘‘ یعنی میں جھوٹے دین کو چھوڑ کر دین حق کو قبول کر چکا ہوں۔ ’’اللہ کی قسم! اس کے بعد یمامہ سے تمہارے پاس گندم کا ایک دانہ بھی نہیں آیا کرے گا یہاں تک کہ اس کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ اجازت دے دیں‘‘ یعنی یہاں تک کہ رسول ﷺ تم لوگوں تک اس کے بھیجنے کے بارے میں اجازت دے دیں۔ ثمامہ رضی اللہ عنہ یمامہ لوٹ گئے اور وہ مکہ کا دیہی علاقہ تھا۔ وہاں پہونچ کر ان کو گندم روک دیا یہاں تک کہ قریش کے لوگ فاقہ کرنے پر مجبور ہوئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو قرابت داری کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ آپ (ﷺ) ثمامہ سے سفارش کر دیں، تو آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) sent horsemen to Najd, led by Muhammad ibn Maslamah, on 10 Muharram, 6 A.H., to fight the tribes of Banu Bakr, which included Banu Hanīfah. They raided them, defeated them, and took Thumāmah as a captive and brought him to Madīnah. They fastened him to one of the pillars of the Prophet's mosque. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) asked him: "What do you think?" In other words, what do you think I will do to you? He said: "I have a good thought." This means that: I only think about you in a good way, or I do not expect anything from you but good, regardless of what you will do to me. Thumāmah's statement, "If you kill, you will kill a person with blood," means that If you kill me, there are people who will take revenge for my blood because I am the leader of my tribe. Another interpretation is: If you kill me, this will be fair, and you have done to me what I deserve, because I have shed blood; Thus, if you kill me, you will be killing me in retribution, and this will not be an act of injustice at all. "If you do a favor, you will do a favor to a grateful person," means: If you do a favor to me by forgiving me, indeed forgiveness is an attribute of the noble people, and your favor will not go unpaid for, for you will be doing a favor to a noble person who recognizes and appreciates favors and never forgets them. "If you want money" means if you want me to ransom myself with money, then ask me whatever wealth you want, and you will be given what you ask for. After this dialogue, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) left him until the following day, on which he asked him again, about what he thought, and he replied, "what I have told you before…" This means that the Prophet left him fastened to the pillar until the next day, and then asked Thumāmah the same question to which he gave the same answer. Then, he left him until the third day, on which the Prophet asked the same question and Thumāmah gave the same answer. Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) gave his instructions to release Thumāmah, i.e. to untie him and set him free. Thumāmah then went to a place of water near the mosque, took a bath, and then entered the mosque and said: "I bear witness that there is no god but Allah…," i.e. he embraced Islam and uttered the two testimonies of faith. This is the version narrated by Al-Bukhāri and Muslim, and It relates that Thumāmah took a bath on his own without being requested by the Prophet to do so. Thereafter, Thumāmah expressed his feelings towards the Prophet, towards his great religion, and towards his beloved city, Madīnah. He said that there was no face which he disliked more than that of the Prophet. Yet, after he embraced Islam, the Prophet's face became the most beloved face to him, as hatred turned into intense and unmatched love. "By Allah, there was no religion more hateful to me than yours; but now it is the most beloved religion to me." Indeed, this is what happens when the sweetness of faith touches the heart. "By Allah, there was no city more hateful to me than yours; but now it is the most beloved city to me." This is because his love for the Prophet has led him to love the Prophet's city. Then, he said that Muslims captured him when he was intending to perform ‘Umrah, and asked the Prophet's permission to perform ‘Umrah. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) gave him glad tidings, i.e. gave him the good news that all his sins were forgiven and that he would obtain the good of both this world and the next. The Prophet then ordered him to go and perform ‘Umrah. When he came to Mecca, someone said to him, "Have you apostatized?" i.e. have deserted your religion and converted to another one. Thumāmah replied, "No, by Allah, but I have embraced Islam along with Muhammad the Messenger of Allah." In other words, in fact I have deserted a false religion and converted to the true one. "Behold, by Allah, no single grain of wheat shall come to you from Yamāmah unless the Messenger of Allah gives his permission for it," i.e. until the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) gives me the permission to send it to you. Then, he left to Yamāmah, the countryside of Mecca, and stopped sending them wheat until the people of Quraysh got exhausted. They wrote to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) asking him by kinship ties to intercede with Thumāmah on their behalf, which he did.