صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

قیامت کی چھ نشانیاں شمار کر لو

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
11214Sahih صحیح
عن عوف بن مالك رضي الله عنه ، قال: أتيتُ النبي صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك وهو في قُبَّة من أَدَم، فقال: «اعدُد ستًّا بين يدي الساعة: موتي، ثم فتح بيت المقدس، ثم مُوتانٌ يأخذ فيكم كقُعَاص الغنم، ثم استفاضة المال حتى يُعطى الرجل مائة دينار فيظل ساخطا، ثم فتنة لا يبقى بيتٌ من العرب إلا دخلته، ثم هُدْنة تكون بينكم وبين بني الأصفر، فيغدرون فيأتونكم تحت ثمانين غاية، تحت كل غاية اثنا عشر ألفا».
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت چمڑے کے ایک خیمے میں تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت کی چھ نشانیاں شمار کر لو؛ میری موت، پھر بیت المقدس کی فتح، پھر ایک موت کی لہر جو تم میں ایسے پھیلے گی جیسے بکریوں میں طاعون پھیل جاتا ہے۔ پھر مال کی کثرت اس قدر ہو گی کہ ایک شخص سو دینار بھی اگر کسی کو دے گا تو اس پر بھی وہ ناراض ہی رہے گا۔ پھر ایک فتنہ ظاہر ہو گا جو عرب کے ہر گھر تک جا پہنچے گا۔ پھر صلح جو تمہارے اور بنی الاصفر (رومی عیسائیوں) کے درمیان ہو گی، لیکن وہ غداری کریں گے اور ایک عظیم لشکر کے ساتھ تم پر چڑھائی کر دیں گے جس میں اسی جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے ماتحت بارہ ہزار فوج ہو گی۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Awf ibn Mālik (may Allah be pleased with him) reported: I went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) during the battle of Tabūk, while he was sitting in a leather tent. He said: "Count six signs that indicate the approach of the Hour: my death; the conquest of Jerusalem; a plague that will afflict you (and kill you in great numbers) as the plague that afflicts sheep; the increase of money to such an extent that even if one is given one hundred dinars, he will not be satisfied; an affliction which no Arab house will escape; and a truce between you and Banu al-Asfar, who will betray you and march on you under eighty flags. Under each flag will be twelve thousand soldiers."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #11214

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

غزوہ تبوک میں عوف بن مالک نبی ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ دباغت شدہ چمڑے سے بنے ایک خیمہ میں تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں فرمایا کہ: چھ ایسی علامات کو شمار کر لو جو قیامت سے پہلے واقع ہوں گی: میری موت، پھر بیت المقدس کی فتح۔ اس علامت کا وقوع عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہوا۔ پھر ایک جان لیوا وبا آئے گی جو تم میں پھیل جائے گی اور تم اس تیزی کے ساتھ مرو گے جیسے مویشیوں میں وباء پھیلنے سے وہ مرتے ہیں۔پھر مال کی کثرت ہو جائے گی یہاں تک کہ اگر کسی شخص کو سو دینار دیے جائیں گے تو وہ ناراضگی کا اظہار کرے گا کیوں کہ اس کی نظر میں یہ بہت تھوڑی رقم ہو گی۔ کہتے ہیں کہ یہ کثرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ظاہر ہوئی جب فتوحات کی کثرت ہو گئی تھی۔ پھر اس کے بعد ایک بہت بڑا فتنہ پیدا ہو گا اور عرب کا کوئی گھر ایسا نہیں بچے گا جس میں یہ داخل نہ ہو۔ کہتے ہیں کہ اس سے مراد عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل اور اس کی وجہ سے اس کے بعد ظہور پذیر ہونے والے فتنے ہیں۔ پھر مسلمانوں اور رومیوں کے مابین صلح ہو گی تاہم وہ مسلمانوں کے ساتھ غداری کریں گے اور اسی جھنڈوں کے ساتھ مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے چڑھ آئیں گے جن میں سے ہر جھنڈے تلے بارہ ہزار جنگ جو ہوں گے اور ان کی کل تعدا نو لاکھ ساٹھ ہزار ہوگی۔

Explanation

‘Awf ibn Mālik went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) during the battle of Tabūk, while he was sitting in a leather tent. So the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Count six signs that indicate the approach of the Hour: my death, the conquest of Jerusalem." Jerusalem was conquered during the reign of ‘Umar ibn al-Khattāb. Then the Prophet spoke of a sweeping plague and increase of money. It is said there was a surplus of money during the time of ‘Uthmān because of the conquests. The Prophet further spoke of a great trial that would enter each Arab house. This was probably the assassination of ‘Uthmān and the subsequent tribulations. Then he spoke of a truce between the Muslims and the Romans. However, the Romans will betray the truce and attack the Muslims under eighty flags. Under each flag will be twelve thousand soldiers, totaling 960,000.

Topics موضوعات