صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مشرکین مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا، جو انھوں نے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
11159Sahih صحیح
عن عُروة بن الزبير، قال: سألتُ عبد الله بن عمرو عن أشد ما صنع المشركون برسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال: رأيتُ عُقبة بن أبي مُعَيْط جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يصلي، فوضع رداءه في عنقه فخنقه به خنقًا شديدًا، فجاء أبو بكر حتى دفعه عنه، فقال: {أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ} [غافر: 28].
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مشرکین مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا، جو انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کی تھی، تو انھوں نے بتلایا: میں نے دیکھا کہ عقبہ بن ابی معیط آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ اس بدبخت نے اپنی چادر آپ کی گردن مبارک میں ڈالی اور اس کے ذریعے آپ ﷺ کا گلا گھونٹنے لگا۔ اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، اس بدبخت کو ہٹایا اور کہا: ﴿أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ ”کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو، جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمھارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سےکھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے؟“۔ (سورہ غافر: 28)
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Urwah ibn Az-Zubayr reported: I asked ‘Abdullāh ibn ‘Amr about the worst thing the polytheists did to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). He said: "I saw ‘Uqbah ibn Abi Mu‘ayt coming to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) while he was praying. ‘Uqbah wrapped his garment around the Prophet's neck and strangled him therewith severely. Abu Bakr came and pulled ‘Uqbah away from the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and said: '{Do you kill a man [merely] because he says: 'My Lord is Allah' while he has brought you clear proofs from your Lord?} [Sūrat Ghāfir: 28]'"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #11159

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عروہ بن زبیر بن عوام رحمہ اللہ نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ ﷺکی تکلیف واذیت کے متعلق مشرکینِ مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے بتلایا کہ انھوں نے دیکھا کہ عقبہ بن ابی معیط آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ ﷺ اس وقت حجر کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ اس بدبخت نےاپنا کپڑا یا خود نبی ﷺ کا کپڑا آپ کی گردن مبارک میں ڈال دیا اور اسے بڑی سختی کے ساتھ گھونٹا۔ اتنے میں ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور عقبہ کو نبی ﷺ سے دفع کیا۔ وہ روتے ہوئےکہہ رہے تھے: ”کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو، جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمھارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیلیں بھی لے کرآیا ہے؟“ ( سورہ غافر:۲۸)
یہ سب سے سخت تکلیف تھی، جسے عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تھا؛ جب کہ عروہ اس سے زیادہ تکلیف دہ حرکت سے با خبر تھے۔ ان کا بیان ہے کہ نبیﷺکی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انھوں نے نبی ﷺسے پوچھا کہ کیا آپ پر کوئی دن اُحد کے دن سے بھی زیادہ سخت گزرا ہے؟ آپﷺ نے اس پر فرمایا: ”تمھاری قوم (قریش) کی طرف سے میں نے کتنی ہی مصیبتیں اٹھائی ہیں، لیکن اس سارے دور میں عقبہ کا دن مجھ پر سب سے زیادہ سخت تھا۔ یہ وہ موقع تھا، جب میں نے (طائف کے سردار) کنانہ بن عبد یا لیل بن عبد کُلال کے ہاں اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔ لیکن اس نے (اسلام قبول نہیں کیا اور) میری دعوت کو رد کر دیا۔ میں وہاں سے انتہائی رنجیدہ (اور زخموں سے چور) ہو کر واپس ہوا۔ جب میں قرن الثعالب پہنچا، تب مجھے کچھ ہوش آیا۔ میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بدلی کا ایک ٹکڑا میرے اوپر سایہ کئے ہوئے ہے اور میں نے دیکھا کہ جبریل علیہ السلام اس میں موجود ہیں۔ انھوں نے مجھے آوازدی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے بارے میں آپ کی قوم کی باتیں اور ان کا جواب سن چکا ہے۔ آپ کے پاس اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے۔ آپ ان کے بارے میں جو چاہیں، حکم دے دیں۔ اس کے بعد مجھے پہاڑوں کے فرشتے نےآوازدی۔ انھوں نے مجھے سلام کیا اور کہا کہ اے محمد (ﷺ)! پھر انھوں نے بھی وہی بات کہی؛ آپ جو چاہیں (اس کا مجھے حکم فرمائیں)، اگر آپ چاہیں تو میں دونوں طرف کے پہاڑ ان پر لا کر ملا دوں، (جن سے وہ چکنا چور ہو جائیں) ایسے موقعے پر نبیﷺ نے فرمایا: ”مجھے تو اس کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسی اولاد پیدا کرے گا، جو اکیلے اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائے گی“۔ (متفق علیہ)

Explanation

‘Urwah ibn Az-Zubayr ibn al-‘Awwām (may Allah have mercy upon him) asked ‘Abdullāh ibn ‘Amr ibn al-‘Ās (may Allah be pleased with him) about the worst harm and persecution the polytheists had ever done to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). He told him that he saw ‘Uqbah ibn Abi Mu‘ayt approaching the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) while he was praying in the Hijr of the Ka‘bah. He wrapped the Prophet's neck with his garment or that of the Prophet, and squeezed it severely. Abu Bakr (may Allah be pleased with him) came and pushed him away while crying and said: "{Do you kill a man [merely] because he says: 'My Lord is Allah' while he has brought you clear proofs from your Lord?} [Sūrat Ghāfir: 28]"
This was the worst thing ‘Abdullāh (may Allah be pleased with him) had ever seen. ‘Urwah found out that there was a severer persecution as in the report he narrated from ‘Ā'ishah (may Allah be pleased with her) the Prophet's wife where she said that she asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him): "Have you ever encountered a day harder than the day of the battle of Uhud?" The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) replied: "Your people have troubled me a lot, and the worst trouble was what I experienced on the Day of ‘Aqabah when I presented myself to Ibn ‘Abd Yālīl ibn ‘Abd Kulāl and he did not respond to my call. So I departed, overwhelmed with excessive sorrow, and proceeded on, and could not recover till I found myself at Qarn Ath-Tha‘ālib where I lifted my head towards the sky to see a cloud shading me unexpectedly. I looked up and saw Jibrīl in it. He called me saying: 'Allah heard what your people had said to you, and what they had said in response to your call. He has sent the angel of the mountains to you, so that you may order him to do whatever you wish him to do to these people.' The angel of the mountains called and greeted me, and then said: 'O Muhammad! Order what you wish. If you like, I will let Al-Akhshabayn (i.e. two mountains) fall upon them.' The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: 'No but I hope that Allah will let them beget children who will worship Allah alone, and worship none besides Him.'" [Al-Bukhāri and Muslim]

Topics موضوعات