اپنی نماز کو اچھی طرح نہ پڑھنے والے کی حديث جس کو رفاعہ رضی اللہ عنہ نے روايت کيا ہے۔
Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وفي رواية: «إنها لا تَتِمُّ صلاة أَحَدِكُم حتى يُسْبِغَ الوُضُوء كما أمره الله عز وجل، فيغسل وجهه ويديه إلى المرفقين، ويمسح برأسه ورجليه إلى الكعبين، ثم يكبر الله عز وجل ويحمده، ثم يقرأ من القرآن ما أَذِن له فيه وتَيَسَّر، ثم يُكَبِّرَ فيَسْجُد فَيُمَكِّن وَجْهَه -وربما قال: جَبْهَتَه من الأرض- حتى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُه وَتَسْتَرْخِيَ، ثم يكبر فَيَسْتَوِي قاعدا على مَقْعَدَه ويقيم صُلْبَهُ، فوصف الصلاة هكذا أربع ركعات تَفْرَغ، لا تَتِمُّ صلاة أحدكم حتى يفعل ذلك.
وفي رواية: «فتوضأ كما أمرك الله جل وعز، ثم تَشَهَّدْ، فأقم ثم كبر، فإن كان معك قرآن فاقرأ به، وإلا فاحمد الله وَكَبِّرْهُ وَهَلِّلْهُ».
ايک دوسری روايت میں ہے کہ: تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک پوری نہیں ہوتی جب تک کہ وہ اسی طرح مکمل وضو نہ کرے جس طرح اللہ عز وجل نے اس کو کرنے کا حکم دیا ہے، چنانچہ وہ اپنا منہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے، اپنے سر کا مسح کرے اور دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھوئے۔ اس کے بعد اللہ عز و جل کی بڑائی بیان کرے اور اس کی حمد و ثناکرے۔ پھر قرآن مجید میں سے پڑھے جس کی اسے نماز میں پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے اور جو آسان ہے۔ پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کرے تو اپنا منہ اطمینان سے زمین پر رکھ دے۔(ہمام کہتے ہیں کہ) بسا اوقات راوی نے کہا: اپنی پیشانی زمین پر رکھ دے، یہاں تک کہ اس کےجوڑ آرام پائیں اور ڈھیلے پڑ جائیں، پھر تکبیر کہے اور اپنی سرین پر بالکل سیدھا ہو کر بیٹھ جائے اور پیٹھ کو سیدھا رکھے، پھر نماز کی چاروں رکعتوں کی کیفیت فارغ ہونے تک اسی طرح بیان کی (پھر فرمایا): ”تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ وہ ایسا نہ کرے“۔
ايک دوسری روايت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: 'وضو کر جس طرح اللہ تعالیٰ نے تجھ کو حکم دیا ہے، پھر اذان دے اور اقامت کہہ، پھر تکبير تحریمہ کہہ، اور اگر قرآن مجید میں سے کچھ ياد ہو تو اسے پڑھ، نہیں تو پھر صرف اللہ کی حمد و ثنا اور تکبیر و تہلیل بیان کر یعنی الحمد للہ، اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ پڑھ۔
In another narration, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: “The prayer of any one of you is not complete until he performs ablution perfectly, as Allah, the Almighty, has ordered. He should wash his face and then his hands up to the elbows, wipe his head and (wash) his feet up to the ankles. Then he should say the Takbīr and praise Allah, the Almighty. He should then recite the Qur'an as much as it is convenient for him.” He said: “He then says the Takbīr and prostrates himself, so his face or forehead is at rest on the ground and his joints return to their places and are loosened. Then he should say the Takbīr and sit to the right on his hips and keep his back erect.” He described the nature of prayer in this way by offering four Rak‘ahs until he finished it. Then he said: “The prayer of any of you is not complete unless he does this.”
In another version, he said: “Perform ablution as Allah, the Almighty, ordered you to, then utter the two testimonies of faith, announce the Iqāmah, and say the Takbīr. If you have memorized some parts of the Qur’an, recite them, otherwise, busy yourself praising and exalting Allah.”
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi DawudOriginal wording: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10901Sunan Abi Dawud (HadeethEnc 10901)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
يہ حديث مسيئ صلوٰۃ یعنی اپنی نماز کو بگاڑ کر پڑھنے والے کی حديث سے معروف ومشہور ہے اور يہ نماز کے طریقے کو اس کے ارکان وواجبات اور شروط کے ساتھ بیان کرنے کے باب میں شارحین کا اساس اور بنیادی مستند ہے۔ کیوں کہ اس میں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم نے نماز کے ان افعال کو پوری طرح واضح اور بيان فرما ديا ہے جن کو انجام دینا ضروری ہے اور اس حديث ميں نماز سے متعلق جس فعل کو چھوڑ ديا گيا ہے وہ واجب نہیں سمجھا جاتا ہے۔اس حديث کا مفہوم يہ ہے کہ: نبی ﷺ ایک مرتبہ مسجد میں تشريف لے گئے، تو ایک صحابی جن کا نام خلاد بن رافع رضی اللہ عنہ تھا، مسجد ميں آئے اورایسی نماز پڑھی جس ميں مکمل طور پر تمام اقوال وافعال کی ادائيگی نہيں کی
پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو سلام کیا۔ آپ ﷺ نےسلام کا جواب ديا پھر ان سے فرمایا کہ لوٹ جاؤ اور نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے۔
چنانچہ وہ لوٹ گئےاور دوبارہ نماز اسی طرح پڑھی جس طرح پہلے پڑھی تھی، پھر نبی ﷺ کے پاس آئے۔ تو آپ ﷺ نےان سے پھر کہا کہ لوٹ جاؤ اور نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے، اسی طرح تین مرتبہ ہوا.
تو صحابی رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمايا ہے، میں نے جس طرح نماز پڑھی ہے اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا۔لہٰذا آپ مجھے سکھلا دیجئے۔لہٰذا جب ان کے اندر سيکھنے کا شوق و جذبہ پيدا ہوگيا اور وہ صحيح طريقۂ نماز جاننے کے لیے مشتاق اور بار بار لوٹانے جانے کے بعد طریقۂ نماز کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے تو آپ ﷺ نے ان سےفرمایا (جس کا مفہوم ہے کہ):
جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیرۂ تحريمہ کہو، پھر سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد جتنا قرآن تم آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ اطمینان سے رکوع کرلو، پھر رکوع سے اٹھو یہاں تک کہ اطمينان کے ساتھ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرلو، پھرسجدے سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔ اور سوائے تکبيرۂ تحريمہ کے اِن اقوال و افعال کی ادائيگی ایسے ہی پوری نماز میں کرو، کيوں کہ تکبيرۂ تحريمہ پہلی رکعت کے علاوہ کسی اور رکعت ميں نہيں کہی جاتی ہے۔
اسی حديث کی دوسری روايات میں نماز کی بعض شرطوں جيسے قبلہ رخ ہونے اور وضو کرنے کا ذکر ہے۔
Explanation
This Hadīth is known as “The Hadīth of the one harming his prayer”. Commentators quote this Hadīth when describing the obligatory acts and conditions of the prayer. In this Hadīth, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) taught perfectly the components of the prayer that must be present. Anything that is not mentioned in this Hadīth is not considered obligatory.
In general, this Hadīth relates an incident where a Companion called Khallad ibn Rāfi‘ entered the mosque after the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and performed prayer without perfecting its actions and words. When the man had finished his prayer, he came to greet the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) with the greeting of peace. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) replied to him and said: “Go back and pray again, for you have not prayed.” The man returned and prayed in the same way he had done before. He then went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) who told him to go back and pray again, for he had not prayed. On the third time, the man said: “I swear by the One who sent you with the Truth, I cannot pray better than this! Please, teach me how to do it.”
As the man had a thirst for knowledge and was still prepared to gain it after going back and forth, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said to him: “When you want to pray, say the Takbīr of Ihrām (to initiate the prayer) and recite whatever is convenient to you from the Qur’an after Sūrat al-Fātihah. Then bow until you are at ease in bowing and then rise until you are standing up straight. Then prostrate until you are at ease in prostration and then sit up until you are at ease in sitting. Then do that throughout the whole prayer, except for the Takbīr of Ihrām, which is only said in the first Rak‘ah.
The other versions of the Hadīth listed a couple of other conditions for prayer, such as facing the Qibla (prayer direction) and performing ablution.