رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں خرید وفروخت کررہاہو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمہاری…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- جامع ترمذیJami' at-TirmidhiOriginal wording: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10891Jami' at-Tirmidhi (HadeethEnc 10891)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم دیکھو کسی لین دین کرنے والے“ یعنی خرید وفروخت کرنے والے کو ’’في المسجد‘‘ (مسجد میں)۔ یہاں مفعول کو عموم پر دلالت کرنے کے لیے حذف کیا گیا ہے جس میں ہر قسم کی خرید وفروخت شامل ہے۔اگر کسی کو اس حالت میں پایا جائے تو آپ ﷺ نے اس کو ڈانٹ پلانے کی طرف اس طرح رہنمائی فرمائی کہ ان میں سے ہر ایک (بائع ومشتری) کو علانیہ طور پر زبان سے یہ کہا جائے ”لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ“ تاکہ یہ بددعا ہوجائے۔ جس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ تیری تجارت کو فائدہ مند اور نفع آور نہ کرے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف اشارہ ہے: ﴿فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ﴾ ”ان کی تجارت نے انہیں کوئی فائدہ نہیں دیا“۔ (سورہ بقرہ: 16) اگر ان دونوں کو اکٹھا کہہ دیا جائے کہ اللہ تمہاری تجارت میں برکت نہ ڈالے تو مقصود حاصل ہو جائے گا۔
اس زجر و توبیخ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسجد آخرت کا بازار ہے اور جس نے اس کے برعکس کام کیا گویاکہ اس نے اس کو دنیا کا بازار بنا دیا اس لیے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اُس کے لیے خسارے اور محرومی کی بددعا کی جائے تاکہ یہ مسجد کا برعکس (خلافِ معتاد) استعمال کرنے والے کے لیے سزا اور ڈراوے کا سامان بن جائے، نیز دوسروں کو اس کام سے متنفر بھی کیا جاسکے، بایں ہمہ وہ مسجد کے تقدس کا خیال کرتے ہوئے ایسا کرنے (مسجد میں خرید وفروخت) کو ناپسند کرنے لگے۔
Explanation
The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "When you see someone buying or selling in the mosque." Not naming the item that is being sold implies the coverage of this verdict to any purchasable item.
The Messenger ordered his followers to supplicate against those who buy and sell in the mosque out loud. He ordered them to say: "May Allah not make your sale profitable." This verdict has a connection to this verse: {So their commerce was profitless} [Sūrat al-Baqarah: 16]. It is also allowed to supplicate against both the buyer and the seller.
The reason why purchasing inside the mosque is not allowed is because the mosque is the marketplace of the Hereafter. The one who treats it as a marketplace of this world and not of the Hereafter makes himself liable to be supplicated against with loss and deprivation, which is the very opposite of his purpose, so that people would restrain from doing it. This action is undesirable inside the mosque out of veneration for it.