Hadith 11172
Sahih al-Bukhari صحیح بخاری

ایک دن نبی کریم ﷺ حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لے کر باہر نکلے اور ان کو لے کر منبر پر چڑھ گئے ،پھر…

11172Sahih صحیح
عن أبي بكرة رضي الله عنه قال: أخرج النبي صلى الله عليه وسلم ذات يوم الحسن، فصعد به على المنبر، فقال: «ابني هذا سيِّد، ولعلَّ اللهَ أن يُصلحَ به بين فئتين من المسلمين».
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لے کر باہر نکلے اور ان کو لے کر منبر پر چڑھ گیے، پھر فرمایا: ”میرا یہ بیٹا سید (سردار) ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Bakrah (may Allah be pleased with him) reported: 'One day the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) brought Al-Hasan and took him up the pulpit with him and said: "This son of mine is a master and hopefully Allah will reconcile by means of him two groups of Muslims."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #11172

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ایک دن رسول اللہ ﷺ حسن رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر مسجد کی طرف نکلے اور حسن رضی اللہ عنہ اس وقت چھوٹے سے بچے تھے۔ رسول اللہ ﷺ مسجد میں منبر پر چڑھے اور لوگوں کو بتایا کہ ان کا یہ بیٹا سردار، باعزت خاندانی اور شریف النسب ہے اور روئے زمین پر پائے جانے والے سب سے معزز گھرانے سے اس کا تعلق ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی ایسی دو جماعتیں جو آپس میں لڑائی جھگڑا اور قتال کر رہی ہوں گی اُن کے مابین صلح کرائے گا اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے خاص طور پر ان دو جماعتوں کو آپس میں ملا دے گا اور اس میں عام مسلمان بھی ہوں گے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حدیث رسول اللہﷺ کی نبوت کی علامات میں سے ایک علامت ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے معزز شہزادے حسن بن علی – رضی اللہ عنہما – کے بارے میں بتایا کہ وہ مسلمانوں کو ایک کلمہ پر جمع کر دیں گے اور ان کے مابین صلح کراکے دونوں جماعتوں کے نزاع کو ختم کر دیں گے۔ اور یہ معاویہ – رضی اللہ عنہ- کے حق میں خلافت سے دستبرادری کے ذریعہ ہوا، جس سے کلمہ متحد ہوگیا، اورلوگوں کا خون محفوظ رہا، اور ایسا سنہ 40، یا 41 ہجری کے سال ہوا۔

Explanation

One day the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) took Al-Hasan, when he was a little boy, to the mosque and got him up the pulpit. He told people that Al-Hasan, his grandson, was a master, i.e. of a noble origin since he belongs to the noblest house on earth. He further said that Allah, the Almighty, would reconcile by means of Al-Hasan two conflicting groups of the Muslims. The dispute would thus end and Muslims would unite.
These words of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) certainly attest to his prophet-hood. He said that this noble master Al-Hasan ibn ‘Ali (may Allah be pleased with him) would end inter-Muslim conflicts and get Muslims together in unity. This actually took place when Al-Hasan relinquished the office of the caliphate in favor of Mu‘āwiyah, thereby preventing a bloodshed and creating unity in the Year of Jamā‘ah (40 or 41 AH).

Topics موضوعات