جب(نماز میں )بیٹھ کر دعا کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پراور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10941Sahih Muslim (HadeethEnc 10941)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
حدیث کا مفہوم: ”رسول اللہ جب بیٹھتے تو دعا کرتے“ یعنی جب تشہد کے لیے بیٹھتے۔ اس کی تائید عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ جب آپﷺ تشہد کے لیے بیٹھتے تو اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھتے۔ (مسلم)
تشہد میں یہ دعا پڑھی جاتی ہے: ”التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ“ اوراس کا نام دعا اس لیے رکھا گیا ہے کیوں کہ یہ دعا پر مشتمل ہے جیسا کہ آپ کے فرمان میں ہے ”السَلام عليك“، ”والسَلام علينا“ ہے جو کہ دعا ہے۔ اور”اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اوربایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے“ یعنی جب آپﷺ تشہد کے لیے بیٹھتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر پھیلا لیتے اوراسی طرح بایاں بائیں ران پر۔ ۔ہاتھ کو گھٹنے کے قریب یا گھٹنے پر یا ران پر رکھنے کی حکمت یہ ہے کہ فضول حرکتوں سے بچا جاسکے۔ ہاتھ کو ران پر رکھنا یہ گھٹنوں پر رکھنے کے متضاد نہیں کیوں کہ جب ہاتھ کو گھٹنوں پر رکھا جائے گا تو انگلیوں کو گھٹنوں کے ساتھ ملایا جائے گا۔
سنن نسائی میں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ بائیں ہتھیلی کو اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھتے اوراپنی دائیں کہنی کو اپنی دائیں ران پر رکھتے، اور یہ کہنا کہ اپنی دائیں کہنی کے کنارے کو اپنی دائیں ران پر رکھتے۔ جب نمازی اپنی کہنی کے کنارے کو اپنی ران پر رکھے گا تو لا محالہ انگلیوں کے کنارے گھٹنوں تک پہنچیں گے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ انگلیوں کو گھٹنوں پر یا گھٹنوں کے قریب رکھنے میں استحباب ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس کا عطف انگلیوں کو گھٹنوں پر رکھنے پر ہے“۔ یہی اس قول ”اپنے بائیں گھٹنے کو اپنی ہتھیلی میں لے لیتے“ کا معنی بھی ہے۔
”اپنے ہاتھ کو رکھتے“ میں، ہاتھ سے مراد انگلیوں کے پوروں سے لے کر کہنیوں تک کا حصہ ہے۔ حدیث کے ظاہر سے یہی معلوم ہو رہا ہے کہ یہ حالت چاہے پہلے تشہد میں ہو یادوسرے میں ہو دونوں ایک طرح ہیں۔
”اور اپنی سبابہ انگلی کے ساتھ اشارہ کیا“ ’سبابہ‘ سے مراد وہ انگلی ہے، جو انگوٹھے کے ساتھ متصل ہوتی ہے۔ اس کو سبابہ اس لیے کہا گیا ہے کہ گالی گلوچ کرتے وقت اس کے ذریعہ اشارہ کیا جاتا ہے۔ اس کا نام ’مُسَبِّحَہ‘ بھی ہے کیوں کہ اس کے ساتھ اللہ کی توحید اور اس کی پاکی بیان کی جاتی ہے اور یہ تسبیح ہے۔ سبابہ انگلی سے حالت تشہد میں اشارہ کرنا صحیح احادیث سے ثابت شدہ سنت ہے۔ اور مسنون یہی ہے کہ جب تشہد کے لیے بیٹھا جائے اس وقت سے لے کر تشہد سے فارغ ہونے تک اشارہ کیا جائے۔کیوں کہ حدیث کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ جب بیٹھتے تو دعا کرتے، دائیں ہاتھ کو اپنی دائیں ران پر رکھتے اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر اور سبابہ انگلی سے اشارہ کرتے۔ اسی طرح صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بےشک رسول اللہ ﷺ جب تشہد میں بیٹھتے تو دائیں ہاتھ کو اپنے دائیں گھٹنے پر رکھتے اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر اور ترپن (53) کی گرہ لگاتے اور سبّابہ انگلی سے اشارہ کرتے تھے۔ اسی طرح وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے سننِ ابی داؤد میں روایت ہے کہ پھر بیٹھتے، اپنے بائیں پاؤں کو زمین پر بچھا لیتے، اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی دائیں ران پر رکھتے اور اپنی دائیں کہنی کو اپنی دائیں ران پر بچھا لیتے، مٹھی بند کرلیتے اور حلقہ بنا لیتے۔ میں نے دیکھا کہ اس طرح سے کہ انگوٹھے اور درمیانی انگلی کے ساتھ حلقہ بنا لیتے اور سبابہ سے اشارہ کرتے۔
ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: یہ کام آپ ﷺ اپنے تشہد میں بیٹھنے کی ابتدا سے کرتے جیساکہ بعض دیگر روایات میں آتا ہے۔
ابن باز رحمہ اللہ اور مستقل فتوی کمیٹی (سعودی عرب) کا بھی یہی فتویٰ ہے۔
”اپنے انگوٹھے کو اپنی درمیانی انگلی پر رکھتے“ کا مطلب ہے کہ انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ بناتے اور سبابہ انگلی سے اشارہ کرتے۔
”اپنی انگلی سے اشارہ کرتے“ یعنی اپنی سبّابہ انگلی کےساتھ اشارہ کرتے۔ اس کو ہر حالت میں شروع سے ہی کھڑی کر لیتے تھے اور اس اشارہ میں حکمت یہ ہے کہ اس میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے اقوال و افعال اور اعتقاد ہر ایک میں اس کی توحید کی طرف اشارہ ہے۔
مسند امام احمد میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً یہ حدیث ثابت ہے کہ یہ شیطان کو لوہے سے بھی زیادہ سخت لگتی ہے۔
”اپنی انگلی سے اشارہ کرتے“ میں حدیث کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ انگلی کو حرکت نہیں دیتے تھے جب کہ اشارہ بغیر حرکت کے نہیں ہوتا۔
”اپنے گھٹنے کو بائیں ہتھیلی کے نیچے لیے لیتے“ کا مطلب ہے کہ آپ ﷺ اپنے گھٹنے کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں داخل کر کے اس کو مضبوطی سے تھام لیتے بایں طور کہ گھٹنا ہاتھ کا لقمہ بن جائے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ اپنا دایاں ہاتھ ،گھٹنے کو پکڑے بغیر، اس پر بچھا لیں، جیسا کہ صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ نبی کریمﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے ہاتھ کو اپنے گھٹنے پر رکھتے اور بائیں ہاتھ کو اپنے گھٹنے پر بچھا لیتے۔ اس بنا پر ہاتھوں کو تشہد کی حالت میں گھٹنوں پر رکھنے کے حوالے سے مسنون عمل دو طرح سے ثابت ہے۔ اس لیے (ان دونوں صورتوں) میں سے جس کو بھی اختیار کیا جائے گا سنت پر عمل ہوجائے گا۔جب کہ اولیٰ اور افضل یہی ہے کہ کبھی ایک طرح سے کر لیا جائے اور کبھی دوسری طرح کر لیا جائے اس طرح آپ ﷺ سے ثابت شدہ تمام طریقوں پر عمل ہو جائے گا۔
Explanation
This Hadīth describes what the Prophet used to do in his Tashahhud, which he calls a ''supplication.'' When he took that position, Ibn ‘Umar says: “The Prophet would put his left hand on his left knee” [Muslim]. The Tashahhud is to say: "Greetings, prayers, and good words be to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and the mercy and blessings of Allah. Peace be upon us and the righteous slaves of Allah…" It is called a ''supplication'', due to these two invocations: "peace be upon you" and "peace be upon us.'' When the Prophet sat for Tashahhud, he would put his right hand on his right thigh and his left hand on his left thigh. In doing so, he would prevent himself from making unnecessary movements with his hand. Putting the hand on the thigh means that the fingertips will reach the knee. In the narration from Wā'il ibn Hujr: ''The Prophet put his left palm on his left thigh and knee, and put the edge of his right elbow on his right thigh" [An-Nasā'i]. So by putting the edge of the elbow on the thigh, the tips of one's fingers will definitely reach the knee. An-Nawawi said: "Scholars are agreed that it is recommended to put the hand on the knee. Some say that the fingers should be bent over the knee to cover it.'' This position applies in both the first and the second Tashahhud. The Prophet would point with his index finger to indicate the Oneness of Allah. This is an act of the Sunnah to observe from the start to the end of the Tashahhud. ‘Abdullāh ibn ‘Umar said: "When the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) sat for the Tashahhud, he would put his left hand on his left knee and his right hand on his right knee, form a zero shape, and point with his index finger." [Muslim] Also, Wā'il ibn Hujr said: "Then the Prophet sat and put his left leg under him, put his left hand on his left thigh and the edge of his right elbow on his right thigh. Then he held two of his fingers and made a circle, and I saw him make a circle with his thumb and middle finger, and point with his index finger" [Abu Dawūd]. One points with the index finger to indicate the Oneness of Allah, Most High, thereby demonstrating the belief and words with an action. Ibn ‘Umar said: "Indeed, (the index finger) is more painful to the devil than being beaten with an iron rod." [Ahmad]. Pointing with the index finger does not necessarily mean moving it. Finally, does covering one's knees with one's palm indicate either holding the knees or not? Ibn ‘Umar said: "When the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) sat in prayer, he put his two hands on his two knees…and his left hand stretched over his knee." So these are two options that conform with the Sunnah and it is recommend to observe them alternately.