صحیح مسلم
Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ نماز کی ابتدا تکبیر تحریمہ اور اَلْحَمْد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
10906Sahih صحیح
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنين رَضيَ اللهُ عنها قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ، وَالقِرَاءَةِ، بِـ الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا، وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ، وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ اليُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ اليُمْنَى، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ، وَيَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ.
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: رسول اللہ ﷺ نماز کی ابتدا تکبیر تحریمہ اور اَلْحَمْد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کی قرأت سے کرتے تھے اور جب رکوع کرتے تو سر کو نہ اونچا رکھتے نہ نیچا بلکہ برابر سیدھا رکھتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک سیدھے کھڑے نہ ہوجاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک سیدھے نہ بیٹھ جاتے اور ہر دو رکعتوں میں التحیات پڑھتے اور بائیں پاؤں کو بچھاتے اور اپنے دائیں پاؤں کو کھڑا کرتے اور شیطان کی طرح بیٹھنے سے منع فرماتے اور اس سے بھی منع فرماتے کہ درندوں کی طرح آدمی اپنے دونوں ہاتھ زمین پر بچھا دے اور آپ ﷺ سلام کے ساتھ نماز ختم کرتے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ā’ishah, the Mother of the Believers (may Allah be pleased with her), reported: The Messenger of Allah (ﷺ) used to start the prayer with Takbīr and then recite: {All praise be to Allah, the Lord of the worlds}. When he bowed, he neither raised his head nor lowered it, but kept it level. When he raised his head from bowing, he would not prostrate until he had fully stood upright. When he raised his head from prostration, he would not prostrate (again) until he had sat upright. After each two Rak‘ahs (units of prayer), he would recite the Tahiyyah (greeting). He would spread his left foot out and erect his right foot. He would forbid sitting in the manner of the devil and resting the forearms on the ground, as a wild beast (i.e., lion) does. He would conclude the prayer with Taslīm (a salutation of peace that ends the prayer).
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: رواه مسلم
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10906

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کی نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ اپنی نماز کا آغاز تکبیرِ تحریمہ سے کرتے اور ”اللہ اکبر“ کہتے، اور قراءت سورۃ الفاتحہ سے شروع فرماتے: ’’سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے…‘‘۔ جب آپ قیام کے بعد رکوع کرتے تو رکوع کے دوران نہ اپنا سر بلند کرتے اور نہ ہی اسے پست کرتے، بلکہ اسے برابر اور سیدھا رکھتے، جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سجدہ کرنے سے پہلے سیدھے کھڑے ہو جاتے، اور جب پہلے سجدے سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ اس وقت تک نہ کرتے جب تک اطمینان سے بیٹھ نہ جاتے۔ آپ ﷺ ہر دو رکعتوں کے بعد تشہد کے لیے بیٹھتے اور ’’التحيات لله والصلوات والطيبات…‘‘ پڑھتے تھے، اور جب آپ ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان یا تشہد کے لیے بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھ جاتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے۔ نمازی کے لیے اپنی نماز میں شیطان کی طرح بیٹھنا منع ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ وہ اپنے دونوں پاؤں زمین پر بچھا لے اور اپنی ایڑیوں پر بیٹھے، یا اپنی سرین کو زمین سے چپکا لے، اپنی پنڈلیوں کو کھڑا رکھے اور اپنے ہاتھوں کو زمین پر کتے کی طرح بچھا دے، یا یہ کہ نمازی سجدے میں اپنے بازوؤں کو درندوں کی طرح پھیلا دے۔ آپ ﷺ اپنی نماز کا اختتام ایک بار دائیں اور دوسری بار بائیں طرف ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ“ کہہ کر سلام پھیرنے کے ساتھ فرماتے تھے۔

حدیث کے فوائد

  • نبی ﷺ کی نماز کے طریقہ کا کچھ بیان۔
  • تکبیر تحریمہ کا واجب ہونا، جو نماز کے اقوال وافعال کے منافی ہر قول و فعل کو حرام کر دیتی ہے، اور یہ کہ نماز میں داخل ہونے کے لیے اس کے علاوہ کوئی دوسرا صیغہ اس کا قائم مقام نہیں ہو سکتا۔
  • سورۂ فاتحہ پڑھنے کا وجوب۔
  • رکوع کا وجوب، اور اس میں (پشت کو) برابر رکھنا افضل ہے، نہ بلند اور نہ پست۔
  • رکوع سے سر اٹھانا، اور اس کے بعد سیدھا کھڑا ہونا واجب ہے۔
  • سجدے کا وجوب، اس سے سر اٹھانے کا وجوب، اور اس کے بعد اعتدال سے بیٹھنا۔
  • نماز میں بیٹھنے کی حالت میں نمازی کا بائیں پیر کو بچھا کر بیٹھنا اور دائیں پیر کو کھڑا کرنا مشروع ہے، البتہ مغرب اور عشاء جیسی دو تشہد والی نمازوں کے آخری تشہد میں تورک کرنا مشروع ہے، اس سلسلے میں دوسری احادیث بھی وارد ہوئی ہیں۔
  • بیٹھنے کے انداز میں شیطان کی مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت، اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اپنی ایڑیوں پر بیٹھے اور اپنے دونوں پاؤں زمین پر بچھا لے، یا انہیں کھڑا کر کے ان کے درمیان زمین پر بیٹھ جائے۔
  • درندوں کی طرح بازو پھیلانے میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ نمازی اپنے دونوں بازوؤں کو زمین پر پھیلا دے، کیونکہ یہ سستی اور کمزوری کی دلیل ہے۔
  • نماز کے افعال میں شیطان اور جانوروں کی مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت۔
  • نماز کو سلام پھیر کر ختم کرنا واجب ہے، اور یہ نمازیوں، حاضرین اور غائب صالحین کے لیے تمام شرور اور نقائص سے سلامتی کی دعا ہے۔
  • نماز میں اطمینان کا وجوب۔

Explanation

The Mother of the Believers ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) mentioned the prayer of the Prophet (ﷺ) that he would begin his prayer with the opening Takbīr, saying: "Allāhu Akbar (Allah is the Greatest)," and he would begin the recitation with Surat al-Fātihah: {All praise be to Allah, the Lord of the worlds…}. And when he bowed after standing, he would neither raise nor lower his head while bowing, but kept it level and straight. When he raised his head from bowing, he would stand upright before going into prostration. And when he raised his head from the first prostration, he would not go into the second until he was completely settled in the sitting position. He would sit after every two Rak‘ahs for the Tashahhud (sitting of testimony) and say: "At-Tahiyyātu lillāhi was-salawātu wat-tayyibāt…" (Greetings, prayers, and good things are due to Allah…). When sitting between the two prostrations or for the Tashahhud, he would spread his left foot and sit upon it, and erect his right foot. He forbade a person praying from sitting in prayer like the sitting of the devil—that is, by spreading his feet flat on the ground and sitting on his heels, or by placing his buttocks on the ground while erecting his legs and resting his hands on the ground like a dog does. He also forbade spreading one's forearms flat on the ground during prostration, as wild beasts do. He would conclude his prayer with Taslīm: "As-salāmu ‘alaykum wa rahmatullāh (Peace and mercy of Allah be upon you)," once to the right and once to the left.

Topics موضوعات