صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو ، فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
11296Sahih صحیح
عن أيوب، عن أبي قلابة، عن عمرو بن سَلِمة، قال -أي أيوب-: قال لي أبو قلابة: ألا تلقاه فتسأله؟ -أي تسأل عمرو بن سلمة- قال فلقيته فسألته فقال: كنا بماء ممر الناس، وكان يمرُّ بنا الرُّكبان فنسألهم: ما للناس، ما للناس؟ ما هذا الرجل؟ فيقولون: يزعم أن الله أرسله، أوحى إليه، أو: أوحى الله بكذا، فكنتُ أحفظ ذلك الكلام، وكأنما يَقَرُّ في صدري، وكانت العرب تَلَوَّم بإسلامهم الفتح، فيقولون: اتركوه وقومه، فإنه إن ظهر عليهم فهو نبي صادق، فلما كانت وقعة أهل الفتح، بادَر كلُّ قوم بإسلامهم، وبَدَر أبي قومي بإسلامهم، فلما قدم قال: جئتكم والله من عند النبي صلى الله عليه وسلم حقا، فقال: «صَلُّوا صلاة كذا في حين كذا، وصَلُّوا صلاة كذا في حين كذا، فإذا حضرت الصلاة فليؤذِّن أحدكم، وليَؤمَّكم أكثركم قرآنا». فنظروا فلم يكن أحد أكثر قرآنا مني، لما كنت أتلقى من الرُّكبان، فقدَّموني بين أيديهم، وأنا ابن ست أو سبع سنين، وكانت علي بُرْدة، كنت إذا سجدت تَقَلَّصت عني، فقالت امرأة من الحي: ألا تُغَطُّوا عنا اسْتَ قارئكم؟ فاشتروا فقطعوا لي قميصا، فما فرحتُ بشيء فرحي بذلك القميص.
ایوب، ابوقلابہ سے اور ابوقلابہ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں؛ ایوب نے کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ نے کہا: عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ قصہ کیوں نہیں پوچھ لیتے؟ ابوقلابہ نے کہا کہ پھر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے (یہ واقعہ) پوچھا، تو انھوں نے بتایا کہ جاہلیت میں ہمارا قیام ایک چشمے پر تھا، جہاں عام راستہ تھا۔ قافلے ہمارے قریب سے گزرتے، تو ہم ان سے پوچھتے کہ لوگوں کا کیا خیال ہے؟ اس شخص کا کیا معاملہ ہے ؟ (یہ اشارہ نبی کریم ﷺ کی طرف ہوتا تھا) لوگ بتاتے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے انھیں اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور ان پر وحی نازل کیا ہے یا اللہ نے ان پر یہ آیت اتاری ہے۔ چنانچہ میں فوراً اسے یاد کر لیتا۔ ان کی باتیں میرے دل پر اثر کرتی تھیں۔ ادھر سارے عرب والے فتح مکہ پر اپنے اسلام کو موقوف کیے ہوئے تھے؛ ان کا کہنا تھا کہ اس نبی کو اور اس کی قوم (قریش) کو نمٹنے دو ، اگر وہ ان پر غالب آ گئے، تو واقعی وہ سچے نبی ہیں۔ چنانچہ جب مکہ فتح ہو گیا، تو (عرب کی) قومیں اسلام لانے میں ایک دوسرے سے سبقت کرنے لگیں۔ میرے والد نے بھی اسلام قبول کرنے کے معاملے میں اپنی قوم پر سبقت کی۔ پھر جب (مدینے) سے واپس آئے تو (لوگوں سے) کہا: اللہ کی قسم! میں ایک سچے نبی کے پاس سے آ رہا ہوں۔ انھوں نے فرمایا ہے: فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو ، فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو اور جب نماز کا وقت ہو جائے، تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور جسے سب سے زیادہ قرآن یاد ہو، وہ امامت کرے۔ لوگوں نے غور و خوض کیا، تو قبیلے میں کوئي مجھ سے زیادہ قرآن یاد کرنے والا نہیں ملا؛ کیوں کہ میں آنے جانے والے قافلوں سے سن کر قرآن مجید یاد کر لیا کرتا تھا۔ چنانچہ مجھے لوگوں نے امام بنادیا ، حالاں کہ اس وقت میری عمر چھ یا سات سال تھی۔ میرے جسم میں ایک چادر تھی۔ جب میں (اسے لپیٹ کر) سجدہ کرتا، تو چھوٹی پڑ جاتی۔ چنانچہ قبیلے کی ایک عورت نے کہا: تم اپنے قاری کی شرم گاہ تو پہلے چھپا دو۔ آخر انھوں نے کپڑا خریدا اور میرے لیے ایک قمیص بنائی۔ میں جتنا خوش اس قمیص سے ہوا، اتنا کسی اور چیز سے نہیں ہو سکا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Ayyūb reported from Abu Qilābah from ‘Amr ibn Salamah: Abu Qilābah said to me: "Will you not meet and ask him (‘Amr ibn Salamah)" I said: "I met him and asked him, so he said: ‘We were at a water place that was a thoroughfare for people. Riders would pass by us, and we would ask them: 'What are people up to? What are people up to? Who is that man?' They would say: 'He claims that Allah has sent him and revealed to him. Or Allah has revealed such and such.'' So I used to memorize that speech, as if it was instilled in my heart. Meanwhile, the Arabs (Bedouin tribes) delayed their conversion to Islam until the Conquest. So they would say: 'Leave him and his people, for indeed if he prevails over them, he is a true Prophet.' When the incident of the people of Conquest took place, every tribe rushed to embrace Islam, and my father hurried to embrace Islam before (the rest of) my tribe. When he came back, he said: 'By Allah, I have come to you from the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) for sure! He said: 'Offer this prayer at this time and that prayer at that time. When the time for a prayer is due, let one of you call the Adhān, and let the one who knows the Qur’an most lead the prayer.'' They checked and found none with more Qur’an than me, for I used to meet the riders. Therefore, they made me to lead them, when I was only six or seven years old. I had on me a garment, which would recede when I would prostrate. A lady from the tribe thus said: 'Will you not cover the bottom of your reader from us?' So they bought (a piece of cloth) and cut me an apparel. I had never been so happy with anything as I was with that apparel."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #11296

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ایوب سختیانی کہتے ہیں: مجھ سے ابوقلابہ جرمی نے کہا کہ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ قصہ کیوں نہیں پوچھ لیتے؟ ابوقلابہ کہتے ہیں کہ پھر میں ان کی خدمت میں گیا اور یہ (قصہ) دریافت کیا۔ انھوں نے کہا کہ جاہلیت میں ہمارا قیام ایک چشمہ پر تھا، جہاں عام راستہ تھا۔ قافلے ہمارے قریب سے گزرتے، تو ہم ان سے پوچھتے کہ لوگوں کا کیا خیال ہے؟ اس شخص کا کیا معاملہ ہے؟ ( یہ اشارہ نبی کریم ﷺ کی طرف ہوتا تھا) لوگ بتاتے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے انھیں اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور ان پر وحی اتاری ہے یا اللہ نے ان پر یہ وحی کی ہے۔ وہ آپ سے سنا ہوا قرآن کا کوئی حصہ سنا دیتے اور میں اسے فوراً اچھی طرح یاد کر لیتا۔ ان کی باتیں میرے دل کو لگتی تھیں۔ ادھر سارے عرب والے انتظار میں تھے۔ وہ فتح مکہ تک اسلام قبول کرنے سے گریز کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نبی کو اور اس کی قوم (قریش) کو آپس میں نمٹنے دو، اگر وہ ان پر غالب آ گئے تو واقعی وہ سچے نبی ہیں۔ چنانچہ جب مکہ فتح ہو گیا، تو ہر قوم نے اسلام لانے میں جلدی کی۔ میرے والد نے اپنی قوم میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ جب (مدینے) سے واپس آئے، تو کہا: اللہ کی قسم! میں ایک سچے نبی کے پاس سے آ رہا ہوں۔ انھوں نے فرمایا ہے:’’فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو، فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو اور جب نماز کا وقت ہو جائے، تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور امامت وہ کرے، جسے قرآن سب سے زیادہ یاد ہو‘‘۔ لوگوں نے غور و فکر کیا تو کوئی شخص قبیلے میں مجھ سے زیادہ قرآن یاد رکھنے والا نہیں ملا۔ کیوں کہ میں آنے جانے والے قافلوں سے سن کر قرآن مجید یاد کر لیا کرتا تھا۔ چنانچہ مجھے لوگوں نے امام بنادیا، حالاں کہ اس وقت میری عمر چھ یا سات سال تھی۔ میرے جسم پر ایک چادر تھی۔ جب میں (اسے لپیٹ کر) سجدہ کرتا، تو وہ چھوٹی پڑ جاتی۔ چنانچہ قبیلے کی ایک عورت نے کہا: تم اپنے قاری کی شرم گاہ تو پہلے چھپا دو۔ آخر انھوں نے کپڑا خریدا اور میرے لیے ایک قمیص بنائی۔ میں جتنا خوش اس قمیص سے ہوا، اتنا کسی اور چیز سے نہیں ہو سکا۔ اس حدیث سے نماز میں سترعورت کے شرط نہ ہونے کی دلیل نہیں لی جا سکتی؛ کیوں کہ یہ حقیقت حال کا بیان ہے۔ ممکن ہے یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہو جب انھیں ستر عورت کے حکم کا علم ہی نہ رہا ہو۔

Explanation

Ayyūb al-Sakhtiyāni reports from Abu Qilābah al-Jarmi who said: "Why do you not meet ‘Amr ibn Salamah and ask him about the Hadīths that he knows?" He said: "I met ‘Amr ibn Salamah and asked him. So ‘Amr ibn Salamah said: 'We were in a place that we would stay in, and people would pass by. When riders passed by us, we would ask them about the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and the stance of the Arabs toward him. They would say that he claims that Allah has sent him and revealed to him such and such from what they heard of the Qur’an. So I would memorize that Qur’an perfectly as if it was instilled in my heart. The Arabs delayed their conversion to Islam until after Makkah was conquered. They would say: ‘Leave him and his Quraysh folks, for if he has victory over them, then he is a true Prophet.’ So when Makkah was conquered, each tribe hastened to convert, and my father was the first member of my tribe to embrace Islam. He went to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). When he returned from him, he said: ‘By Allah, I have come to you from the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) for sure!’ He told them that the Prophet, may Allah's peace and blessings upon him, said to them: ‘Offer this prayer at this time and that prayer at that time. When the time for a prayer is due, let one of you call the Adhān, and let the one who knows the Qur’an most lead the prayer.’ They checked and found none with more Qur’an than me, for I used to meet the riders and learn the Qur’an from them. So they made me their prayer leader although I was then six or seven years old. I was wearing a short garment that would recede on my body when I would prostrate. A lady from the tribe said: ‘Will you not cover the private parts of your reciter from us?’ So they bought me an apparel. I had never been so happy with anything as I was with that apparel.'" This Hadīth does not indicate that covering one's private parts during prayer is not required, for it only tells the story of a certain incident. It is probable that this incident took place before those involved in it learned of the relevant ruling.

Topics موضوعات