ميں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ ﷺ اپنے دائیں طرف “السلام عليكم ورحمةُ اللهِ وبركاته” کہہ کر اور بائیں طرف…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi DawudOriginal wording: رواه أبو داود
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10945Sunan Abi Dawud (HadeethEnc 10945)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب اپنی نماز سے نکلنا چاہتے تھے، تو دائيں اور بائيں سلام پھیرتے تھے۔ سلام پھیرنے کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے اپنے چہرے کو دائيں جانب پھیرتے ہوئے "السلام عليكم ورحمة الله وبركاته" کہتے اور اس کے بعد بائیں جانب پھیرتے ہوئے "السلام عليكم ورحمة الله" کہتے۔
حدیث کے فوائد
- نماز میں دو سلام ہیں اور سلام پھیرنا نماز کا ایک رکن ہے۔
- کبھی کبھی "وبركاته" بڑھا لینا مستحب ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس لفظ کا استعمال ہمیشہ نہیں کرتے تھے۔
- نماز میں دونوں سلاموں کے الفاظ کو زبان سے ادا کرنا ایک رکنِ واجب ہے۔ لیکن سلام کے الفاظ کو زبان سے ادا کرتے ہوئے منہ پھیرنا مستحب ہے۔
- "السلام عليكم ورحمة الله" منہ پھیرتے ہوئے کہنا چاہیے۔ نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔
Explanation
When the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) wanted to end his prayer, he would make Taslīm to his right and left by turning his face to the right along with saying: (May Allah's peace, mercy, and blessings be upon you), and then make Taslīm to his left by turning his face to the left along with saying: (May Allah's peace and mercy be upon you).